دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اب محض ایک تکنیکی اصطلاح نہیں رہی بلکہ روزگار، تعلیم اور کاروبار کے ڈھانچے کو بدلنے والی حقیقت بن چکی ہے۔ ایسے وقت میں جب اے آئی ٹولز دفاتر، فیکٹریوں اور کلاس رومز میں جگہ بنا رہے ہیں، امریکہ کی ریاست میساچوسٹس نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ گوگل اور میساچوسٹس اے آئی ہب نے مشترکہ طور پر اعلان کیا ہے کہ ریاست کے ہر رہائشی کو مفت اے آئی اور کیریئر ٹریننگ فراہم کی جائے گی، تاکہ عام افراد بھی اس بدلتی دنیا میں پیچھے نہ رہ جائیں۔
یہ اعلان گورنر مورا ہیلی کی موجودگی میں کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا کہ یہ پروگرام گوگل کے “گرو ود گوگل” اقدام کے تحت چلایا جائے گا۔ اس کے ذریعے میساچوسٹس کے شہریوں کو نہ صرف اے آئی کے بنیادی تصورات سکھائے جائیں گے بلکہ عملی مہارتیں بھی دی جائیں گی جنہیں وہ اپنے روزمرہ کام میں استعمال کر سکیں۔ اس میں گوگل کا نیا اے آئی پروفیشنل سرٹیفکیٹ اور پہلے سے موجود گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام شامل ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو سمجھنا کسی خاص طبقے تک محدود نہ رہے بلکہ ہر شہری کو یکساں موقع ملے۔
گوگل کے مطابق اے آئی اب صرف پروگرامرز یا انجینئرز کی مہارت نہیں رہی۔ ایک دفتری ملازم ای میل لکھنے، ڈیٹا ترتیب دینے یا پریزنٹیشن تیار کرنے میں اے آئی کی مدد لے سکتا ہے۔ ایک چھوٹا کاروباری مارکیٹنگ اور صارفین کے تجزیے کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کر سکتا ہے۔ اسی طرح طلبہ تحقیق اور تخلیقی منصوبوں میں ان ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس تربیت کا مقصد لوگوں کو یہ سکھانا ہے کہ وہ ان ٹولز کو محفوظ، مؤثر اور ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کریں۔
اے آئی پروفیشنل سرٹیفکیٹ خاص طور پر اس بات پر زور دیتا ہے کہ صارفین مصنوعی ذہانت کو سمجھیں اور اس کے عملی اطلاق سے واقف ہوں۔ اس میں بنیادی تصورات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں اے آئی کو کیسے شامل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام پہلے ہی آئی ٹی سپورٹ، ڈیٹا اینالیٹکس، سائبر سکیورٹی اور دیگر شعبوں میں تربیت فراہم کر رہا ہے، اور اب اس میں اے آئی سے متعلق مہارتوں کو مزید شامل کیا جا رہا ہے۔
میساچوسٹس کو امریکہ میں تعلیم اور تحقیق کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں عالمی شہرت یافتہ جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیاں موجود ہیں، اور گوگل کا بھی کیمبرج میں دفتر قائم ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ وہ اس ریاست کو اپنا گھر سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہاں کے رہائشی اے آئی کے دور میں سبقت حاصل کریں۔ گورنر مورا ہیلی کے مطابق یہ پروگرام اس لیے اہم ہے کہ مستقبل کی معیشت میں کامیابی کے لیے نئی مہارتیں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ اگر شہریوں کو بروقت تربیت فراہم کی جائے تو وہ بدلتے ہوئے روزگار کے ماحول میں خود کو بہتر طریقے سے ڈھال سکتے ہیں۔
یہ اقدام صرف میساچوسٹس تک محدود نہیں گوگل اس سے قبل آرکنساس، کنیکٹی کٹ، اوکلاہوما اور ورجینیا میں بھی اسی نوعیت کے پروگرام شروع کر چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر مقامی سطح پر اے آئی خواندگی کو فروغ دینے کی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے۔ اس ماڈل کا مقصد یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ عوامی مہارتوں کو بھی اپڈیٹ رکھا جائے۔
ماہرین کے مطابق آج کے دور میں اے آئی خواندگی ایک بنیادی مہارت بنتی جا رہی ہے۔ جیسے ایک وقت میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا استعمال سیکھنا ضروری سمجھا جاتا تھا، ویسے ہی اب اے آئی ٹولز کو سمجھنا اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر کارکنان ان ٹولز سے ناواقف رہیں تو وہ نہ صرف پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع کھو سکتے ہیں بلکہ بدلتی معیشت میں پیچھے بھی رہ سکتے ہیں۔
گوگل اور میساچوسٹس اے آئی ہب کی یہ شراکت داری دراصل اس وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جس میں ٹیکنالوجی کمپنیاں صرف مصنوعات بنانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ صارفین کی تربیت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنے لگی ہیں۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اے آئی کا مستقبل صرف انجینئرنگ لیبارٹریوں میں نہیں بلکہ عام لوگوں کے روزمرہ کاموں میں بھی طے ہوگا۔
یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ پروگرام کتنے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، مگر ایک بات واضح ہے کہ مہارتوں کی اپ گریڈیشن اب عارضی نہیں بلکہ مستقل ضرورت بن چکی ہے۔ اگر ایسے اقدامات مسلسل اور مؤثر طریقے سے جاری رہے تو ممکن ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار تبدیلی کو ایک منظم اور مثبت سمت دی جا سکے۔
بالآخر، مصنوعی ذہانت کا دور صرف ٹیکنالوجی بنانے والوں کا نہیں بلکہ اسے استعمال کرنے والوں کا بھی ہے۔ میساچوسٹس میں شروع ہونے والا یہ مفت تربیتی پروگرام اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی معیشت میں کامیابی کے لیے علم اور مہارت سب کے لیے قابلِ رسائی ہونی چاہیے۔
Hi! I’m Mairaj Roonjha, a Computer Science student, Web developer, Content creator, Urdu AI blogger, and a changemaker from Lasbela, Balochistan. I’m currently studying at Lasbela University of Agriculture, Water and Marine Sciences (LUAWMS), where I focus on web development, artificial intelligence, and using tech for social good. As the founder and lead of the Urdu AI project, I’m passionate about making artificial intelligence more accessible for Urdu-speaking communities. Through this blog, I aim to break down complex tech concepts into simple, relatable content that empowers people to learn and grow. I also work with the WALI Lab of Innovation to help reduce the digital divide in rural areas.
No Comments