اینتھروپک (Anthropic) کا کہنا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ (Claude) نے بچھو کے زہر میں موجود خطرناک مادّوں سے جڑنے کے لیے چھوٹے پروٹین ڈیزائن کیے ہیں۔ لیبارٹریوں میں جانچے گئے 211 ڈیزائنوں میں سے 17 نے محققین کا مقرر کردہ معیار پورا کیا۔ یہ ابتدائی تحقیق ہے: ابھی ثابت نہیں ہوا کہ یہ پروٹین زہر کا اثر ختم کرتے ہیں یا علاج میں کام آئیں گے۔ اینتھروپک کی تحقیق

کلاڈ نے کیا بنایا؟
بچھو کے زہر میں کئی قسم کے مادّے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اعصابی نظام کو متاثر کرتے ہیں اور شدید صورتوں میں دل اور سانس کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ محققین نے کلاڈ کو ایسے چھوٹے پروٹین ڈیزائن کرنے کا کام دیا جو ان مادّوں سے مضبوطی سے جڑ سکیں۔ ایسے پروٹین کو بائنڈر کہا جاتا ہے۔
کلاڈ نے مختلف کمپیوٹر ٹولز استعمال کر کے بڑی تعداد میں ڈیزائن بنائے اور مزید جانچ کے لیے 180 منتخب کیے۔ تحقیقی ٹیم نے اس کی مدد سے 31 مزید شامل کیے۔ پھر دو لیبارٹریوں نے مجموعی طور پر 211 ڈیزائنوں کو آزمایا۔ ان میں سے 17 پروٹین چار مختلف زہریلے مادّوں میں سے کسی ایک سے جڑنے کے مقررہ معیار پر پورے اترے۔ کوئی بھی ڈیزائن ایک سے زیادہ مادّوں کے لیے اس معیار پر پورا نہیں اترا۔ تحقیق کی تفصیل
کیا یہ بچھو کے ڈنک کا علاج ہے؟
ابھی نہیں۔ زہریلے مادّے سے جڑنا اور اس کا اثر ختم کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ تجربے میں پروٹین کو لیبارٹری میں تیار کیے گئے زہریلے مادّوں کے ساتھ جانچا گیا؛ محققین نے یہ نہیں آزمایا کہ وہ خلیوں میں زہر کا اثر روکتے ہیں یا جانوروں کو بچاتے ہیں۔
اگر محققین ان میں سے کسی ڈیزائن کو علاج کی طرف لے جانا چاہیں تو انہیں مزید جانچ کرنی ہوگی، جس میں اصل زہر سے حاصل مادّے کے ساتھ تجربات، خلیوں میں اثر کی جانچ اور جانوروں پر آزمائش شامل ہیں۔ محفوظ، مؤثر اور قابلِ رسائی دوا بننے کے لیے اس کے بعد بھی مزید کام درکار ہوگا۔
اس سے اے آئی کی ترقی کے بارے میں کیا پتا چلتا ہے؟
یہ تجربہ دکھاتا ہے کہ اے آئی صرف سائنسی معلومات سمجھانے تک محدود نہیں رہی۔ مناسب ہدایات اور ٹولز کے ساتھ وہ ممکنہ پروٹین ڈیزائن بنانے، ان کا جائزہ لینے اور تجربے کے لیے امیدوار منتخب کرنے میں بھی حصہ لے سکتی ہے۔
اس کام میں انسانوں کا کردار بھی اہم تھا۔ محققین نے مسئلہ اور آزمائش کا دائرہ طے کیا، کلاڈ کو مزید ہدایات دیں اور لیبارٹریوں میں اس کے منتخب کردہ ڈیزائن جانچے۔ اینتھروپک نے تمام 211 ڈیزائن اور تجرباتی ڈیٹا جاری کیا ہے تاکہ دوسرے محققین بھی اس کام کو آگے بڑھا سکیں۔
بچھو کے ڈنک کے علاج تک پہنچنے میں وقت اور مزید شواہد لگیں گے۔ فی الحال اس تحقیق کی سب سے واضح بات یہ ہے کہ اے آئی ایسی بیماریوں کی تحقیق میں نئے امیدوار تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے جن کے علاج پر مزید کام کی ضرورت ہے۔
سرورق علامتی ہے اور اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔

