گوگل کے پروجیکٹ سن کیچر (Project Suncatcher) کے تجرباتی سیٹلائٹ نے مدار میں اے آئی ماڈل چلا کر جواب زمین پر بھیج دیا ہے۔ کمپنی نے 30 اکتوبر 2026 کو بتایا کہ سیٹلائٹ پر موجود جیما 4 (Gemma 4) سے خلا کے بارے میں ایک مختصر نظم لکھوائی گئی۔ یہ خلا میں اے آئی کمپیوٹنگ آزمانے کا ابتدائی قدم ہے؛ مکمل تجارتی ڈیٹا سینٹر ابھی نہیں بنا۔ گوگل کا تازہ اعلان
Urdu Ai نے منصوبے کے آغاز پر خلا میں سورج کی روشنی سے اے آئی چلانے کا تصور سمجھایا تھا۔ اب پیش رفت خیال اور زمینی آزمائشوں سے آگے بڑھ کر مدار میں جواب حاصل کرنے تک پہنچی ہے۔
سیٹلائٹ نے کیا کیا؟
گوگل نے سیٹلائٹ 1 اکتوبر کو روانہ کیا تھا۔ تازہ تجربے میں زمین سے ہدایت، یعنی پرامپٹ، بھیجا گیا۔ ماڈل نے نظم بنائی اور ناروے کے سوالبارڈ کے قریب زمینی اسٹیشن سے رابطے کے دوران جواب واپس پہنچا۔
کمپنی اسے مدار میں ڈیٹا سینٹر درجے کی ٹی پی یو (TPU) سے ملنے والا پہلا اے آئی جواب قرار دیتی ہے۔ ٹی پی یو مشین لرننگ کی حسابی کارروائیوں کے لیے بنائی گئی مخصوص چپ ہے۔ طویل مدتی کارکردگی کی جانچ ابھی باقی ہے۔
اے آئی کو خلا میں کیوں لے جایا جا رہا ہے؟
اے آئی چلانے والے کمپیوٹروں کو بجلی چاہیے۔ گوگل کے مطابق زمین کے نچلے مدار میں موزوں جگہ پر سیٹلائٹس تقریباً مسلسل دھوپ حاصل کر سکتے ہیں۔ کمپنی کا تخمینہ ہے کہ وہاں سولر پینلز زمین کے مقابلے میں 8 گنا تک زیادہ شمسی توانائی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ مخصوص مداری حالات کا تخمینہ ہے۔ منصوبے کی سائنسی وضاحت
طویل مدتی تصور کئی سیٹلائٹس کو جوڑ کر بڑے اے آئی کام چلانے کا ہے۔ اس کے لیے چپس کے ساتھ توانائی، حرارت اور تیز رابطے کے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔
خلا میں چپ ٹھنڈی رکھنا آسان کیوں نہیں؟
خلا میں ہوا نہیں ہوتی، اس لیے پنکھے سے ہوا گزار کر چپ کی گرمی باہر نہیں نکالی جا سکتی۔ گوگل حرارت منتقل کرنے والی نالیوں اور اسے خلا میں خارج کرنے والے ریڈی ایٹرز آزما رہا ہے۔ یعنی خلا سرد ہونے کے باوجود کمپیوٹر کو خود بخود ٹھنڈا نہیں رکھتا۔
تابکاری بھی الیکٹرانک نظام میں خرابیاں پیدا کر سکتی ہے۔ اسی لیے صرف ایک نظم بنوا لینا کافی نہیں؛ چپ کو بدلتے درجۂ حرارت اور تابکاری میں مسلسل کام کر کے دکھانا ہوگا۔
اگلا مرحلہ کیا ہے؟
تازہ اعلان کے مطابق، گوگل اب مدار میں حرارتی دباؤ اور تابکاری کے مزید تجربات کرے گا۔ اگلا ہدف 2027 میں دو باہم منسلک سیٹلائٹس آزمانا ہے۔
اس خبر سے ایک بنیادی بات سمجھ آتی ہے: اے آئی صرف سافٹ ویئر نہیں۔ اسے چلانے کے لیے چپس، بجلی، رابطہ اور گرمی خارج کرنے کا پورا نظام درکار ہوتا ہے۔ سن کیچر انہی تقاضوں کو زمین کے مدار میں آزما رہا ہے۔
کور اے آئی سے بنائی گئی تصوراتی تصویر ہے؛ یہ اصل سیٹلائٹ یا مدار سے لی گئی تصویر نہیں۔

