گوگل جیمنی نے موسیقی تخلیق کرنے کا نیا فیچر متعارف کرا دیا
آج کل سوشل میڈیا پر گانا بنانا، ویڈیو میں میوزک شامل کرنا یا کسی خاص لمحے کے لیے ذاتی دھن تیار کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ اب گوگل نے اپنے جمنی ایپ میں ایک نئی سہولت شامل کی ہے جس کے ذریعے عام صارف بھی صرف چند لفظ لکھ کر یا ایک تصویر اپ لوڈ کر کے 30 سیکنڈ کا مکمل گانا بنا سکتا ہے۔ اس نئے فیچر کے پیچھے گوگل ڈیپ مائنڈ کا میوزک ماڈل “لیریا 3” کام کر رہا ہے، جسے فروری 2026 میں بیٹا ورژن میں متعارف کرایا گیا۔
سادہ الفاظ میں اگر آپ جمنی ایپ میں لکھیں کہ “ایک مزاحیہ آر اینڈ بی گانا جس میں ایک جراب اپنی جوڑی ڈھونڈ رہی ہو” تو چند سیکنڈ بعد آپ کو ایک مکمل دھن سننے کو مل سکتی ہے، جس میں بول، میوزک اور انداز سب شامل ہوں گے۔ اگر آپ کے پاس کوئی تصویر ہے، مثلاً اپنے پالتو کتے کی جنگل میں سیر کی تصویر، تو آپ اسے اپ لوڈ کر کے کہہ سکتے ہیں کہ “ان تصاویر کی بنیاد پر ایک خوشگوار گانا بنائیں”۔ جمنی اس تصویر کے ماحول کو سمجھ کر اسی مزاج کا گانا تیار کرنے کی کوشش کرے گا۔
گوگل کے مطابق لیریا 3 پچھلے ورژنز کے مقابلے میں تین بڑی بہتریاں لاتا ہے۔ پہلی بات، اب آپ کو خود بول لکھنے کی ضرورت نہیں، سسٹم آپ کے دیے گئے خیال کی بنیاد پر خود ہی بول تیار کر لیتا ہے۔ دوسری بات، آپ کو زیادہ تخلیقی کنٹرول دیا گیا ہے، جیسے گانے کا انداز، رفتار، آواز کی نوعیت یا صرف سازوں پر مشتمل ٹریک۔ تیسری بات، اب بننے والے گانے پہلے سے زیادہ حقیقی اور موسیقی کے لحاظ سے پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
یہ گانے 30 سیکنڈ کے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک کور آرٹ بھی تیار کیا جاتا ہے، جو گوگل کے ایک اور اے آئی سسٹم کے ذریعے بنایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد شاہکار تخلیق کرنا نہیں بلکہ صارفین کو ایک ذاتی اور دلچسپ انداز میں اظہار کا موقع دینا ہے۔ یعنی آپ اپنی سالگرہ، دوست کے لیے سرپرائز یا کسی یادگار لمحے کے لیے فوری طور پر ایک مختصر گانا بنا سکتے ہیں۔
جمنی کے اس فیچر کو یوٹیوب کے تخلیق کار بھی استعمال کر سکیں گے۔ “ڈریم ٹریک” کے ذریعے ویڈیوز کے لیے مخصوص بیک گراؤنڈ میوزک یا گانے کے بول تیار کیے جا سکتے ہیں، تاکہ شارٹس ویڈیوز زیادہ دلکش بن سکیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ اس سے مواد بنانے والوں کو اپنی ویڈیوز کے لیے زیادہ ذاتی اور منفرد ساؤنڈ ٹریک تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا یہ سب محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں ہو رہا ہے؟ گوگل کا کہنا ہے کہ ہر تیار شدہ گانے میں “سنتھ آئی ڈی” نامی ایک پوشیدہ ڈیجیٹل واٹرمارک شامل کیا جاتا ہے، جس سے یہ شناخت کی جا سکتی ہے کہ یہ مواد اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی صارف کسی فائل کو اپ لوڈ کر کے پوچھے کہ آیا یہ گوگل اے آئی سے بنی ہے یا نہیں، تو جمنی اس کی جانچ کر سکتا ہے۔
کاپی رائٹ کے حوالے سے بھی کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ لیریا 3 کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ کسی خاص گلوکار یا بینڈ کی نقل نہ کرے۔ اگر کوئی صارف کسی مخصوص فنکار کا نام لے تو جمنی اسی طرز یا ماحول سے متاثر ہو کر گانا بنائے گا، مگر براہِ راست نقل نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ، فلٹرز بھی موجود ہیں جو تیار شدہ مواد کو موجودہ گانوں سے ملا کر دیکھتے ہیں تاکہ حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔
یہ فیچر فی الحال 18 سال سے زائد عمر کے صارفین کے لیے دستیاب ہے اور کئی زبانوں میں کام کر رہا ہے، جن میں انگریزی، جرمن، ہسپانوی، فرانسیسی، ہندی، جاپانی، کوریائی اور پرتگالی شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ ڈیسک ٹاپ پر دستیاب کیا گیا ہے اور چند دنوں میں موبائل ایپ پر بھی آ جائے گا۔ ادا شدہ سبسکرپشن رکھنے والے صارفین کو زیادہ حد تک استعمال کی سہولت ملے گی۔
اگر ہم اس پیش رفت کو عام زندگی کے تناظر میں دیکھیں تو یہ موسیقی کے میدان میں ایک نئی تبدیلی کی علامت ہے۔ پہلے گانا بنانے کے لیے ساز، اسٹوڈیو، وقت اور مہارت درکار ہوتی تھی۔ اب صرف ایک خیال اور چند الفاظ کافی ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کیا اس سے پیشہ ور موسیقاروں پر اثر پڑے گا، یا یہ محض ایک تفریحی اور تخلیقی آلہ ثابت ہوگا؟
فی الحال گوگل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں ایک ذاتی ساؤنڈ ٹریک شامل کرنے کا موقع دینا ہے۔ یعنی یہ ایک مزے دار، تخلیقی اور فوری اظہار کا ذریعہ ہے، نہ کہ پیشہ ورانہ موسیقی کی جگہ لینے والا نظام۔ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچے گی، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن اتنا واضح ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف متن اور تصاویر تک محدود نہیں رہی، بلکہ موسیقی کے میدان میں بھی قدم رکھ چکی ہے۔
No Comments