گوگل کا سالانہ جائزہ 2025: مصنوعی ذہانت کے 60 بڑے اعلانات
سال 2025 کے اختتام پر جب گوگل نے اپنی ویب سائٹ پر سالانہ کارکردگی کا جائزہ شائع کیا، تو یہ محض اعداد و شمار کی فہرست نہیں تھی بلکہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑے انقلاب کا اعلان نامہ تھا۔ اس تفصیلی رپورٹ کے مطابق، 2025 گوگل کے لیے محض چند نئے فیچرز متعارف کرانے کا سال نہیں تھا، بلکہ یہ وہ سال ثابت ہوا جب مصنوعی ذہانت نے پورے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ گوگل نے اس سال کے دوران 60 سے زائد ایسے بڑے اعلانات کیے جنہوں نے اینڈرائیڈ، کروم، گوگل میپس، اور کلاؤڈ سروسز کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ جنوری سے دسمبر تک ہر مہینے ہونے والی پیش رفت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ گوگل نے “جیمینی” ماڈلز کے ذریعے اے آئی کو لیبز سے نکال کر براہِ راست اربوں صارفین کی جیبوں اور گھروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ سفر صرف ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کا نہیں تھا بلکہ انسانی زندگی میں ٹیکنالوجی کے کردار کی نئی تعریف کا تھا۔
سال کا آغاز ہی ایک بڑے دعوے کے ساتھ ہوا جب جنوری میں گوگل نے “نیا سال، نئی اے آئی” کا نعرہ بلند کیا۔ کمپنی نے پہلے ہی مہینے میں یہ واضح کر دیا کہ اب فون صرف بات کرنے یا انٹرنیٹ چلانے کا آلہ نہیں رہے گا بلکہ ایک ذہین ذاتی معاون کا کردار ادا کرے گا۔ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں جیمینی کی گہری انضمام (Integration) کے ذریعے فون کو اس قابل بنایا گیا کہ وہ صارفین کے پیغامات کے سیاق و سباق کو سمجھ سکے۔ اب فون طویل اور پیچیدہ ای میلز کا خلاصہ خود تیار کرتا ہے، پیغامات کے مسودے لکھتا ہے اور مختلف ایپس کے دوران صارف کی رہنمائی کرتا ہے۔ سام سنگ کے ساتھ شراکت داری اور گوگل ٹی وی میں نئی تبدیلیوں نے یہ ثابت کیا کہ گوگل اے آئی کو صرف اپنے پکسل فونز تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ اسے تفریح اور تعلیم سمیت ہر شعبے میں پھیلانے کا عزم رکھتا ہے۔
فروری میں گوگل کے سربراہ سندر پچائی نے ایک تاریخی تجزیہ پیش کیا جس میں انہوں نے اے آئی کو بجلی اور انٹرنیٹ کی ایجاد سے بھی زیادہ بڑی تبدیلی قرار دیا۔ اسی وژن کے تحت “جیمینی 2.0” ماڈل کو تمام صارفین کے لیے جاری کر دیا گیا۔ لیکن اس مہینے کی سب سے بڑی خبر ڈویلپرز اور کوڈرز کے لیے تھی جب گوگل نے جیمینی کوڈ اسسٹنٹ کو بلا معاوضہ فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام نے دنیا بھر کے طلبہ، اسٹارٹ اپس اور انفرادی ڈویلپرز کو یہ طاقت دی کہ وہ مہنگے ٹولز خریدے بغیر اپنے کوڈ کی اصلاح، تکمیل اور ڈی بگنگ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی کیریئر کی رہنمائی اور سائنسی تحقیق کے لیے مخصوص اے آئی ٹولز کا اجرا اس بات کا ثبوت تھا کہ گوگل ٹیکنالوجی کو صرف تجارتی مقاصد کے لیے نہیں بلکہ انسانی ترقی اور سائنسی دریافتوں کے لیے بھی استعمال کر رہا ہے۔
مارچ کا مہینہ عام انٹرنیٹ صارفین کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل رہا کیونکہ اس ماہ گوگل سرچ کا روایتی انداز ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔ گوگل نے اے آئی اوورویوز (AI Overviews) متعارف کرائے۔ اب صارفین کو صرف نیلی لنکس کی فہرست نہیں ملتی بلکہ پیچیدہ سوالات، جیسے سفر کی منصوبہ بندی یا تعلیمی خاکے، کا مکمل جواب اور موازنہ اسکرین پر براہِ راست نظر آتا ہے۔ اسی مہینے “جیمینی 2.5” کا اجرا ہوا جسے اس وقت کا سب سے ذہین ماڈل قرار دیا گیا، جو طویل ترین تحریروں اور پیچیدہ استدلال کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ساتھ ہی، کم وسائل رکھنے والے محققین کے لیے (Gemma 3) ماڈل پیش کیا گیا جو عام کمپیوٹرز پر چل سکتا ہے، جس نے اے آئی کی تحقیق کو جمہوری بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سال کے وسط کی طرف بڑھتے ہوئے، اپریل اور مئی میں گوگل نے انفراسٹرکچر اور تخلیقی صلاحیتوں پر بھرپور توجہ دی۔ اپریل میں “آئرن ووڈ” نامی طاقتور چپ متعارف کرائی گئی جس نے اے آئی ماڈلز کو تیز اور سستا بنایا۔ تخلیقی محاذ پر “گوگل وِڈز” (Google Vids) کا ظہور ہوا جس نے تحریری ہدایات کو ویڈیو میں تبدیل کرنے کی سہولت دے کر مارکیٹنگ اور کنٹینٹ کریئٹرز کی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ مئی میں ہونے والی گوگل I/O کانفرنس میں 100 سے زائد اعلانات کیے گئے، جن میں سب سے نمایاں “Ask Photos” کا فیچر تھا، جس کے ذریعے صارفین اپنی تصاویر کی گیلری سے سوال پوچھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ویڈیو سازی اور ایڈیٹنگ کے لیے جیمینی کی نئی صلاحیتوں نے یہ واضح کر دیا کہ مستقبل میں مواد کی تخلیق میں انسانی محنت کے ساتھ اے آئی کی معاونت لازمی ہوگی۔
جون اور جولائی کے مہینوں میں گوگل نے اپنی توجہ صارف کے تجربے کو زیادہ فطری اور سہل بنانے پر مرکوز رکھی۔ جون میں اینڈرائیڈ 16 کی پہلی جھلک دکھائی گئی جس میں اے آئی کے ساتھ مکالمہ کرنے کا انداز بالکل انسانوں جیسا کر دیا گیا۔ “تلاش براہِ راست” (Search Live) کے فیچر نے صارفین کو یہ سہولت دی کہ وہ اپنے کیمرے کے ذریعے حقیقی وقت میں سوال پوچھ سکیں اور جواب حاصل کر سکیں، جو سفر اور سیاحت کے لیے ایک انقلابی قدم تھا۔ جولائی میں جی میل کے اندر “ان باکس کلین اپ” کا فیچر بہت مقبول ہوا جس نے فضول ای میلز اور اشتہارات کو خودکار طریقے سے الگ کر کے صارفین کا قیمتی وقت بچایا۔ اسی دوران پکسل فونز کے لیے نئی اپ ڈیٹس نے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کے ملاپ کو مزید مضبوط کیا۔
اگست اور ستمبر میں گوگل نے ہارڈویئر اور براؤزنگ کے تجربے کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ اگست میں پکسل 10 سیریز کا آغاز ہوا جسے “اے آئی فرسٹ” فونز کہا گیا۔ یہ فون صارف کی عادات اور ضروریات کا پہلے سے اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتے تھے، گویا یہ فون نہیں بلکہ ایک فعال ڈیجیٹل ساتھی تھے۔ ستمبر میں کروم براؤزر کو ایک سادہ ویب ویور سے نکال کر ایک پروڈکٹیوٹی پلیٹ فارم بنا دیا گیا جو کھلی ہوئی ٹیبز کو ترتیب دینے، مضامین کا خلاصہ کرنے اور محفوظ براؤزنگ کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب گوگل نے اپنے پورے ایکو سسٹم لیپ ٹاپ سے لے کر فون تک میں اے آئی کو ایک بنیادی جزو کی حیثیت دے دی۔
سال کے آخری مہینوں، یعنی اکتوبر سے دسمبر تک، گوگل نے اے آئی کی فعالیت اور رفتار پر کام کیا۔ اکتوبر میں “ایجنٹک اے آئی” (Agentic AI) کا تصور پیش کیا گیا، یعنی ایسا اے آئی جو صرف مشورہ نہ دے بلکہ صارف کی طرف سے عملی اقدامات بھی کر سکے، جیسے فارم بھرنا یا خریداری کرنا۔ نومبر میں “جیمینی 3” ماڈلز کا اعلان ہوا جو ملٹی موڈل صلاحیتوں (تصویر، آواز، ویڈیو) میں پہلے سے کہیں زیادہ تیز تھے۔ دسمبر میں “جیمینی 3 فلیش” نے رفتار کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور گوگل ٹرانسلیٹ میں ریئل ٹائم ترجمے کی سہولیات نے دنیا سے زبانوں کا فاصلہ مٹا دیا۔
آخر میں، گوگل کا 2025 کا یہ سفر جہاں تکنیکی معجزات سے بھرپور رہا، وہیں کمپنی نے سالانہ جائزے کے اختتام پر ایک سنجیدہ نوٹ بھی چھوڑا۔ گوگل نے تسلیم کیا کہ اے آئی کی اس تیز رفتار ترقی نے پرائیویسی، ڈیٹا کے تحفظ، الگورتھم کی شفافیت اور روزگار کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کیے ہیں۔ 2025 نے ہمیں دکھایا کہ اے آئی کیا کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن آنے والا سال یعنی 2026 غالباً ان اصولوں اور ضوابط کو طے کرنے کا سال ہوگا جن کے تحت اس طاقتور ٹیکنالوجی کو انسانیت کی فلاح کے لیے محفوظ طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔ بلاشبہ، 2025 ڈیجیٹل تاریخ کا وہ موڑ تھا جہاں سے واپسی ممکن نہیں، اور اب ہم ایک مکمل طور پر اے آئی سے جڑی دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔


Anonymous
بہت خوب