-
Mairaj Roonjha
- No Comments
- agentic AI, AI Automation, AI Coding Model, AI development, Artificial Intelligence, Cybersecurity AI, Software Engineering
جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس: کیا اے آئی اب مکمل سافٹ ویئر پروجیکٹ خود سنبھال سکتی ہے؟
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے سافٹ ویئر انجینئرز، ڈیولپرز، ڈیٹا سائنسدانوں اور دیگر پیشہ ور افراد کی توجہ اپنی جانب کر لی ہے۔ اوپن اے آئی نے جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس متعارف کرایا ہے، جسے کمپنی اب تک کا سب سے طاقتور ایجنٹک کوڈنگ ماڈل قرار دے رہی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی کھڑا ہوتا ہے: کیا مصنوعی ذہانت اب صرف کوڈ لکھنے کا آلہ نہیں رہی بلکہ مکمل پیشہ ورانہ کام سنبھالنے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے؟
جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ نہ صرف کوڈ تیار کرے بلکہ کمپیوٹر پر ہونے والے مختلف مراحل کو سمجھ کر انہیں مکمل بھی کرے۔ پہلے کے ماڈلز عام طور پر سوال کا جواب دیتے یا مخصوص کوڈ تیار کرتے تھے، لیکن 5.3 کو ایک ایسے ایجنٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو طویل المدتی کاموں پر مسلسل کام کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی سافٹ ویئر پراجیکٹ میں تحقیق، کوڈنگ، ٹیسٹنگ، بگز کی نشاندہی، تعیناتی اور نگرانی جیسے کئی مراحل شامل ہوں تو یہ ماڈل ان سب کو مربوط انداز میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس نئے ورژن میں دو بڑی خصوصیات کو یکجا کیا گیا ہے: بہتر کوڈنگ کارکردگی اور مضبوط تجزیاتی صلاحیت۔ جی پی ٹی 5.2 کوڈیکس کی کوڈنگ مہارت اور جی پی ٹی 5.2 کی عمومی پیشہ ورانہ سمجھ کو ملا کر 5.3 تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اسے 25 فیصد زیادہ تیز بھی بنایا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ صارفین کو نتائج پہلے کے مقابلے میں کم وقت میں مل سکتے ہیں۔ رفتار میں یہ اضافہ انفراسٹرکچر اور انفرنس سسٹمز میں بہتری کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔
کارکردگی کے اعداد و شمار بھی اس دعوے کی تائید کرتے ہیں۔ ایس ڈبلیو ای بینچ پرو، جو حقیقی دنیا کے سافٹ ویئر انجینئرنگ مسائل کو جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، میں جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس نے تقریباً 56.8 فیصد درستگی حاصل کی۔ اگرچہ یہ شرح مکمل نہیں، لیکن پیچیدہ اور عملی مسائل کے تناظر میں اسے نمایاں پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ ٹرمینل بینچ 2.0 میں، جو کمانڈ لائن مہارت اور عملی سسٹم ہینڈلنگ کو جانچتا ہے، اس کی درستگی تقریباً 77.3 فیصد رہی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ماڈل صرف نظریاتی کوڈ نہیں لکھتا بلکہ عملی کمپیوٹر ماحول میں بھی مؤثر طریقے سے کام کر سکتا ہے۔
او ایس ورلڈ ویری فائیڈ نامی امتحان میں، جہاں ماڈل کو بصری ڈیسک ٹاپ ماحول میں کام مکمل کرنا ہوتا ہے، جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس نے تقریباً 64.7 فیصد درستگی حاصل کی۔ انسانی کارکردگی اس معیار پر تقریباً 72 فیصد بتائی جاتی ہے۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب انسان کے قریب پہنچ رہی ہے، اگرچہ مکمل متبادل ابھی نہیں بنی۔ تاہم اس پیش رفت کو ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس نے اپنی تیاری میں خود کردار ادا کیا۔ اوپن اے آئی کے مطابق ابتدائی ورژنز کو تربیت کی نگرانی، بگز کی نشاندہی اور ڈیٹا کے تجزیے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس سے تحقیق اور انجینئرنگ کے عمل میں تیزی آئی۔ انجینئرز کا کہنا ہے کہ ماڈل نے تربیتی ڈیٹا میں پیٹرنز کی شناخت، انٹریکشن کوالٹی کا تجزیہ اور بہتری کے لیے تجاویز دینے جیسے کام انجام دیے۔ اس طرح مصنوعی ذہانت نے اپنی ہی ترقی کو تیز کرنے میں مدد فراہم کی۔
