-
Miraj Roonjha
- No Comments
- AI in education, audio lessons, digital learning, Gemini education, Google Classroom
گوگل کلاس روم میں جیمِنائی: آڈیو اسباق کس طرح طلبہ کو بہتر سکھا سکتے ہیں؟
تعلیم ہمیشہ سے صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہیں رہی، بلکہ اصل مقصد یہ رہا ہے کہ علم کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ طالب علم اسے سمجھ بھی سکے اور اس سے جُڑ بھی جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تدریسی طریقے بدلے ہیں، بلیک بورڈ سے پروجیکٹر تک اور پھر آن لائن کلاسز تک۔ مگر اس تمام سفر میں ایک حقیقت مستقل رہی ہے۔ ہر طالب علم ایک جیسا نہیں سیکھتا کوئی پڑھ کر سیکھتا ہے، کوئی دیکھ کر، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سن کر زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے اب گوگل نے تعلیم کے میدان میں ایک نیا قدم اٹھایا ہے، جس کے تحت جیمِنائی کی مدد سے گوگل کلاس روم میں پوڈکاسٹ طرز کے آڈیو اسباق تیار کیے جا سکتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ نیا فیچر کیا ہے۔ سادہ الفاظ میں، اب اساتذہ گوگل کلاس روم کے اندر ہی آڈیو لیسن بنا سکتے ہیں، جو کسی تعلیمی پوڈکاسٹ کی طرح ہوں گے۔ یہ آڈیو اسباق کسی ایک استاد کی گفتگو پر مشتمل ہو سکتے ہیں، دو افراد کے درمیان مکالمہ ہو سکتا ہے، یا انٹرویو کے انداز میں تیار کیے جا سکتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس سب کے پیچھے جیمِنائی کی مصنوعی ذہانت کام کر رہی ہوتی ہے، جو اساتذہ کی دی گئی ہدایات کی بنیاد پر مواد تیار کرتی ہے۔
یہ سہولت کن لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے؟ بظاہر تو یہ اساتذہ کے لیے ایک نیا ٹول ہے، مگر اس کا اصل فائدہ طلبہ کو پہنچتا ہے۔ خاص طور پر وہ طلبہ جو کلاس میں سوال پوچھنے میں ہچکچاتے ہیں، یا جنہیں لمبی تحریری وضاحتیں سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ آڈیو لیسن ایسے طلبہ کے لیے مددگار ثابت ہوتے ہیں کیونکہ وہ انہیں اپنی رفتار سے سن سکتے ہیں۔ چاہے وہ گھر پر ہوں، اسکول جاتے ہوئے بس میں بیٹھے ہوں، یا کسی خاموش وقت میں سبق دہرانا چاہتے ہوں، آڈیو ان کے لیے ایک آسان ذریعہ بن جاتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ گوگل نے یہ سہولت کیوں متعارف کرائی۔ پچھلے چند برسوں میں تعلیم کا انداز تیزی سے بدلا ہے۔ آن لائن اور ہائبرڈ تعلیم عام ہو چکی ہے، اور اساتذہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ طلبہ کی توجہ کیسے برقرار رکھیں۔ ایک ہی لیکچر یا ایک ہی نوٹ ہر طالب علم کے لیے مؤثر نہیں ہوتا۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق، جب ایک ہی موضوع کو مختلف انداز میں پیش کیا جائے تو سیکھنے کا عمل زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ آڈیو لیسن اسی سوچ کا عملی اظہار ہیں، جہاں تعلیم کو صرف پڑھنے یا دیکھنے تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ سننے کو بھی ایک اہم ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ نیا فیچر کہاں دستیاب ہے؟ گوگل کے مطابق، یہ سہولت گوگل کلاس روم کے اندر موجود جیمِنائی ٹیب کے ذریعے استعمال کی جا سکتی ہے۔ اساتذہ کو کسی الگ آڈیو ریکارڈنگ سافٹ ویئر یا پیچیدہ ٹول کی ضرورت نہیں۔ سب کچھ ایک ہی پلیٹ فارم پر موجود ہے، جس سے غیر تکنیکی اساتذہ کے لیے بھی اس کا استعمال آسان ہو جاتا ہے۔ یہ فیچر Google Workspace for Education کے Education Fundamentals، Standard اور Plus ایڈیشنز میں دستیاب ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوگل اسے محدود نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر متعارف کرانا چاہتا ہے۔
اگر بات کی جائے کہ یہ سہولت کب سے دستیاب ہو گی، تو گوگل نے واضح کیا ہے کہ اس کا مرحلہ وار آغاز 6 جنوری 2026 سے کیا جا رہا ہے۔ Rapid Release اور Scheduled Release دونوں اقسام کے ڈومینز میں ایک سے تین دن کے اندر یہ فیچر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سال کے آغاز ہی میں بہت سے تعلیمی ادارے اس نئی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اب آتے ہیں سب سے اہم سوال کی طرف، یعنی یہ نظام کیسے کام کرتا ہے۔ اساتذہ کے لیے اس کا طریقہ کار نہایت سادہ رکھا گیا ہے۔ استاد گوگل کلاس روم کھولتا ہے، جیمِنائی ٹیب پر جاتا ہے اور آڈیو لیسن بنانے کا آپشن منتخب کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ جماعت کا انتخاب کرتا ہے، موضوع درج کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اس سبق کا مقصد کیا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر مقصد کسی تاریخی واقعے کی وضاحت ہے تو آڈیو کو کہانی کے انداز میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ اگر مقصد کسی سائنسی تصور کو سمجھانا ہے تو گفتگو یا سوال و جواب کا انداز اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ان ہدایات کی بنیاد پر جیمِنائی آڈیو مواد تیار کرتا ہے، جسے استاد بعد میں سن کر اپنی ضرورت کے مطابق بہتر بنا سکتا ہے۔
