اوپن اے آئی (OpenAI) نے GPT-6.1 Terra متعارف کرایا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل تصویروں اور اسکرین پر موجود معلومات کو سمجھنے، کمپیوٹر پر کام کرنے اور تحریر بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسے چیٹ جی پی ٹی ورک (ChatGPT Work)، کوڈیکس (Codex) اور API میں پیش کیا جا رہا ہے۔ 26 اکتوبر کا آفیشل اعلان
عام صارف کے لیے خبر کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی سے صرف جواب لکھوانے کے بجائے فائلوں پر کام بھی کروایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، بلوں سے رقم اور آخری تاریخ نکال کر ایک قابلِ جانچ فہرست بنوائیں۔ فائدہ تب ہوگا جب فہرست درست ہو اور آپ کو اصل کاغذات بار بار نہ کھولنے پڑیں۔
پہلے دیکھیں، آپ کے اکاؤنٹ میں دستیاب ہے؟
لانچ کے اعلان میں Plus، Pro، Enterprise اور Edu صارفین شامل ہیں۔ مفت اکاؤنٹ کے لیے دستیابی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کمپنی کہتی ہے کہ ورک اور کوڈیکس میں موجود استعمال کی حد کے اندر اس ماڈل سے نسبتاً زیادہ کام کیے جا سکیں گے؛ اسے لامحدود استعمال نہ سمجھیں۔ دستیابی کی تفصیل
آفیشل ہدایات کے مطابق چیٹ جی پی ٹی میں Work کھولیں، نئی گفتگو شروع کریں اور ماڈل منتخب کرنے والے مینو میں GPT-6.1 Terra دیکھیں۔ ماڈل دکھائی دے تو اسے منتخب کریں۔ دستیاب اختیارات آپ کے پلان اور ادارے کی ترتیبات پر منحصر ہیں۔ ورک شروع کرنے کا طریقہ
پاکستان چیٹ جی پی ٹی کے معاون ممالک کی فہرست میں شامل ہے، لیکن ہم نے پاکستانی اکاؤنٹ پر اس نئے ماڈل کی دستیابی الگ سے نہیں آزمائی۔
3 بلوں سے ایک چھوٹا تجربہ کریں
پہلے غیر حساس یا فرضی معلومات لیں۔ یہ نمونہ گفتگو میں پیسٹ کرکے آغاز کیا جا سکتا ہے:
بل A: رقم 1500 روپے، ادائیگی کی آخری تاریخ 27 اکتوبر 2026۔
بل B: رقم 2250 روپے، ادائیگی کی آخری تاریخ 28 اکتوبر 2026۔
بل C: رقم 1750 روپے، آخری تاریخ درج نہیں۔
ان بلوں کی ایک جدول بنائیں: بل کا نام، رقم اور آخری تاریخ۔ کل رقم بھی لکھیں۔ جو معلومات موجود نہیں، ان کے سامنے «درج نہیں» لکھیں؛ اندازہ نہ لگائیں۔ قریب ترین آخری تاریخ پہلے دکھائیں۔ کوئی ادائیگی نہ کریں۔
اس فرضی مثال میں کل رقم 5500 روپے آنی چاہیے، بل A پہلے اور بل C کی تاریخ «درج نہیں» ہونی چاہیے۔ یہی تین چیزیں نتیجے میں جانچیں۔ غلطی ہو تو متعلقہ سطر دکھا کر تصحیح کروائیں۔
اگلے مرحلے میں اپنے 3 بلوں کی صاف تصاویر دیں، ذاتی تفصیلات ہٹا دیں، اور یہی ہدایت آزمائیں۔ ہر رقم اور تاریخ اصل تصویر سے ملائیں۔ یہ ہماری تجویز کردہ آزمائش ہے؛ اس ماڈل پر کیے گئے تجربے کا دعویٰ نہیں۔ کسی دوسری ایپ میں عمل کے لیے متعلقہ رسائی اور اجازت بھی درکار ہوتی ہے۔
قیمت کس چیز کی کم ہوئی ہے؟
API وہ راستہ ہے جس سے ڈویلپر اپنی ایپ میں ماڈل استعمال کرتے ہیں۔ اس کی عام قیمت ہر 10 لاکھ ان پٹ ٹوکن کے لیے $1 اور 10 لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکن کے لیے $5 ہے۔ ٹوکن متن کے چھوٹے حصے ہوتے ہیں؛ ہر ٹوکن لازماً ایک پورا لفظ نہیں ہوتا۔ یہ قیمت عام رفتار کی ہے؛ لمبی درخواستوں، اضافی ٹولز اور دوسرے طریقوں کی فیس مختلف ہو سکتی ہے۔ آفیشل ماڈل اور قیمت
اسے چیٹ جی پی ٹی کی ماہانہ فیس میں کمی نہ سمجھیں۔ API کے حساب اور سبسکرپشن میں شامل استعمال کو الگ دیکھیں۔ صرف بلوں والی مثال آزمانے کے لیے API کی ضرورت نہیں، اگر ماڈل آپ کے ورک اکاؤنٹ میں موجود ہو۔
کمپنی کی جانچ میں ٹیرا نے کمپیوٹر پر بعض کام GPT-6 Astra اور GPT-6.1 Sol سے تیزی سے مکمل کیے، لیکن مشکل کوڈنگ کے لیے وہ اب بھی ان دونوں ماڈلز کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ کمپنی کے نتائج ہیں، ہر کام میں یکساں رفتار یا درستگی کی ضمانت نہیں۔ صلاحیتوں کا موازنہ
اپنے لیے انتخاب کرتے وقت ایک ہی چھوٹا کام اپنے موجودہ ماڈل اور ٹیرا سے کروائیں۔ دونوں کے وقت، غلطیوں اور اپنی تصحیح کی محنت کو نوٹ کریں۔ تب معلوم ہوگا کہ نیا ماڈل آپ کے کام میں واقعی فائدہ دیتا ہے یا نہیں۔


