-
Miraj Roonjha
- No Comments
- AI risks, AI safety, Artificial Intelligence, Global AI Governance, Technology Policy
اے آئی سیفٹی رپورٹ 2026: مصنوعی ذہانت آج کیا کر سکتی ہے اور ہمیں کس بات کا خطرہ ہے
مصنوعی ذہانت کے بارے میں گفتگو اب صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ پالیسی سازوں، اداروں، ملازمین اور عام لوگوں تک پھیل چکی ہے۔ 2026 کی بین الاقوامی اے آئی سیفٹی رپورٹ اسی بدلتی ہوئی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ آج کی عمومی نوعیت کی مصنوعی ذہانت کیا کر سکتی ہے، اس سے کون سے نئے خطرات جنم لے رہے ہیں اور ان خطرات کو کم کرنے کے لیے کیا طریقے موجود ہیں۔ اس رپورٹ پر دنیا بھر کے سو سے زائد آزاد ماہرین نے کام کیا ہے، جن میں مختلف ممالک، یورپی یونین، او ای سی ڈی اور اقوامِ متحدہ سے وابستہ ماہرین شامل ہیں۔ رپورٹ کسی خاص قانون یا پالیسی کی سفارش نہیں کرتی بلکہ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سازی کے لیے ایک سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ عمومی نوعیت کی مصنوعی ذہانت، یعنی وہ اے آئی جو ایک ہی کام کے بجائے کئی مختلف کام انجام دے سکتی ہے، گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی رفتار سے بہتر ہوئی ہے۔ آج ایسے نظام موجود ہیں جو مختلف زبانوں میں روانی سے بات کر سکتے ہیں، کمپیوٹر پروگرام لکھ سکتے ہیں، تصاویر اور ویڈیوز بنا سکتے ہیں اور حتیٰ کہ اعلیٰ سطح کے ریاضی اور سائنسی سوالات بھی حل کر سکتے ہیں۔ کچھ جدید اے آئی نظاموں نے مشکل ریاضیاتی سوالات میں ایسی کارکردگی دکھائی ہے جو عالمی مقابلوں میں اعلیٰ درجے کے طلبہ کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کام پہلے صرف ماہر انسانوں کے بس میں تھے، اب وہ بڑی حد تک مشینیں بھی انجام دے رہی ہیں۔
تاہم رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ یہ ترقی ہر جگہ ایک جیسی نہیں۔ مصنوعی ذہانت بعض پیچیدہ مسائل تو بہت اچھے طریقے سے حل کر لیتی ہے، لیکن بعض اوقات سادہ نظر آنے والے کاموں میں بھی غلطی کر جاتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی کام کئی مرحلوں پر مشتمل ہو تو اے آئی کی کارکردگی کمزور پڑ سکتی ہے۔ اسی طرح یہ کبھی کبھار ایسی معلومات بھی فراہم کر دیتی ہے جو درست نہیں ہوتیں۔ مختلف ثقافتوں اور کم استعمال ہونے والی زبانوں میں اس کی درستگی مزید کم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے ایک ناہموار یا غیر یکساں صلاحیت قرار دیتے ہیں، جس پر اندھا اعتماد نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ یہ سب کب اور کہاں ہو رہا ہے۔ اس کے مطابق مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی رفتار پچھلی بڑی ٹیکنالوجیوں، جیسے پرسنل کمپیوٹر، سے بھی تیز رہی ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں سات سو ملین سے زائد لوگ ہر ہفتے کسی نہ کسی شکل میں اے آئی استعمال کر رہے ہیں۔ بعض ممالک میں آدھی سے زیادہ آبادی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہی ہے، جبکہ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کئی حصوں میں اس کا استعمال اب بھی محدود ہے۔ اس فرق کی وجہ سے خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات دنیا میں غیر مساوی طور پر تقسیم ہوں گے۔
رپورٹ کا ایک بڑا حصہ ان خطرات پر مرکوز ہے جو مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے غلط نیت سے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔ اے آئی سے بنی تحریر، آواز اور ویڈیوز کو دھوکہ دہی، فراڈ، بلیک میلنگ اور بدنامی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کچھ واقعات میں لوگوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ اپنے کسی قریبی عزیز سے بات کر رہے ہیں، حالانکہ وہ آواز مشین نے تیار کی تھی۔ خاص طور پر جعلی اور ناپسندیدہ تصاویر اور ویڈیوز کا مسئلہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ صرف ایسے مواد کی شناخت کافی نہیں، کیونکہ بعض نقصان دہ مواد واضح لیبل کے باوجود بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
