گوگل نے 13 اکتوبر 2026 کو اپنا نیا ماڈل جیمینائی 4 آرگن (Gemini 4 Argon) دنیا بھر میں جاری کرنے کا اعلان کیا۔ یہ لمبے اور کئی مرحلوں والے کام، خاص طور پر کوڈنگ، دستاویزات کی جانچ اور تحقیق کے لیے بنایا گیا ہے۔ عام صارفین اسے Gemini app اور Search کے AI Mode میں Google AI Pro یا Ultra سبسکرپشن کے ساتھ آزما سکتے ہیں؛ ڈویلپرز کے لیے API کا paid tier درکار ہے۔ یہ رسائی آج سے شروع ہو رہی ہے، اس لیے آپ کے اکاؤنٹ میں آپشن ظاہر ہونے کا وقت مختلف ہو سکتا ہے۔ گوگل کا 13 اکتوبر کا اعلان
یہ اس ماڈل کی پہلی جھلک نہیں۔ گوگل نے اسے 30 ستمبر کو محدود شراکت داروں کے لیے متعارف کرایا تھا؛ 13 اکتوبر کی اصل خبر زیادہ لوگوں کے لیے رول آؤٹ اور استعمال کے راستوں کا اعلان ہے۔
آرگن میں ایسا کیا ہے جو عام کام سے آگے جاتا ہے؟
گوگل کے مطابق آرگن ایک مسئلے پر کئی مرحلوں تک کام کر سکتا ہے: متعلقہ فائلیں یا دستاویزات پڑھنا، منصوبہ بنانا، اوزار استعمال کرنا، نتیجہ جانچنا اور پھر اگلا قدم لینا۔ مثال کے طور پر بڑے سافٹ ویئر میں ایسی تبدیلی جو سینکڑوں فائلوں پر اثر ڈالتی ہو، یا مختلف دستاویزات سے ایک قابلِ جانچ تجزیہ بنانا۔ یہ صلاحیت ہر کام میں خودکار درستگی کی ضمانت نہیں؛ نتیجہ اور ماخذ انسان کو جانچنے ہوں گے۔
گوگل نے Chrome کے کوڈ میں ایک بڑے اندرونی ریفیکٹر اور اپنے Agent Development Kit کی رفتار بہتر کرنے کی مثالیں دی ہیں۔ کمپنی کے مطابق ADK میں ایک کام کے بعد لمبے سیشن کی تیاری کا وقت 40% کم ہوا اور پہلی بار import کی رفتار 21% بڑھی۔ یہ مخصوص منصوبوں کے نتائج ہیں؛ انہیں ہر صارف کے کام پر لاگو نہ سمجھیں۔ گوگل کی تفصیل
ویڈیو: Chrome کے بڑے کوڈ میں تبدیلی
گوگل کی یہ ویڈیو دکھاتی ہے کہ آرگن کو Chromium جیسے بڑے codebase کی دیکھ بھال کے کام میں کیسے استعمال کیا گیا۔ یہ ایک ٹیم کی مثال ہے، ہر project کے لیے وقت کی بچت کا وعدہ نہیں۔
کیا یہ صرف پروگرامرز کے لیے ہے؟
نہیں۔ گوگل کی دوسری مثال میں Gemini app ایک بے ترتیب project folder کی معلومات سے client کے لیے proposal deck بناتی ہے، پھر email اور آئندہ درخواستوں کے لیے scheduled workflow تیار کرتی ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا عمل ایک ڈیمو ہے؛ کسی کو email بھیجنے یا خودکار کام چلانے سے پہلے متن، وصول کنندہ اور اجازت ضرور چیک کریں۔
گوگل کا proposal ڈیمو YouTube پر دیکھیں
طلبہ یا چھوٹے کاروبار کے لیے اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ AI سے لمبی فائلوں کا پہلا خاکہ، سوالات کی فہرست یا ابتدائی تجزیہ لیا جا سکتا ہے۔ مالی یا قانونی فیصلے، نجی معلومات اور کسی دوسرے شخص کو جانے والا پیغام اپنی جانچ کے بغیر اس کے حوالے نہ کریں۔
1M ٹوکن کی حد کو کیسے سمجھیں؟
گوگل Gemini API میں 1M unified input-output token limit بتاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، ایک API کام میں ماڈل کو دیا جانے والا مواد اور اس کا جواب ایک مشترک ٹوکن حد کے تحت آتے ہیں۔ یہ 1M الفاظ نہیں اور نہ ہی ہر prompt پر اتنا لمبا جواب خودبخود ملتا ہے۔ بڑے جواب اور جاری رہنے والے کام کے لیے گوگل نے developer documentation میں الگ continuation protocol سمجھایا ہے۔ گوگل کا اعلان، developer guide
