مصنوعی ذہانت اور عالمی ترقی: ایک عالمی رپورٹ کا تجزیہ
حصہ سوم:
یہ مضمون مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک عالمی رپورٹ کے تجزیے پر مشتمل تین حصوں کی سیریز کا آخری حصہ ہے۔
مصنوعی ذہانت اور پالیسی: فیصلے جو مستقبل طے کریں گے
ترقی پذیر ممالک کے لیے مصنوعی ذہانت کا حقیقت پسندانہ راستہ کیا ہو سکتا ہے؟
مصنوعی ذہانت پر عالمی بحث اکثر اس تصور کے گرد گھومتی ہے کہ کامیابی کا مطلب سب سے بڑے، مہنگے اور پیچیدہ ماڈلز تیار کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توجہ عموماً ان چند ممالک اور کمپنیوں پر مرکوز رہتی ہے جو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، جدید ترین کمپیوٹنگ طاقت اور وسیع ڈیٹا وسائل رکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ راستہ دنیا کے زیادہ تر ممالک کے لیے نہ تو قابلِ عمل ہے اور نہ ہی ضروری۔ اسی نکتے سے ’’مقامی نوعیت کی مصنوعی ذہانت‘‘ کا تصور سامنے آتا ہے، جو مصنوعی ذہانت کو ایک زیادہ حقیقت پسندانہ اور قابلِ رسائی سمت میں لے جاتا ہے۔
’’مقامی نوعیت کی مصنوعی ذہانت‘‘ سے مراد ایسے مصنوعی ذہانت کے حل ہیں جو مخصوص مسائل کے لیے تیار کیے جائیں، کم لاگت ہوں اور مقامی حالات کے مطابق ڈھالے جا سکیں۔ یہ ماڈلز کسی عالمی مقابلے میں سب سے آگے نکلنے کے لیے نہیں بنائے جاتے بلکہ اس لیے تیار کیے جاتے ہیں کہ وہ روزمرہ زندگی میں حقیقی مسائل حل کر سکیں۔ اس نقطۂ نظر میں کامیابی کا پیمانہ ماڈل کا سائز نہیں بلکہ اس کا عملی فائدہ ہوتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ سوچ اس لیے اہم ہے کہ وہاں وسائل محدود ہوتے ہیں۔ نہ ہر ملک کے پاس مہنگے ڈیٹا سینٹر بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے اور نہ ہی جدید ترین چپس تک آسان رسائی۔ ایسے میں اگر ترقی کو صرف بڑے اور پیچیدہ ماڈلز سے مشروط کر دیا جائے تو زیادہ تر ممالک ابتدا ہی میں دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ’’مقامی نوعیت کی مصنوعی ذہانت‘‘ اس جمود کو توڑتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ان شعبوں میں استعمال کیا جائے جہاں اس کا اثر فوری اور واضح ہو سکتا ہے۔ زراعت میں فصلوں کی نگرانی، صحت کے شعبے میں ابتدائی تشخیص، تعلیم میں طلبہ کی انفرادی رہنمائی اور سرکاری خدمات میں خودکار نظام ایسے شعبے ہیں جہاں سادہ مگر مؤثر اے آئی حل بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ ان حلوں کے لیے نہ تو بہت زیادہ ڈیٹا درکار ہوتا ہے اور نہ ہی غیر معمولی کمپیوٹنگ طاقت۔
یہ نقطۂ نظر اس خیال کو بھی تقویت دیتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو مقامی زبان، ثقافت اور سماجی حقائق کے مطابق ڈھالنا کیوں ضروری ہے۔ جب ٹیکنالوجی مقامی مسائل سے جڑی ہو تو اس کی قبولیت بھی بڑھتی ہے اور اس کے نتائج بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر اے آئی کو بغیر کسی مقامی تناظر کے نافذ کیا جائے تو وہ یا تو محدود فائدہ دیتی ہے یا بعض اوقات مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
تاہم ’’مقامی نوعیت کی مصنوعی ذہانت‘‘ خود بخود کامیاب نہیں ہو جاتی۔ اس کے لیے بھی واضح پالیسی فیصلوں اور درست حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومتوں کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کہاں سرمایہ کاری کی جائے، کن شعبوں کو ترجیح دی جائے اور کس مرحلے پر نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کو شامل کیا جائے۔ اگر یہ فیصلے تاخیر کا شکار ہوں تو بعد میں اس خلا کو پُر کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔
عالمی رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں ’’انتظار اور دیکھو‘‘ کی حکمتِ عملی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ جو ممالک آج بنیادی ڈھانچے، انسانی مہارت اور مقامی ڈیٹا میں سرمایہ کاری نہیں کرتے، وہ کل اس ٹیکنالوجی پر دوسروں کے فیصلوں کے تابع ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ پالیسی اور حکمرانی کے دائرے میں بھی خودمختاری میں کمی ہو سکتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل یکساں نہیں ہوگا۔ ہر ملک کی ضروریات، وسائل اور ترجیحات مختلف ہیں، اس لیے ایک ہی ماڈل سب کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔ کامیاب حکمتِ عملی وہی ہوگی جو مرحلہ وار ہو، مقامی حالات کو مدنظر رکھے اور دستیاب وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔ ’’مقامی نوعیت کی مصنوعی ذہانت‘‘ اسی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے۔
سیریز کے تینوں حصے مل کر یہ واضح تصویر پیش کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت نہ تو محض ایک تکنیکی مسئلہ ہے اور نہ ہی کوئی خودکار حل۔ یہ ایک سماجی، معاشی اور پالیسی چیلنج ہے جس کے اثرات طویل المدت ہیں۔ اگر بنیادیں مضبوط ہوں، فیصلے بروقت ہوں اور ٹیکنالوجی کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے تو مصنوعی ذہانت ترقی کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہی ٹیکنالوجی ناہمواری کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
حصہ سوم کا خلاصہ یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے مصنوعی ذہانت کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ بڑے دعووں میں نہیں بلکہ عملی، مقامی اور قابلِ عمل حلوں میں پوشیدہ ہے۔ ’’مقامی نوعیت کی مصنوعی ذہانت‘‘ اسی راستے کی نشاندہی کرتی ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ درست پالیسی اور واضح سمت موجود ہو۔
یہ تین حصوں پر مشتمل سیریز مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک عالمی رپورٹ کے تفصیلی مطالعے پر مبنی تھی، جس کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ اے آئی دنیا کو کیسے بدل رہی ہے، کن بنیادوں پر اس کا انحصار ہے، اور ترقی پذیر ممالک اس سے کس طرح حقیقت پسندانہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


No Comments