ہارورڈ میڈیکل سکول کا نیا اے آئی ماڈل نایاب بیماریوں کی تشخیص میں تیزی لا سکتا ہے
جب کسی شخص کو بچپن سے کسی ایسی بیماری کا سامنا ہو جس کی وجہ نہ سمجھ آئے اور نہ ہی برسوں تک اس کی تشخیص ہو سکے تو یہ تکلیف ایک ذہنی اور جسمانی اذیت میں بدل جاتی ہے۔ ایسی نایاب جینیاتی بیماریاں جو صرف ایک چھوٹی سی جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہوتی ہیں، عام طور پر طبی ماہرین کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوتی ہیں۔ روایتی طریقوں سے ان بیماریوں کی تشخیص میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور بعض اوقات تو مریض ساری زندگی ایک واضح تشخیص کے بغیر ہی گزار دیتا ہے۔ لیکن اب سائنس نے ایک نئی راہ نکالی ہے۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ماہرین نے ایک جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل تیار کیا ہے جسے popEVE کہا جاتا ہے۔ یہ ماڈل خاص طور پر ان نایاب جینیاتی بیماریوں کی تیز اور درست تشخیص کے لیے تیار کیا گیا ہے جن کی وجہ عام طور پر ایک ہی جینیاتی تبدیلی (variant) ہوتی ہے۔
انسانی جسم کا ڈی این اے ایک طرح سے ہمارے وجود کا نقشہ ہوتا ہے۔ اس میں لاکھوں جینیاتی کوڈز موجود ہوتے ہیں جن کی ترتیب طے کرتی ہے کہ ہمارا جسم کس طرح کام کرے گا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، قدرتی طور پر یا موروثی طور پر، ڈی این اے میں کچھ چھوٹی تبدیلیاں آتی ہیں جنہیں جینیاتی ویریئنٹس (variants) کہا جاتا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر ویریئنٹس نقصان دہ نہیں ہوتے، لیکن بعض ویریئنٹس جسم میں پروٹین کی تشکیل کو متاثر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بیماری پیدا ہو سکتی ہے۔ اصل چیلنج یہ ہوتا ہے کہ ان ہزاروں ویریئنٹس میں سے یہ جانا جائے کہ کون سا ویریئنٹ بیماری کی جڑ ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں popEVE ایک زبردست مددگار ثابت ہوتا ہے۔
popEVE دراصل ایک ایسا ماڈل ہے جو مریض کے جینیاتی ڈیٹا کو لے کر ہر ویریئنٹ کو اس کے خطرے کی سطح کے لحاظ سے اسکور دیتا ہے۔ یہ اسکور بتاتا ہے کہ کوئی تبدیلی انسانی صحت کے لیے کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے بھی ایک ماڈل EVE کے نام سے تیار کیا گیا تھا جو مختلف انواع کی جینیاتی معلومات کو استعمال کر کے انسانی پروٹین پر اثر ڈالنے والے ویریئنٹس کا اندازہ لگاتا تھا۔ لیکن EVE کی ایک بڑی محدودیت یہ تھی کہ وہ مختلف جینز پر موجود ویریئنٹس کا آپس میں موازنہ نہیں کر سکتا تھا۔ popEVE نے اسی ماڈل کو بہتر بنا کر یہ صلاحیت حاصل کر لی ہے کہ وہ مختلف جینز پر موجود تبدیلیوں کا آپس میں تقابل کرے اور اس بنیاد پر تشخیص کو ممکن بنائے۔
یہ ماڈل دو بنیادی چیزوں پر انحصار کرتا ہے۔ پہلا، یہ پروٹین کے ترتیب (sequence) کو سمجھنے کے لیے ‘large language protein model’ استعمال کرتا ہے جو پروٹین بنانے والے امینو ایسڈز کی ترتیب سے سیکھتا ہے کہ کون سی ترتیب معمول کی ہے اور کون سی غیر معمولی۔ دوسرا، یہ انسانی آبادی کے جینیاتی ڈیٹا کو استعمال کرتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سی تبدیلی عام انسانوں میں پائی جاتی ہے اور کون سی نایاب ہے۔ ان دونوں ڈیٹاز کو ملا کر popEVE ایک جامع اندازہ لگا سکتا ہے کہ کوئی خاص ویریئنٹ صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے یا نہیں۔
ماہرین نے اس ماڈل کو مختلف تجربات میں آزمایا اور نتائج انتہائی حوصلہ افزا نکلے۔ Nature Genetics میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق popEVE نقصان دہ اور بے ضرر جینیاتی تبدیلیوں کے درمیان واضح فرق کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ صحت مند افراد اور مریضوں کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ماڈل یہ بھی جانچ سکتا ہے کہ کوئی جینیاتی تبدیلی بچپن میں موت کا سبب بن سکتی ہے یا جوانی میں۔ مزید یہ کہ اگر مریض کے والدین کی جینیاتی معلومات موجود نہ بھی ہوں تو popEVE یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ویریئنٹ موروثی ہے یا محض حادثاتی طور پر وجود میں آیا ہے۔