عام Gemini app استعمال کرنے والے اس API حد کو اپنے subscription کے روزمرہ استعمال کی حد نہ سمجھیں۔ App کی دستیابی اور usage limits الگ ہو سکتی ہیں۔
کس کو رسائی مل رہی ہے اور قیمت کیا ہے؟
- عام صارفین: Gemini app اور Search کے AI Mode میں Google AI Pro یا Ultra سبسکرپشن کے ساتھ رول آؤٹ۔
- ڈویلپرز: Gemini API کے paid tier میں ماڈل؛ Google AI Ultra رکھنے والے AI Studio اور Antigravity میں بھی آزما سکتے ہیں۔
- کاروبار: Google کے enterprise راستوں اور API کے ذریعے رسائی۔
- سائنس دان: اہل درخواست دہندگان میں سے 10,000 کو Antigravity کی اعلیٰ usage tier 6 ماہ کے لیے بغیر قیمت مل سکتی ہے؛ انتخاب، گنجائش اور شرائط لاگو ہیں۔
گوگل نے API کے لیے 30 نومبر 2026 تک ابتدائی قیمت $2 فی 1M input tokens اور $10 فی 1M output tokens بتائی ہے۔ اس کے بعد اعلان کے مطابق قیمت بالترتیب $4 اور $20 ہوگی۔ یہ API استعمال کی قیمت ہے، Gemini app کی ماہانہ سبسکرپشن نہیں؛ ٹوکن کے مطابق بل بدلتا ہے۔ قیمت اور پلان خریدنے سے پہلے گوگل کے موجودہ pricing page پر دوبارہ دیکھیں۔ اعلان اور اس کا قیمت والا حاشیہ، ڈویلپر اعلان
گوگل نے عالمی رول آؤٹ کہا ہے، مگر ہم نے پاکستان کے ہر اکاؤنٹ یا مقامی ادائیگی کے راستے کی الگ تصدیق نہیں کی۔ اپنے پلان میں دستیابی Gemini یا Google AI Studio کے اندر چیک کریں۔
تحقیق اور روبوٹکس میں آرگن کیا دکھا رہا ہے؟
گوگل ڈیپ مائنڈ کے ایک اندرونی ٹیسٹ میں آرگن نے ایک انسان کے کھیلنے کی ویڈیو دیکھ کر humanoid robot کے لیے simulation code تیار کیا۔ کمپنی کے مطابق Apptronik کے Apollo robot نے حقیقی تجربے میں مسلسل 7 درست throws کیے۔ اس سے ماڈل کی تحقیقاتی سمت سمجھ آتی ہے؛ اسے عام صارف کے لیے دستیاب robot feature یا آزادانہ تصدیق شدہ معیار نہ سمجھیں۔ گوگل کا بیان
گوگل ڈیپ مائنڈ کا robot ڈیمو YouTube پر دیکھیں
آج اسے آزمانے کا درست طریقہ کیا ہے؟
اگر آپ کے پاس Google AI Pro یا Ultra ہے تو Gemini app کھول کر ماڈل کی فہرست میں Argon دیکھیں۔ آپشن نہ آئے تو رول آؤٹ، اکاؤنٹ اور علاقے کی شرائط چیک کریں۔ ایک حقیقی مگر کم خطرے والا کام دیں، مثلاً اپنی ہی دستاویزات سے سوالات کی فہرست یا اپنے codebase کے کسی حصے کا جائزہ۔ پہلے چھوٹے کام پر نتیجہ اور ماخذ دیکھیں؛ پھر اسے زیادہ پیچیدہ کام میں استعمال کریں۔
اگر آپ developer ہیں تو Gemini API guide میں ماڈل، setup اور لمبے جواب کی شرط دیکھیں۔ API کی قیمت اور token استعمال پر نظر رکھیں۔ حساس معلومات یا خودکار بیرونی کارروائی کے لیے اپنی منظوری اور انسانی review کا مرحلہ رکھیں۔
اصل فرق یہ ہے کہ Argon اب محدود preview سے وسیع rollout میں آ رہا ہے۔ ویڈیوز اس کی ممکنہ صلاحیت دکھاتی ہیں؛ آپ کے کام میں اس کی قدر کا فیصلہ اپنے مواد، خرچ اور جانچے ہوئے نتیجے سے ہوگا۔


