پاکستان نے 16 جولائی 2026 کو شنگھائی میں World Artificial Intelligence Cooperation Organization (WAICO) کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے اور 29 بانی ممالک میں شامل ہوگیا۔ یہ چین کی تجویز کردہ، شنگھائی میں قائم ہونے والی بین الحکومتی اے آئی تنظیم ہے؛ لیکن اس دستخط سے پاکستان کو خودکار طور پر فنڈنگ، اے آئی چپس، کمپیوٹنگ سہولت یا نئے ماڈلز نہیں ملتے، کیونکہ معاہدے کی قومی توثیق اور ادارے کا عملی پروگرام ابھی سامنے آنا باقی ہے۔
WAICO کیا ہے — اور WAIC سے کیسے مختلف ہے؟
WAICO کا پورا نام World Artificial Intelligence Cooperation Organization ہے۔ اس کا مقصد ممالک کے درمیان اے آئی کی تحقیق، استعمال، صلاحیت سازی اور گورننس — یعنی اصول، نگرانی اور مشترکہ معیار — پر تعاون بڑھانا ہے۔ تنظیم کا ہیڈکوارٹر شنگھائی میں ہوگا۔
اسے WAIC سے نہ ملائیں۔ WAIC شنگھائی میں ہونے والی سالانہ World Artificial Intelligence Conference ہے، جبکہ WAICO مستقل بین الحکومتی تنظیم بننے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے WAICO کا معاہدہ 16 جولائی کو سائن کیا، پھر اگلے دن WAIC 2026 اور عالمی اے آئی گورننس کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے دورے کے بعد تصدیق کی کہ مجموعی طور پر 29 ممالک نے معاہدہ سائن کیا۔
اصل معاہدہ تنظیم کو کیا کام دیتا ہے؟
قیام کے معاہدے میں صرف عمومی نعرے نہیں، بلکہ ادارے کا بنیادی ڈھانچہ بھی درج ہے۔ WAICO کے مجوزہ کام یہ ہیں:
- رکن ممالک کی ضروریات اور دستیاب مہارت یا وسائل کو آپس میں ملانے کے لیے پلیٹ فارم بنانا؛
- اے آئی کی تربیت اور ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے میں بین الاقوامی تعاون کرنا؛
- قومی اے آئی حکمت عملی، گورننس کے اصول اور تکنیکی معیار ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنے پر گفتگو کرانا؛
- سائنس، تحقیق اور اوپن سورس اے آئی ایکو سسٹم میں مشترکہ کام کی حوصلہ افزائی کرنا؛
- اقوام متحدہ کے اندر جاری عالمی اے آئی گورننس کے عمل سے رابطہ رکھنا؛
- اے آئی کے خطرات، غلط استعمال اور غیر محفوظ اطلاق سے نمٹنے کے لیے تعاون کرنا۔
ایک حد واضح لکھی گئی ہے: تنظیم کے تمام کام صرف اے آئی کے شہری استعمال تک محدود ہوں گے۔ معاہدہ WAICO کو فوجی اے آئی کے لیے مینڈیٹ نہیں دیتا۔
فیصلے کون کرے گا؟
WAICO میں ایک Council اور مستقل Secretariat ہوگا۔ ہر رکن ملک Council میں شامل ہوگا اور ہر ملک کا ایک ووٹ ہوگا۔ پہلے اتفاق رائے کی کوشش کی جائے گی؛ اتفاق نہ ہو تو موجود اور ووٹ دینے والے ممالک کی دو تہائی اکثریت سے فیصلہ ہو سکے گا۔ اجلاس کے لیے مجموعی رکن ممالک میں سے کم از کم دو تہائی کی موجودگی ضروری ہوگی۔
Council سالانہ منصوبہ، بجٹ، نئے ارکان، مبصرین، Secretary General اور working groups کے فیصلے کرے گا۔ Chairperson ایک سال کے لیے منتخب ہوگا اور جغرافیائی توازن کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اس لیے اسے محض چین کا داخلی پروگرام کہنا درست نہیں، لیکن چین کا اثر اہم رہے گا: ہیڈکوارٹر شنگھائی میں ہوگا اور چینی حکومت معاہدے کی depositary، یعنی قانونی دستاویزات وصول اور ریکارڈ کرنے والی فریق، ہے۔
29 بانی ممالک کون سے ہیں؟
بانی فہرست میں ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور یورپ کے ممالک شامل ہیں: الجزائر، بیلاروس، برازیل، کمبوڈیا، کیمرون، چین، کانگو، کیوبا، ایتھوپیا، انڈونیشیا، قازقستان، کینیا، کرغزستان، لاؤس، لیسوتھو، ملائیشیا، موزمبیق، میانمار، نکاراگوا، عمان، پاکستان، روس، سینیگال، سربیا، جنوبی افریقہ، تاجکستان، ازبکستان، وینزویلا اور زیمبیا۔ یہ فہرست انڈونیشیا کی وزارت مواصلات و ڈیجیٹل امور نے جاری کی۔
