عالمی تحقیقی رپورٹ “Stop Throwing AI Tools at Teachers “
حصہ اول:
یہ بلاگ ایک عالمی تحقیقی رپورٹ کے تجزیے پر مبنی تین حصوں پر مشتمل سیریز کا پہلا حصہ ہے، جس میں تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال اور اس کے لیے اساتذہ کی تیاری کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تعلیم میں مصنوعی ذہانت : اساتذہ کیوں تیار نہیں؟
دنیا بھر میں تعلیم کا شعبہ اس وقت ایک ایسی تبدیلی سے گزر رہا ہے جس کی رفتار بہت تیز ہے، مگر اس کے لیے تیاری کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت اب محض تحقیقی اداروں یا ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ کلاس رومز، اسائنمنٹس، امتحانات اور تدریسی منصوبہ بندی تک پہنچ چکی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کیا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تعلیم میں کس طرح داخل ہو رہی ہے اور اس تبدیلی کے مرکز میں موجود اساتذہ اس کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔
یہی سوال اس عالمی رپورٹ کی بنیاد بنتا ہے جو ورلڈ انوویشن سمٹ فار ایجوکیشن، ایم آئی ٹی پی کے تا بارہ انیشی ایٹو اور ایم آئی ٹی ریز کے اشتراک سے تیار کی گئی اور قطر فاؤنڈیشن کے تحت سن 2025 میں شائع ہوئی۔ رپورٹ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ جب تعلیمی نظام تیزی سے مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اساتذہ کو درکار تربیت، رہنمائی اور اعتماد کیوں فراہم نہیں کیا جا رہا۔ رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ مسئلہ ٹیکنالوجی کی کمی نہیں بلکہ نظامی کمزوری ہے۔
مصنوعی ذہانت تعلیم میں مختلف شکلوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ کہیں یہ طلبہ کی کارکردگی کا تجزیہ کر رہی ہے، کہیں اسباق کی تیاری میں مدد دے رہی ہے اور کہیں اساتذہ کے روزمرہ کام کو آسان بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ مگر رپورٹ کے مطابق زیادہ تر اساتذہ کو یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ ان ٹولز کو تدریس کے عمل میں کیسے شامل کیا جائے، ان کی حدود کیا ہیں اور اخلاقی طور پر کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اساتذہ یا تو خوف کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر غیر یقینی کیفیت میں کام کرتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں۔ رپورٹ میں شامل تحقیق مختلف ممالک کے اساتذہ کے تجربات پر مبنی ہے، جن میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے تعلیمی نظام شامل ہیں۔ حیران کن طور پر تقریباً ہر جگہ اساتذہ نے ایک جیسے خدشات کا اظہار کیا۔ کہیں انہیں یہ ڈر لاحق ہے کہ مصنوعی ذہانت ان کے پیشے کو غیر ضروری بنا دے گی، تو کہیں انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ کلاس روم میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی حد کہاں تک ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود پالیسی سطح پر یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اساتذہ خود ہی اس تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر لیں گے۔
رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ تبدیلی کب آ چکی ہے، اس پر بحث بے معنی ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت پہلے ہی تعلیم کا حصہ بن چکی ہے، مگر اس کے استعمال کے اصول، تربیت کے ماڈلز اور واضح رہنما خطوط ہر جگہ موجود نہیں۔ اس خلا کی وجہ سے اساتذہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، کیونکہ ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی بھی اپنائیں، نتائج بھی بہتر بنائیں اور کسی ممکنہ نقصان کی ذمہ داری بھی خود اٹھائیں۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اس تبدیلی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اگر حکومتیں، تعلیمی ادارے اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیاں صرف اے آئی ٹولز فراہم کر کے پیچھے ہٹ جائیں تو یہ ناانصافی اساتذہ کے ساتھ ہو گی۔ اساتذہ نہ صرف تدریس کرتے ہیں بلکہ طلبہ کی رہنمائی، اخلاقی تربیت اور سماجی نشوونما میں بھی مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بغیر مناسب تربیت کے پیچیدہ خودکار نظاموں کو سنبھال لیں گے، حقیقت پسندانہ نہیں۔
رپورٹ اس خیال کو بھی چیلنج کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت بذاتِ خود تعلیم کو بہتر بنا دے گی۔ اس کے مطابق اگر اساتذہ کو اس تبدیلی کا حصہ نہ بنایا گیا تو یہی ٹیکنالوجی عدم مساوات کو بڑھا سکتی ہے۔ وہ اسکول اور اساتذہ جن کے پاس وسائل، وقت اور تربیت موجود ہے، وہ فائدہ اٹھائیں گے، جبکہ باقی پیچھے رہ جائیں گے۔ اس طرح تعلیم میں فرق کم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
یہ حصہ اوّل اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے کس طرح اور کن لوگوں کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اساتذہ کو محض ٹیکنالوجی کا صارف سمجھنے کے بجائے اس تبدیلی کا بنیادی ستون تسلیم کرنا ہو گا۔ جب تک اساتذہ کی تربیت، اعتماد اور کردار کو مرکزی حیثیت نہیں دی جائے گی، مصنوعی ذہانت تعلیم میں بہتری کے بجائے نئے مسائل پیدا کرتی رہے گی۔ اس سیریز کے اگلے حصے میں اسی رپورٹ کی روشنی میں یہ دیکھا جائے گا کہ عالمی تحقیق کے نتائج کیا ہیں اور اساتذہ نے عملی سطح پر کن تجربات سے کیا سیکھا۔
No Comments