مصنوعی ذہانت کی دنیا میں پیش رفت کی رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے کہ ہر چند ہفتوں بعد ایک نیا ماڈل سامنے آتا ہے جو پچھلے سے زیادہ ذہین اور زیادہ مؤثر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ 19 فروری 2026 کو گوگل نے جمینی 3.1 پرو متعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ماڈل اُن کاموں کے لیے تیار کیا گیا ہے جہاں صرف ایک سادہ جواب کافی نہیں ہوتا بلکہ مسئلے کو گہرائی سے سمجھنے، مختلف معلومات کو جوڑنے اور منطقی انداز میں حل پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ گوگل کے مطابق یہ دراصل وہ بنیادی اپ گریڈ ہے جس نے حالیہ جمینی 3 ڈیپ تھنک جیسے فیچرز کو مزید طاقتور بنایا ہے۔
جمینی 3.1 پرو کو صرف ایک تحقیقی ماڈل کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ اسے مختلف پلیٹ فارمز پر بیک وقت متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ اس کی صلاحیت عام صارفین، ڈویلپرز اور کاروباری اداروں تک پہنچ سکے۔ ڈویلپرز اسے جمینی اے پی آئی، گوگل اے آئی اسٹوڈیو، جمینی سی ایل آئی اور اینٹی گریویٹی پلیٹ فارم کے ذریعے آزما سکتے ہیں، جبکہ کاروباری صارفین کے لیے یہ ورٹیکس اے آئی اور جمینی انٹرپرائز میں دستیاب ہے۔ عام صارفین جمینی ایپ اور نوٹ بک ایل ایم کے ذریعے اس ماڈل سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس طرح گوگل نے اسے صرف تجرباتی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے عملی استعمال کا حصہ بنا دیا ہے۔
اگر اسے سادہ الفاظ میں سمجھا جائے تو جمینی 3.1 پرو کا مقصد ایسے مسائل حل کرنا ہے جن میں کئی پرتیں ہوں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم کسی مشکل سائنسی نظریے کو سمجھنا چاہے تو یہ ماڈل نہ صرف وضاحت فراہم کرتا ہے بلکہ اسے اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ سمجھنا آسان ہو جائے۔ اسی طرح اگر کوئی کاروباری شخص مختلف رپورٹس اور ڈیٹا کو ایک مربوط تصویر میں دیکھنا چاہے تو یہ ماڈل معلومات کو ترتیب دے کر قابلِ فہم خلاصہ پیش کر سکتا ہے۔ گوگل کا دعویٰ ہے کہ یہ محض سوال و جواب کا نظام نہیں بلکہ ایک ایسا ٹول ہے جو پیچیدہ سوچ کو عملی مدد میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔
کمپنی نے اس کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے عالمی معیار کے بینچ مارکس کا حوالہ بھی دیا ہے۔ خاص طور پر ARC-AGI-2 نامی ٹیسٹ میں جمینی 3.1 پرو نے 77.1 فیصد اسکور حاصل کیا، جو پچھلے ورژن کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ یہ ٹیسٹ اس بات کو پرکھتا ہے کہ کوئی ماڈل بالکل نئے اور غیر مانوس منطقی پیٹرنز کو کس حد تک سمجھ سکتا ہے۔ گوگل کے مطابق یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ 3.1 پرو زیادہ مضبوط استدلال اور بہتر مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جمینی 3.1 پرو صرف تحریری جواب دینے تک محدود نہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف ویب سائٹ کے لیے ایک متحرک اینیمیٹڈ ڈیزائن چاہتا ہے تو یہ ماڈل براہِ راست کوڈ کی شکل میں ایسا ڈیزائن تیار کر سکتا ہے جو صاف، ہلکا اور مختلف سکرین سائز پر واضح نظر آئے۔ چونکہ یہ ویڈیو کی بجائے خالص کوڈ پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے فائل کا حجم کم رہتا ہے اور ویب سائٹ کی رفتار متاثر نہیں ہوتی۔ اس طرح یہ تخلیقی اور تکنیکی دونوں میدانوں میں مدد فراہم کرتا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل فی الحال پری ویو مرحلے میں جاری کیا گیا ہے تاکہ صارفین کی رائے حاصل کی جا سکے اور مزید بہتری لائی جا سکے۔ پچھلے ورژن کے بعد صارفین کی آراء اور تیز رفتار تحقیق نے اس اپ ڈیٹ کو ممکن بنایا۔ کمپنی کا منصوبہ ہے کہ جلد ہی اسے مکمل طور پر عام دستیابی کے لیے پیش کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت اس بڑے رجحان کا حصہ ہے جس میں مصنوعی ذہانت صرف تیز رفتار جواب دینے تک محدود نہیں رہی بلکہ گہرے تجزیے، تخلیقی کام اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ترقی کرے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے ذمہ داری اور سمجھ داری کے ساتھ اپنایا جائے تو جمینی 3.1 پرو طلبہ، اساتذہ، محققین، ڈویلپرز اور کاروباری افراد سب کے لیے ایک مؤثر معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم حتمی نتیجہ وقت کے ساتھ ہی سامنے آئے گا کہ یہ ماڈل عملی دنیا کے پیچیدہ مسائل میں کس حد تک مؤثر اور قابلِ اعتماد ثابت ہوتا ہے۔
Hi! I’m Mairaj Roonjha, a Computer Science student, Web developer, Content creator, Urdu AI blogger, and a changemaker from Lasbela, Balochistan. I’m currently studying at Lasbela University of Agriculture, Water and Marine Sciences (LUAWMS), where I focus on web development, artificial intelligence, and using tech for social good. As the founder and lead of the Urdu AI project, I’m passionate about making artificial intelligence more accessible for Urdu-speaking communities. Through this blog, I aim to break down complex tech concepts into simple, relatable content that empowers people to learn and grow. I also work with the WALI Lab of Innovation to help reduce the digital divide in rural areas.
No Comments