کوڈنگ سے آگے بڑھتے ہوئے، جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس کو پیشہ ورانہ علم کے کاموں میں بھی آزمایا گیا۔ جی ڈی پی ویَل نامی ایک جائزے میں، جو 44 مختلف پیشوں سے متعلق کاموں کو جانچتا ہے، اس ماڈل نے مضبوط کارکردگی دکھائی۔ ان کاموں میں پریزنٹیشن تیار کرنا، مالیاتی تجزیہ کرنا، اسپریڈ شیٹس بنانا اور دیگر دفتری مصنوعات تیار کرنا شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ماڈل صرف پروگرامرز تک محدود نہیں بلکہ مختلف شعبوں کے پیشہ ور افراد کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ویب ڈیولپمنٹ کے میدان میں بھی اس کی صلاحیتوں کو جانچا گیا۔ کمپنی نے اسے پیچیدہ ویب گیمز تیار کرنے کا کام دیا، جہاں ماڈل نے کئی مرحلوں میں خودکار انداز میں بہتری کی اور بگز کو درست کیا۔ سادہ یا غیر واضح ہدایات کی صورت میں بھی یہ زیادہ مکمل اور فعال ویب صفحات تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی لینڈنگ پیج کی تیاری میں یہ خودکار طور پر سالانہ منصوبے کو رعایتی ماہانہ قیمت کے ساتھ ظاہر کر سکتا ہے، تاکہ صارف کو پیشکش واضح انداز میں سمجھ آئے۔
سائبر سکیورٹی کے حوالے سے جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے اسے سافٹ ویئر کی کمزوریاں تلاش کرنے کی تربیت دی ہے۔ ایک امتحان میں اس نے سائبر سکیورٹی چیلنجز میں تقریباً 77.6 فیصد کارکردگی دکھائی، جو پچھلے ورژنز سے بہتر ہے۔ تاہم چونکہ یہ صلاحیت دفاع اور حملے دونوں میں استعمال ہو سکتی ہے، اس لیے اوپن اے آئی نے اضافی حفاظتی اقدامات نافذ کیے ہیں۔ کچھ حساس درخواستوں کو خودکار طور پر کم طاقتور ماڈل کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ ممکنہ غلط استعمال روکا جا سکے۔
مزید برآں، ٹرسٹڈ ایکسس فار سائبر نامی پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے سیکیورٹی محققین کو ذمہ دارانہ استعمال کے تحت زیادہ رسائی دی جا سکتی ہے۔ کمپنی نے اوپن سورس منصوبوں کے لیے کوڈ اسکیننگ جیسے اقدامات بھی شروع کیے ہیں اور سائبر دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اے پی آئی کریڈٹس مختص کیے ہیں۔ یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید صلاحیتوں کے ساتھ ذمہ داری کا پہلو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
دستیابی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس فی الحال ادائیگی والے چیٹ جی پی ٹی منصوبوں میں دستیاب ہے اور اسے ایپ، کمانڈ لائن انٹرفیس، آئی ڈی ای ایکسٹینشن اور ویب کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اے پی آئی تک محفوظ رسائی پر بھی کام جاری ہے۔ اس ماڈل کو این ویڈیا کے جدید جی بی 200 این وی ایل 72 سسٹمز پر ڈیزائن اور چلایا گیا ہے، جس سے اس کی رفتار اور استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔
اس تمام پیش رفت کے تناظر میں ایک بنیادی سوال اب بھی موجود ہے: کیا مصنوعی ذہانت مکمل طور پر انسان کی جگہ لے سکتی ہے؟ موجودہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس بہت سے عملی کاموں میں انسان کے قریب پہنچ چکا ہے، لیکن مکمل خودمختاری کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ اس کے باوجود، یہ واضح ہے کہ کام کرنے کا طریقہ بدل رہا ہے۔ جہاں پہلے مصنوعی ذہانت محض معاون تھی، اب وہ ایک باہمی تعاون کرنے والا ساتھی بنتی جا رہی ہے جو تحقیق، تجزیہ، تعمیر اور عملدرآمد سب میں حصہ لے سکتی ہے۔
مستقبل میں اس قسم کے ماڈلز کا اثر صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہے گا۔ کاروبار، تعلیم، تحقیق اور سرکاری اداروں میں بھی ایسے نظام استعمال ہو سکتے ہیں جو پیچیدہ کاموں کو خودکار انداز میں مکمل کریں۔ تاہم اس کے ساتھ نگرانی، شفافیت اور ذمہ داری کے تقاضے بھی بڑھیں گے۔ جیسے جیسے صلاحیتیں بڑھتی ہیں، ویسے ویسے ان کے اثرات کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے۔
جی پی ٹی 5.3 کوڈیکس کو ایک ایسے مرحلے کی علامت سمجھا جا سکتا ہے جہاں مصنوعی ذہانت کوڈ لکھنے والے آلے سے آگے بڑھ کر ایک مکمل ڈیجیٹل ساتھی کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ یہ ماڈل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل میں کمپیوٹر پر کام کرنے کا انداز زیادہ خودکار، زیادہ تیز اور زیادہ مربوط ہو سکتا ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کیا لکھ سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس حد تک سوچ، عمل اور تکمیل کے مراحل کو خود سنبھال سکتی ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو آنے والے برسوں میں پیشہ ورانہ دنیا کی شکل بدل سکتی ہے۔
No Comments