انسانی ٹیم کی جگہ اے آئی ٹیم؟؟
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور ٹیکنالوجی اب ہماری زندگیوں کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ جہاں پہلے صرف ماہرین اور بڑی کمپنیاں ہی جدید ٹیکنالوجی جیسے مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھا سکتی تھیں، وہیں اب عام لوگ بھی اس انقلاب میں شامل ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر جب بات کمپیوٹر پر خودکار کوڈنگ کی ہو، یعنی ایسا نظام جو انسان کی جگہ خود سے سافٹ ویئر لکھ سکے، تو یہ ایک حیرت انگیز پیش رفت بن جاتی ہے۔ یہی کچھ حالیہ دنوں میں سامنے آیا ہے جب ماہرین نے ایسے خودکار سسٹمز تیار کیے ہیں جو کئی ہفتوں تک خود کام کر سکتے ہیں، بغیر کسی انسان کی مداخلت کیئے۔
یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا؟ اور کیا واقعی یہ سسٹمز ایک مکمل سافٹ ویئر خود بنا سکتے ہیں؟ آئیے اس دلچسپ موضوع کو آسان زبان میں سمجھتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سسٹمز، جیسے چیٹ جی پی ٹی یا دیگر کوڈنگ ایجنٹس، پہلے صرف چھوٹے موٹے کام کر سکتے تھے۔ اگر آپ ان سے کوئی مخصوص کوڈ لکھنے کو کہتے تو وہ کر دیتے، لیکن جب بات کسی بڑے پروجیکٹ کی ہو، جیسے ایک مکمل ویب براؤزر بنانا یا کسی بڑی کمپنی کا سسٹم تیار کرنا، تو وہاں یہ ٹیکنالوجی ناکافی ثابت ہوتی تھی۔
اسی کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین نے تجربات شروع کیے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ دیکھیں کیا مصنوعی ذہانت والے ایجنٹس اتنے قابل ہو سکتے ہیں کہ وہ مہینوں کا کام خود ہی چند دنوں یا ہفتوں میں مکمل کر لیں؟ اس کے لیے انہوں نے ایک نیا طریقہ اپنایا جس میں کئی ایجنٹس کو ایک ساتھ ایک ہی پروجیکٹ پر کام کرنے کا موقع دیا گیا۔
شروع میں، ان ایجنٹس کو ایک جیسا درجہ دیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ آپس میں خود ہی طے کریں کہ کون کیا کام کرے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک شیئرڈ فائل رکھی گئی جس میں ہر ایجنٹ اپنے کام کا اسٹیٹس اپڈیٹ کرتا تھا۔ مگر یہ طریقہ زیادہ کامیاب نہیں رہا۔ اکثر ایجنٹس ایک ہی کام پر قابض ہو جاتے یا ایک دوسرے کے انتظار میں وقت ضائع ہوتا۔ کچھ ایجنٹس کام مکمل کیے بغیر رک جاتے، یا دوسروں کی فائلز میں گڑبڑ کر دیتے۔
پھر ماہرین نے سیکھا کہ اگر ہر ایجنٹ کو ایک مخصوص کردار دے دیا جائے تو کام زیادہ بہتر ہو سکتا ہے۔ یوں ایک نیا نظام تیار کیا گیا جس میں “پلانرز” اور “ورکرز” شامل ہوتے ہیں۔ پلانرز وہ ایجنٹس ہوتے ہیں جو پورے پروجیکٹ کو سمجھتے ہیں، اور مختلف کاموں کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹتے ہیں۔ پھر یہ کام ورکرز کو دیے جاتے ہیں، جو صرف اپنے حصے پر فوکس کرتے ہیں اور بغیر کسی الجھن کے اسے مکمل کرتے ہیں۔
یہ طریقہ بہت کارآمد ثابت ہوا۔ پلانرز مسلسل نئی ہدایات دیتے رہتے ہیں جبکہ ورکرز بس اپنے کام کو مکمل کرتے ہیں۔ ہر کام کے بعد، ایک جج ایجنٹ فیصلہ کرتا ہے کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ اس نے کام کی رفتار بڑھا دی اور سسٹم میں الجھنوں کو کم کیا۔
اس سسٹم کی طاقت کو جانچنے کے لیے ماہرین نے ان ایجنٹس کو ایک مشکل کام دیا: ایک مکمل ویب براؤزر تیار کرنا۔ یہ وہی سافٹ ویئر ہوتا ہے جس سے آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جیسے گوگل کروم یا فائر فاکس۔ ایجنٹس نے یہ کام قریب ایک ہفتے میں مکمل کیا اور ایک لاکھ سے زیادہ لائنوں کا کوڈ خود لکھا۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر نیا ایجنٹ بھی اس کوڈ کو سمجھ کر بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام جاری رکھ سکا۔
ایک اور تجربے میں، ماہرین نے ایک موجودہ سافٹ ویئر کو ایک نئی ٹیکنالوجی پر منتقل کروایا۔ یہ عمل تین ہفتے چلا اور ہزاروں تبدیلیاں کی گئیں۔ اگرچہ ابھی بھی حتمی جائزے کی ضرورت ہے، مگر ابتدائی نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں۔
