-
Mairaj Roonjha
- No Comments
- AI in Science, AI Research, Artificial Intelligence, Gemini 3 Deep Think, machine learning
گوگل کا نیا اے آئی ماڈل: مشکل سائنسی مسائل کیسے حل کرے گا؟
مصنوعی ذہانت کے میدان میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت نے پچھلے چند برسوں میں کام، تحقیق اور سیکھنے کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے، لیکن اب گوگل نے جس اپ ڈیٹ کا اعلان کیا ہے وہ عام چیٹ بوٹس سے ایک قدم آگے جانے کی کوشش ہے۔ 12 فروری 2026 کو گوگل نے اپنے خصوصی ریزننگ موڈ، جمنی 3 ڈیپ تھنک، کے ایک بڑے اپ گریڈ کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ ورژن خاص طور پر سائنس، تحقیق اور انجینئرنگ جیسے پیچیدہ شعبوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ گوگل کے مطابق یہ صرف تیز جواب دینے والا ماڈل نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو مشکل سوالوں پر زیادہ دیر تک غور کر سکتا ہے، مختلف امکانات کا جائزہ لے سکتا ہے اور پھر نتیجہ اخذ کر سکتا ہے۔
عام طور پر جب ہم کسی اے آئی چیٹ بوٹ سے سوال کرتے ہیں تو وہ چند سیکنڈ میں جواب دے دیتا ہے۔ مگر سائنسی تحقیق میں اکثر مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی سیدھا یا ایک ہی درست جواب نہیں ہوتا۔ ڈیٹا ادھورا ہو سکتا ہے، مفروضے پیچیدہ ہو سکتے ہیں اور منطقی غلطیاں بہت باریک سطح پر چھپی ہو سکتی ہیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ ڈیپ تھنک کو انہی حالات کو ذہن میں رکھ کر بہتر بنایا گیا ہے تاکہ یہ محض معلومات دہرانے کے بجائے تجزیہ اور استدلال بھی کر سکے۔
گوگل نے بتایا کہ اس اپ گریڈ کو تیار کرنے کے لیے سائنسدانوں اور محققین کے ساتھ مل کر کام کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ ماڈل کو ایسے سوالات پر آزمایا جائے جو حقیقی تحقیق میں سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ریاضی دان نے ایک پیچیدہ ریاضیاتی مقالے کا جائزہ لینے کے لیے ڈیپ تھنک کا استعمال کیا۔ کمپنی کے مطابق ماڈل نے اس مقالے میں ایک باریک منطقی خامی کی نشاندہی کی جو انسانی جائزے کے دوران نظر انداز ہو گئی تھی۔ اگرچہ اس طرح کے دعووں کی آزادانہ جانچ اہم ہے، لیکن یہ مثال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اے آئی کو اب محض لکھنے یا خلاصہ بنانے کے بجائے تحقیقی معاون کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
گوگل نے اپنی کارکردگی کے دعووں کو مختلف بینچ مارکس کے ذریعے بھی بیان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق جمنی 3 ڈیپ تھنک نے ایسے امتحانی معیاروں پر نمایاں اسکور حاصل کیے جو ریاضی، پروگرامنگ اور پیچیدہ استدلال کو جانچنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر Humanity’s Last Exam جیسے مشکل ٹیسٹ پر بہتر کارکردگی، ARC-AGI-2 پر اعلیٰ فیصد، اور Codeforces جیسے پروگرامنگ پلیٹ فارم پر بلند Elo اسکور کو اس کی صلاحیتوں کا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماڈل پیچیدہ منطقی مسائل حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، لیکن ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ کسی بھی بینچ مارک کی کارکردگی اور حقیقی دنیا کے پیچیدہ حالات میں کارکردگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔
گوگل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈیپ تھنک نے فزکس اور کیمسٹری کے اولمپیاڈ جیسے مقابلوں کے تحریری حصوں میں ’گولڈ میڈل لیول‘ نتائج دکھائے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماڈل نظریاتی سوالات پر مضبوط تجزیاتی جواب دے سکتا ہے۔ تاہم سائنسی تحقیق صرف سوال حل کرنے کا نام نہیں بلکہ تجربات، عملی حدود، اخلاقی ذمہ داری اور طویل مدتی جانچ کا عمل بھی اس کا حصہ ہیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اے آئی سائنسدانوں کی جگہ لے سکتی ہے، البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ ان کے کام کو تیز اور مؤثر بنا سکتی ہے۔
اس اپ ڈیٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسے صرف ایپ تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ جمنی API کے ذریعے منتخب محققین اور اداروں کو بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لیبارٹریاں، یونیورسٹیاں اور کمپنیاں اسے اپنے سسٹمز کے ساتھ جوڑ کر استعمال کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی انجینئر کسی ڈیزائن کا ابتدائی خاکہ بنائے تو ڈیپ تھنک اس کا تجزیہ کر کے 3D ماڈل تیار کر سکتا ہے اور ایسی فائل بنا سکتا ہے جو 3D پرنٹر پر استعمال ہو سکے۔ اس طرح تصور کو عملی شکل دینے کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔
اس پیش رفت کے باوجود ایک اہم سوال باقی رہتا ہے: کیا زیادہ ذہین اے آئی کا مطلب زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد نظام بھی ہے؟ جتنی زیادہ طاقتور ٹیکنالوجی ہو گی، اتنی ہی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہو گی۔ غلط سائنسی نتیجہ یا انجینئرنگ میں معمولی سی خامی بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اے آئی کو حتمی فیصلے کے بجائے ایک معاون آلے کے طور پر استعمال کیا جائے، جہاں انسان نگرانی اور ذمہ داری برقرار رکھے۔
آخرکار جمنی 3 ڈیپ تھنک کو ایک ایسے مرحلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں اے آئی محض معلومات فراہم کرنے سے آگے بڑھ کر تحقیق کے عمل کا حصہ بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ سائنسدانوں کے لیے ایک طاقتور معاون ثابت ہو سکتی ہے، جو ڈیٹا کا تجزیہ کرے، ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی کرے اور نئے خیالات کی تلاش میں مدد دے۔ مگر اس کا اصل اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، کس حد تک جانچا جاتا ہے اور کس حد تک انسانی فہم اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
No Comments