گوگل اس بات پر زور دیتا ہے کہ اساتذہ تیار شدہ آڈیو کو ضرور جانچیں۔ مصنوعی ذہانت بعض اوقات غلطی بھی کر سکتی ہے، اس لیے حتمی ذمہ داری استاد پر ہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیچر کو استاد کے لیے مددگار بنایا گیا ہے، متبادل نہیں۔ استاد ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا مواد طلبہ کے لیے موزوں ہے اور کون سا نہیں۔
انتظامی سطح پر بھی اس فیچر کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے ایڈمنز یہ طے کر سکتے ہیں کہ کون سے اساتذہ جیمِنائی استعمال کر سکیں گے۔ یہ سہولت صرف اُن صارفین کے لیے دستیاب ہے جن کی عمر ادارے کے ریکارڈ کے مطابق 18 سال یا اس سے زیادہ ہو۔ ایڈمن کنسول کے ذریعے اس سروس کو آن یا آف کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، جس سے اداروں کو اپنی پالیسیوں کے مطابق فیصلے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
اساتذہ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سہولت کئی مسائل کا حل پیش کرتی ہے۔ کلاس میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ طلبہ پہلی بار میں بات سمجھ نہیں پاتے اور بار بار وہی سوال پوچھتے ہیں۔ آڈیو لیسن کی صورت میں استاد ایک بار وضاحت کر دیتا ہے، اور طلبہ جب چاہیں اسے دوبارہ سن سکتے ہیں۔ اس طرح استاد کا وقت بھی بچتا ہے اور طلبہ کی سمجھ بھی بہتر ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ آڈیو لیسن خاص طور پر اُن طلبہ کے لیے مفید ہیں جنہیں پڑھنے میں دقت ہوتی ہے یا جو سن کر زیادہ بہتر سیکھتے ہیں۔
غیر تکنیکی اساتذہ کے لیے بھی یہ فیچر اہم ہے کیونکہ انہیں کسی خاص آڈیو ریکارڈنگ یا ایڈیٹنگ کی تربیت نہیں لینا پڑتی۔ نہ مائیکروفون سیٹ کرنے کی فکر، نہ فائل ایڈیٹ کرنے کی جھنجھٹ۔ سب کچھ خودکار طریقے سے گوگل کلاس روم کے اندر ہی ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل اسے پوڈکاسٹ اسٹائل لرننگ کہہ رہا ہے، کیونکہ اس کا مقصد خشک لیکچر کے بجائے ایک دوستانہ اور قدرتی گفتگو فراہم کرنا ہے۔
طلبہ کے لیے اس فیچر کے فوائد بھی کم نہیں۔ آڈیو لیسن انہیں آزادی دیتے ہیں کہ وہ اپنی رفتار سے سیکھ سکیں۔ اگر کسی حصے کی سمجھ نہ آئے تو وہ دوبارہ سن سکتے ہیں۔ اگر کسی دن کلاس مس ہو جائے تو آڈیو ان کے لیے ایک متبادل بن سکتا ہے۔ اس طرح تعلیم صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتی بلکہ ہر وقت، ہر جگہ دستیاب ہو جاتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جیمِنائی کے ذریعے گوگل کلاس روم میں آڈیو لیسن بنانے کی سہولت تعلیم کے شعبے میں ایک عملی اور سوچا سمجھا قدم ہے۔ یہ نہ صرف اساتذہ کو نئے تدریسی طریقے اپنانے کا موقع دیتی ہے بلکہ طلبہ کے لیے سیکھنے کو زیادہ آسان، دلچسپ اور شامل کرنے والا بناتی ہے۔ اگر اساتذہ اس فیچر کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور مواد کو اپنی کلاس کی ضروریات کے مطابق ڈھالیں، تو یہ آڈیو اسباق آنے والے وقت میں تعلیم کا ایک اہم حصہ بن سکتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تعلیم کا مستقبل صرف کتابوں یا اسکرینز میں نہیں بلکہ اُن آوازوں میں بھی ہے جو علم کو آسان اور قابلِ فہم بناتی ہیں۔ جیمِنائی کے ذریعے آڈیو لیسن اسی سمت میں ایک قدم ہیں، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر ٹیکنالوجی کو درست انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ واقعی عام لوگوں، اساتذہ اور طلبہ سب کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
Share this:
- Click to share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Click to share on X (Opens in new window) X
- Click to email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Click to share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn
- Click to share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Click to share on Threads (Opens in new window) Threads
- Click to share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp


No Comments