سائبر سکیورٹی کے میدان میں بھی رپورٹ تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اب سافٹ ویئر کی کمزوریاں تلاش کرنے اور نقصان دہ کوڈ لکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حملہ آوروں کے لیے ڈیجیٹل نظاموں پر حملہ کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ تاہم یہی صلاحیت دفاع کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے، یعنی انہی کمزوریوں کو پہلے سے تلاش کر کے انہیں بند کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں کہ مجموعی طور پر فائدہ حملہ آوروں کو ہو رہا ہے یا دفاع کرنے والوں کو، مگر اتنا طے ہے کہ یہ میدان مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ایک اور حساس پہلو حیاتیاتی اور کیمیائی خطرات کا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جدید اے آئی نظام لیبارٹری کے طریقہ کار سمجھا سکتے ہیں اور پیچیدہ سائنسی مسائل حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جو طبی تحقیق کے لیے فائدہ مند ہے۔ مگر یہی معلومات اگر غلط ہاتھوں میں چلی جائیں تو نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی خدشے کے باعث کچھ اے آئی کمپنیوں نے اپنی نئی مصنوعات میں اضافی حفاظتی اقدامات شامل کیے ہیں، تاکہ ان کا غلط استعمال روکا جا سکے۔
رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ خطرات صرف غلط نیت سے استعمال تک محدود نہیں بلکہ نظام کی خرابی اور غیر متوقع رویہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ مصنوعی ذہانت بعض اوقات غلط معلومات فراہم کر سکتی ہے یا ایسے مشورے دے سکتی ہے جو نقصان کا باعث بنیں۔ مسئلہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب انسان بغیر سوچے سمجھے مشین کے جواب پر بھروسہ کر لیتا ہے۔ اسے ماہرین آٹومیشن بائس کہتے ہیں، یعنی مشین کے مشورے کو بلا تحقیق درست مان لینا۔
ان تمام خدشات کے باوجود رپورٹ یہ نہیں کہتی کہ مصنوعی ذہانت کو روک دیا جائے۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ ان خطرات سے کیسے نمٹا جائے۔ رپورٹ کے مطابق اس کا کوئی ایک آسان حل نہیں۔ اس کے لیے کئی حفاظتی اقدامات کو ایک ساتھ اپنانا ہوگا، جیسے نظام کو لانچ کرنے سے پہلے جانچنا، استعمال کے دوران نگرانی کرنا، اور کسی مسئلے کی صورت میں فوری ردعمل کا انتظام رکھنا۔ ماہرین اسے کئی تہوں والی حفاظت سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں ایک حفاظتی قدم ناکام ہو جائے تو دوسرا نقصان کو روک سکے۔
آخر میں رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ صرف ٹیکنالوجی پر توجہ کافی نہیں بلکہ معاشرے کو بھی خود کو تیار کرنا ہوگا۔ عوام میں آگاہی، میڈیا کو سمجھنے کی صلاحیت، حساس فیصلوں میں انسانی نگرانی اور واضح ضابطے وہ عوامل ہیں جو مصنوعی ذہانت کے اثرات کو متوازن بنا سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر 2026 کی یہ رپورٹ ایک سادہ پیغام دیتی ہے: مصنوعی ذہانت ایک طاقتور ذریعہ ہے، جس سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے اور نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ اسے سمجھ بوجھ، ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Threads (Opens in new window) Threads
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
No Comments