-
Mairaj Roonjha
- 1 Comment
- Alibaba AI, Chinese AI models, Generative AI, Kimi AI, Moonshot AI
علی بابا کی معاونت یافتہ کمپنی’Moonshot‘نے چار ماہ میں دوسری اے آئی اپڈیٹ جاری کر دی
چین میں مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دوڑ اب ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ بیجنگ میں قائم معروف اسٹارٹ اپ کمپنی “مون شاٹ” نے صرف چار ماہ کے اندر اپنی دوسری مصنوعی ذہانت اپڈیٹ متعارف کر کے دنیا بھر میں ٹیکنالوجی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ نیا ماڈل جسے کمپنی نے kimi K2 تھنکنگ کا نام دیا ہے۔ جدید ترین فیچرز اور خاص طور پر ’ایجنٹک‘ صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں آیا ہے۔ یہی صلاحیت ماڈل کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ صارف کی ضرورت کو بغیر تفصیلی ہدایات کے سمجھ کر خود ہی فیصلہ سازی کر سکے۔
Kimi K2 تھنکنگ ماڈل، Moonshot کے اسی سال جولائی میں جاری کردہ K2 ماڈل پر مبنی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈل چیٹ جی پی ٹی سے کہیں زیادہ طاقتور اور بااختیار ہے۔ اس نئے ماڈل کو تربیت دینے پر 4.6 ملین امریکی ڈالر کی لاگت آئی ہے، جو کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک محتاط، مگر مؤثر سرمایہ کاری سمجھی جا رہی ہے۔ مون شاٹ کے مطابق، یہ ماڈل 200 سے 300 خودکار ٹولز کا خود انتخاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یوں صارف کی جانب سے دی جانے والی باریک باریک ہدایات کی ضرورت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔
یہاں یہ نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ چین میں اب مصنوعی ذہانت کا شعبہ نجی و سرکاری سطح پر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ مون شاٹ کمپنی کو ای-کامرس کی دیوہیکل کمپنی علی بابا کی معاونت حاصل ہے، جو کہ چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ علی بابا جیسی بڑی کمپنیوں کی جانب سے اس شعبے میں سرمایہ کاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ چین نے نہ صرف مصنوعی ذہانت میں مہارت حاصل کرنی شروع کر دی ہے بلکہ وہ اسے عالمی سطح پر امریکی اجارہ داری کے مقابلے میں ایک متبادل کے طور پر بھی سامنے لا رہا ہے۔
اسی حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کی معروف کمپنی ایئر بی این بی نے حالیہ دنوں میں چینی مصنوعی ذہانت ماڈلز کو ایک قابلِ عمل اور سستا متبادل قرار دیا ہے۔ اس قسم کے بیانات اور رجحانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چین کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت ماڈلز اب مغربی دنیا میں بھی تسلیم کیے جا رہے ہیں۔
اگرچہ امریکہ نے چینی کمپنیوں کے لیے اعلیٰ معیار کے چِپس اور ہارڈویئر تک رسائی محدود کر دی ہے، مگر اس کے باوجود چینی اسٹارٹ اپس اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت میدان میں موجود ہیں۔ ایک اور چینی کمپنی ڈیپ سیک نے حال ہی میں اپنا V3 ماڈل جاری کیا ہے، جسے تربیت دینے پر صرف 5.6 ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ ڈیپ سیک کا ماڈل اوپن سورس ہے اور اس کی خدمات چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں کافی سستی ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اوپن اے آئی جیسے ادارے اربوں ڈالر خرچ کر کے ماڈلز تیار کر رہے ہیں، جبکہ چینی کمپنیاں نسبتاً کم بجٹ میں کارآمد متبادل پیش کر رہی ہیں۔
ڈیپ سیک نے حالیہ مہینے میں ایک نیا ماڈل بھی جاری کیا ہے، جس میں بصری اشاروں (visual cues) کی مدد سے بڑی مقدار میں معلومات کو ایک ساتھ سمجھنے اور اس پر فوری ردِعمل ظاہر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ ماڈل اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ محض ٹیکسٹ یا زبانی ہدایات تک محدود نہیں بلکہ تصاویر اور بصری ڈیٹا سے سیکھ کر بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔ یہ امر اسے خاص طور پر ایسے شعبوں میں مؤثر بناتا ہے جہاں فوری فیصلہ سازی ضروری ہو۔
اسی تناظر میں این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے بھی حالیہ دنوں میں امریکہ کو خبردار کیا کہ چین کے بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت صلاحیتوں کے مقابلے میں امریکہ کو اپنی رفتار تیز کرنی ہو گی۔ چین کی کمپنیاں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں اور انہیں عالمی سطح پر مسابقت میں شامل کیے بغیر اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
اگرچہ کِمی K2 تھنکنگ ماڈل کی تمام تفصیلات آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہیں، مگر کمپنی کے دعوے، کم لاگت اور تیز رفتار ترقی اسے دنیا بھر کے مصنوعی ذہانت ماہرین کی نظروں میں اہم بنا رہے ہیں۔ اس ماڈل کے فیچرز، جیسے خودکار ٹول سلیکشن اور ایجنٹک ذہانت، اسے موجودہ مارکیٹ میں دیگر ماڈلز سے ممتاز کرتے ہیں۔
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ چینی ماڈلز کا یہ رجحان یعنی کم لاگت میں مؤثر اور معیاری مصنوعی ذہانت دنیا کے دیگر ملکوں کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت کی دوڑ صرف ٹیکنالوجی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اقتصادی حکمت عملی پر بھی منحصر ہو چکی ہے۔ ایک طرف امریکی ماڈلز ہیں جو بھاری بجٹ اور مہنگے سبسکرپشن ماڈلز کے ساتھ آ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف چینی ماڈلز ہیں جو اوپن سورس اور کم قیمت ہونے کے باوجود اپنی کارکردگی میں کم نہیں۔
یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ عالمی کمپنیاں اپنے کاروبار میں چینی مصنوعی ذہانت ماڈلز کو شامل کر رہی ہیں تاکہ کم لاگت اور زیادہ کارکردگی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ چینی ماڈلز کا یہ نیا انداز اور عالمی سطح پر ان کی بڑھتی ہوئی قبولیت مصنوعی ذہانت کی صنعت کا توازن تبدیل کر سکتی ہے۔
کِمی K2 تھنکنگ نہ صرف ایک ٹیکنالوجیکل پیش رفت ہے بلکہ ایک معاشی ماڈل بھی ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ کم وسائل میں بھی اعلیٰ معیار کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ آنے والے وقت میں اس ماڈل کی کامیابی یہ طے کرے گی کہ چین مصنوعی ذہانت کی عالمی منڈی میں کس حد تک جگہ بنا سکتا ہے۔
Rizwan Memon
السلام علیکم
میری سر قیصر رونجھا صاحب سے درخواست ہے کہ چائنیز ٹولز کی افادیت ، دستیابی اور قیمتوں پر تفصیلی ویڈیو بنائیں ، جس میں نئے پرانے تمام چائنیز اوپن سورس/ٹولز و ماڈلز کو کور کریں ۔
بہت شکریہ
رضوان میمن