امریکہ، یورپی یونین کے ممالک اور جاپان ابتدائی دستخط کنندگان میں شامل نہیں۔ البتہ معاہدہ رکنیت کو تمام ریاستوں کے لیے کھلا رکھتا ہے، اس لیے موجودہ 29 ممالک کو تنظیم کی آخری حد سمجھنا درست نہیں۔
چین نے یہ تنظیم کیوں تجویز کی؟
چین نے جولائی 2025 میں WAICO بنانے کی تجویز دی تھی۔ ایک سال بعد 29 ممالک نے قیام کا معاہدہ سائن کیا۔ چین کا مؤقف ہے کہ اے آئی چند امیر ممالک یا کمپنیوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کو ٹیکنالوجی، تربیت اور قواعد بنانے کے عمل میں زیادہ جگہ ملنی چاہیے۔ 2026 کانفرنس کے چیئر بیان میں اوپن سورس تعاون، تکنیکی تجربات بانٹنے، مشترکہ معیار اور Global South کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا گیا۔
لیکن یہ پیش رفت امریکہ اور چین کی وسیع ٹیکنالوجی کشمکش سے الگ بھی نہیں۔ Associated Press کے مطابق جدید ٹیکنالوجی تک چین کی رسائی پر امریکی پابندیاں اس مقابلے کا اہم حصہ ہیں۔ WAICO کے ذریعے چین صرف اے آئی مصنوعات نہیں بلکہ عالمی اصولوں اور اداروں کی تشکیل میں بھی اپنا کردار بڑھا رہا ہے۔ دوسری طرف ہر رکن کو ایک ووٹ دینا اور رکنیت سب ممالک کے لیے کھلی رکھنا معاہدے میں کم از کم رسمی توازن فراہم کرتا ہے۔ اصل توازن تنظیم کے عملی فیصلوں سے واضح ہوگا۔
پاکستان کو حقیقت میں کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
پاکستان کے لیے سب سے فوری فائدہ فیصلہ سازی کی میز پر ابتدائی نشست ہے۔ اگر معاہدہ پاکستان کے لیے نافذ ہوتا ہے تو ملک Council میں ووٹ دے سکے گا، اپنا آفیشل coordinator مقرر کر سکے گا، working groups میں حصہ لے سکے گا اور ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو معیار اور سالانہ منصوبوں میں شامل کرانے کی کوشش کر سکے گا۔
دوسرا امکان صلاحیت سازی کا ہے۔ پاکستان کو مقامی زبانوں کے ڈیٹا، کم لاگت کمپیوٹنگ، یونیورسٹی تحقیق، اساتذہ اور نوجوانوں کی تربیت، محفوظ عوامی خدمات اور چھوٹے کاروبار کے لیے اوپن سورس ٹولز جیسے واضح منصوبے تجویز کرنا ہوں گے۔ یہ سمت پاکستان کی نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس پالیسی 2025 کے عملی اہداف سے جوڑی جا سکتی ہے۔
تیسرا فائدہ مشترکہ معیار بنانے میں آواز ہے۔ مستقبل میں اے آئی نظام مختلف ممالک کے ڈیٹا، حفاظت، زبان اور جواب دہی کے اصولوں سے ٹکرائیں گے۔ پاکستان اگر ابتدا سے شریک رہے تو اردو اور علاقائی زبانوں، کم وسائل والے اداروں اور مقامی قانونی ضروریات کو گفتگو میں لا سکتا ہے۔ صرف رکن بننا کافی نہیں؛ پاکستان کو ماہرین، واضح تجاویز اور قابل پیمائش منصوبوں کے ساتھ حصہ لینا ہوگا۔
ابھی کون سے دعوے ثابت نہیں ہوئے؟
21 جولائی 2026 تک دستیاب اعلانات میں پاکستان کے لیے کسی مخصوص رقم، ڈیٹا سینٹر، اے آئی چپ، کمپیوٹنگ کوٹے، چینی ماڈل، مشترکہ لیب یا تربیتی نشست کی تفصیل موجود نہیں۔ وزارت خارجہ نے یہ توقع ضرور ظاہر کی کہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان اے آئی، ڈیجیٹل معیشت اور ابھرتی ٹیکنالوجیز میں تعاون مضبوط کرے گا، لیکن کوئی منصوبہ، بجٹ یا تکمیل کی تاریخ نہیں دی۔
اسی طرح WAICO اقوام متحدہ کا ادارہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے Secretary-General António Guterres دستخطی تقریب میں موجود تھے اور معاہدہ اقوام متحدہ کے منشور اور اس کے اے آئی عمل سے تعاون کی بات کرتا ہے، مگر تنظیم الگ قانونی شناخت رکھتی ہے۔ اسے “اقوام متحدہ کی نئی اے آئی تنظیم” کہنا غلط ہوگا۔