ایک بڑی تحقیقی کوشش کے دوران، ماہرین نے تقریباً 30,000 ایسے مریضوں کا جینیاتی تجزیہ کیا جنہیں شدید ترقیاتی مسائل تھے لیکن ان کی بیماری کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تھی۔ popEVE نے ان میں سے ایک تہائی مریضوں کے جینیاتی ویریئنٹس کی شناخت کر لی جو ممکنہ طور پر ان کی بیماری کا سبب تھے۔ اس ماڈل نے 123 ایسے نئے جینز کی نشاندہی کی جو پہلے کبھی کسی بیماری سے نہیں جوڑے گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 25 جینز کو بعد میں دنیا کی دیگر لیبارٹریوں میں بھی تصدیق کیا گیا کہ یہ واقعی بیماریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
popEVE کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کے مختلف مشہور طبی اور تحقیقی ادارے جیسے بوسٹن چلڈرن ہسپتال، چائلڈرن ہسپتال آف فلاڈیلفیا، اور جینومکس انگلینڈ اس ماڈل کو استعمال کر رہے ہیں۔ اسپین کے شہر بارسلونا میں موجود ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ انہوں نے اس ماڈل کے ذریعے ایسے مریضوں کی تشخیص کی جنہیں پہلے کسی بھی طریقے سے سمجھا نہیں جا سکا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ماڈل صرف تحقیقی لیبارٹریوں میں نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے۔
یہ ماڈل صرف تشخیص تک محدود نہیں بلکہ علاج کے دروازے بھی کھول رہا ہے۔ چونکہ popEVE بتا سکتا ہے کہ کون سی تبدیلی بیماری کی وجہ ہے، اس لیے ماہرین اس مخصوص تبدیلی کو ہدف بنا کر دوا تیار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ہم ہر مریض کے جینیاتی پروفائل کے مطابق ذاتی نوعیت کی دوا تیار کر سکیں گے۔ یہ علاج کی دنیا میں ایک انقلابی قدم ہو گا۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ popEVE تمام نسلی پس منظر کے لوگوں پر یکساں طور پر کارآمد ثابت ہوا ہے۔ یہ ماڈل کسی خاص نسل یا علاقے کے لوگوں پر بہتر یا بدتر کام نہیں کرتا، بلکہ ہر شخص کے ڈی این اے کو برابر اہمیت دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے قابل اعتماد تشخیص فراہم کر سکتی ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک یا قوم سے ہو۔
بہت سے ایسے افراد جو برسوں سے کسی بیماری کے شکار تھے لیکن ان کی اصل بیماری کا سراغ نہیں مل رہا تھا، اب popEVE کی مدد سے اپنی بیماری کی بنیاد جان پا رہے ہیں۔ یہ صرف ان مریضوں کے لیے امید کی کرن نہیں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے بھی سکون کا باعث بن رہا ہے۔ جب ایک خاندان یہ جان لیتا ہے کہ ان کے پیارے کو کس چیز نے متاثر کیا ہے تو وہ بہتر انداز میں دیکھ بھال اور علاج کر سکتے ہیں۔
اگر ہم مستقبل کی جانب دیکھیں تو popEVE ایک ایسا آلہ ثابت ہو سکتا ہے جو صرف بیماریوں کی شناخت میں نہیں بلکہ نئی دواؤں کی تحقیق، ذاتی نوعیت کے علاج، اور دنیا بھر میں صحت کے نظام کی بہتری میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے مزید جینیاتی ڈیٹا اس ماڈل میں شامل کیا جائے گا، یہ اور بھی مؤثر اور قابل اعتماد بنتا جائے گا۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ popEVE وہ نئی روشنی ہے جو نایاب جینیاتی بیماریوں کے اندھیروں میں امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔ ایک ایسا سائنسی انقلاب جو نہ صرف مریضوں کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ دنیا بھر کے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو بھی بیماریوں کے بارے میں مزید گہرا فہم فراہم کرتا ہے۔ یہ ماڈل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی مل کر کیسے انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں انقلاب لا سکتے ہیں۔

No Comments