ایسے تجربات سے یہ پتہ چلا کہ یہ ایجنٹس صرف چھوٹے موٹے کام ہی نہیں بلکہ بہت بڑے اور پیچیدہ منصوبے بھی خود سے مکمل کر سکتے ہیں۔ جیسے ایک ایجنٹ نے ایک سافٹ ویئر میں ویڈیو رینڈرنگ کو 25 گنا تیز کیا، اور نئے فیچرز بھی شامل کیے۔ یہ کام عام طور پر ایک ماہر ٹیم کو کئی ہفتے یا مہینے لگ جاتے۔
یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا؟ ایک اہم بات یہ سامنے آئی کہ ہر ایجنٹ کے کردار کے لحاظ سے مختلف ماڈلز کا انتخاب کرنا بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر جو ماڈل منصوبہ بندی میں اچھا ہے، وہ ضروری نہیں کہ کوڈ لکھنے میں بھی بہترین ہو۔ لہٰذا، ماہرین نے ہر کردار کے لیے وہ ماڈل منتخب کیے جو اس کام کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے۔
ایک اور اہم سبق یہ بھی ملا کہ سادگی زیادہ مفید ہے۔ ابتدا میں ماہرین نے کئی پیچیدہ نظام متعارف کروائے، جیسے کوڈ کا جائزہ لینے والے ایجنٹس یا تنازعات سلجھانے والے ماڈیولز۔ مگر بعد میں پتہ چلا کہ جب ورکرز خود ہی تنازعات حل کر سکتے ہیں تو ایسے اضافی رولز صرف وقت ضائع کرتے ہیں۔
یعنی کبھی کبھار کم زیادہ ہوتا ہے۔ کم پیچیدگی، کم مداخلت، مگر واضح ہدایات زیادہ بہتر نتائج دیتی ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی سیکھا کہ ایجنٹس کو جو ہدایات دی جاتی ہیں، یعنی جو پرامپٹس استعمال ہوتے ہیں، ان کا انداز، زبان اور ترتیب بہت فرق ڈالتی ہے۔ صرف ماڈل یا نظام ہی نہیں بلکہ ایجنٹس سے بات کرنے کا طریقہ بھی کارکردگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مستقبل میں کیا ہوگا؟ اگرچہ موجودہ نظام بہت حد تک کارآمد ہے، مگر ابھی بھی بہتری کی گنجائش باقی ہے۔ جیسے، پلانرز کو جب ان کے دیے گئے کام مکمل ہو جائیں تو انہیں خود بخود دوبارہ ایکٹیو ہونا چاہیے تاکہ وہ اگلا قدم پلان کر سکیں۔ بعض اوقات ایجنٹس بہت دیر تک غیر ضروری طور پر چلتے رہتے ہیں، جس سے وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں۔ اس لیے ماہرین اب ایسے نظام بنانے پر کام کر رہے ہیں جو خود بخود وقتاً فوقتاً تازہ دم ہو سکیں۔ لیکن ایک بات تو واضح ہو چکی ہے کہ اگر درست نظام بنایا جائے تو سینکڑوں ایجنٹس مل کر ایک ہی وقت میں ایک ہی پروجیکٹ پر کام کر سکتے ہیں اور اسے کامیابی سے مکمل بھی کر سکتے ہیں۔ یہ بات پہلے صرف ایک تصور تھی، مگر اب حقیقت بن چکی ہے۔
ان تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج مستقبل میں بہت سے شعبوں میں انقلاب لا سکتے ہیں۔ چاہے وہ سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ ہو، تعلیم، صحت، یا دیگر کوئی صنعت، اگر خودکار ایجنٹس مہینوں کا کام ہفتوں میں مکمل کر سکتے ہیں، تو یہ وقت اور پیسہ دونوں کی بچت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان ایجنٹس کی ترقی صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں، بلکہ یہ عام انسانوں کی زندگی کو بھی متاثر کرے گی۔ آج اگر یہ ایجنٹس ماہر پروگرامرز کے لیے کام کر رہے ہیں، تو کل یہ عام صارفین کی مدد کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔
مثال کے طور پر، ایک استاد اپنی کلاس کے لیے خودکار طریقے سے تعلیمی مواد تیار کروا سکے گا، ایک چھوٹا کاروباری شخص اپنی ویب سائٹ یا ایپ بغیر کسی پروگرامنگ علم کے بنا سکے گا، یا ایک طالب علم اپنی پروجیکٹ رپورٹ ان ایجنٹس کی مدد سے بہتر انداز میں مکمل کر سکے گا۔ یہ سب کچھ بتاتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت صرف ماہرین کی چیز نہیں رہی، بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی یہ ایک روزمرہ کی حقیقت بن رہی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ خودکار کوڈنگ کے یہ نئے تجربات ہمیں ایک ایسے مستقبل کی جھلک دکھا رہے ہیں جہاں سافٹ ویئر بنانا صرف ماہرین کا کام نہیں رہے گا، بلکہ ہر وہ شخص جو کوئی خیال رکھتا ہے، اسے حقیقت میں بدل سکے گا۔ بس ایک ایجنٹ کی مدد سے، یہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں، بلکہ ایک سماجی تبدیلی ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو نئی طاقت دے سکتی ہے۔ اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی ابھی شروع ہوئی ہے، اور اس کا سفر ابھی جاری ہے۔
No Comments