فنڈنگ بھی خودکار فائدہ نہیں۔ معاہدے کے مطابق WAICO کا بجٹ رکن ممالک کی سالانہ contributions، رضاکارانہ عطیات اور مشترکہ منصوبوں کی قانونی آمدن سے بنے گا۔ ہر ملک کتنا دے گا، پہلا بجٹ کیا ہوگا اور پاکستان کو کس منصوبے سے کیا ملے گا—یہ فیصلے Council نے ابھی ظاہر نہیں کیے۔
معاہدہ قانونی طور پر کہاں کھڑا ہے؟
دستخط اور نفاذ ایک چیز نہیں۔ معاہدے کا Article 14 ہر دستخط کرنے والے ملک سے ratification، acceptance یا approval مانگتا ہے۔ Article 15 کے مطابق تیسرے توثیقی دستاویز کے جمع ہونے پر معاہدہ نافذ ہوگا؛ بعد میں شامل ہونے والے ملک کے لیے اس کی اپنی دستاویز جمع ہونے کی تاریخ اہم ہوگی۔
21 جولائی 2026 تک اردو اے آئی کو جائزہ لیے گئے پاکستانی اور چینی آفیشل ذرائع میں تین توثیقی دستاویز جمع ہونے، معاہدہ نافذ ہونے، پاکستان کی قومی منظوری، پہلے Secretary General، پاکستان کے coordinator، پہلے بجٹ یا سالانہ work plan کا اعلان نہیں ملا۔ اس لیے اس وقت درست جملہ یہ ہے: پاکستان نے قیام کا معاہدہ سائن کیا اور بانی دستخط کنندہ بنا؛ عملی نتائج اگلے قانونی اور انتظامی مراحل پر منحصر ہیں۔
اب کن چیزوں پر نظر رکھنی چاہیے؟
اس پیش رفت کی اصل اہمیت تصویروں اور بیانات سے نہیں، اگلے فیصلوں سے معلوم ہوگی:
- پاکستان معاہدے کی توثیق یا منظوری کب اور کس قانونی طریقے سے کرتا ہے؟
- پاکستان کا WAICO coordinator کون ہوگا، اور کیا تکنیکی و تعلیمی ماہرین بھی مشاورت میں شامل ہوں گے؟
- پہلے بجٹ اور work plan میں پاکستان یا Global South کے لیے کون سے قابل پیمائش منصوبے آتے ہیں؟
- کیا اوپن سورس تعاون واقعی code، datasets، computing اور تربیت تک رسائی دے گا، یا صرف اجلاسوں تک محدود رہے گا؟
- مشترکہ معیار حفاظت، privacy، انسانی حقوق، مقامی زبانوں اور جواب دہی کو کس طرح سنبھالیں گے؟
پاکستان کا بانی دستخط کنندہ بننا سفارتی طور پر اہم آغاز ہے۔ اسے ٹیکنالوجی کی کامیابی کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ کامیابی تب ثابت ہوگی جب یہ نشست پاکستان میں تربیت، تحقیق، مقامی زبانوں کی بہتر اے آئی، محفوظ عوامی استعمال یا قابل پیمائش سرمایہ کاری میں بدلے۔
عام سوالات
کیا WAICO چین کی اپنی تنظیم ہے؟
چین نے اسے تجویز کیا، ہیڈکوارٹر شنگھائی میں ہوگا اور چینی حکومت معاہدے کی depositary ہے۔ لیکن قیام کا معاہدہ اسے الگ بین الحکومتی تنظیم بناتا ہے جس میں ہر رکن ملک کا ایک ووٹ ہوگا۔
کیا پاکستان کو اب چینی اے آئی ماڈلز مفت ملیں گے؟
ایسا کوئی اعلان نہیں ہوا۔ معاہدہ تعاون اور اوپن سورس ایکو سسٹم کی بات کرتا ہے، مگر کسی مخصوص ماڈل، قیمت یا رسائی کی ضمانت نہیں دیتا۔
WAICO اور WAIC میں کیا فرق ہے؟
WAIC سالانہ عالمی اے آئی کانفرنس ہے۔ WAICO مستقل بین الحکومتی تنظیم بننے کے لیے قائم کی گئی ہے۔
کیا WAICO کے فیصلے پاکستان پر فوراً لاگو ہوں گے؟
نہیں۔ پہلے معاہدے کے نفاذ اور پاکستان کے لیے ضروری توثیق یا منظوری کے مراحل مکمل ہونا اہم ہیں۔ اس کے بعد بھی Council کے مشترکہ فیصلے اور قومی قوانین طے کریں گے کہ کوئی معیار یا پروگرام عملی طور پر کیسے اپنایا جائے گا۔
اب آگے کیا سیکھیں؟
بنیاد مضبوط کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کیا ہے؟ پڑھیں، پھر پاکستان کی قومی پالیسی کے اہداف کو اس نئے عالمی پلیٹ فارم کے عملی نتائج سے ملائیں۔


