-
Mairaj Roonjha
- No Comments
- AI Research, Artificial Intelligence, Gluon Amplitude, GPT-5.2, machine learning, Particle Physics, Quantum Field Theory, Science, Scientific Discovery, Theoretical Physics
جی پی ٹی 5.2 اور سائنس: کیا اے آئی نئی سائنسی حقیقتیں دریافت کر سکتی ہے؟
سائنس کی دنیا میں اکثر نئی دریافتیں برسوں کی محنت، پیچیدہ حساب کتاب اور طویل مباحثے کے بعد سامنے آتی ہیں۔ مگر اب ایک ایسی پیش رفت ہوئی ہے جس نے اس پورے عمل کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل جی پی ٹی 5.2 نے نظریاتی طبیعیات میں ایک نیا ریاضیاتی نتیجہ تجویز کیا، جسے بعد میں انسانی سائنسدانوں نے جانچا اور درست قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہوا کیا ہے، اور اس کا مطلب عام لوگوں کے لیے کیا ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تحقیق کس موضوع پر تھی۔ یہ کام گلوان نامی ذرات کے بارے میں ہے۔ گلوان وہ ننھے ذرات ہیں جو ایٹم کے اندر موجود طاقتور قوت کو منتقل کرتے ہیں۔ اسی قوت کی وجہ سے ایٹم کے اندر موجود ذرات ایک ساتھ جڑے رہتے ہیں۔ اگر یہ قوت نہ ہو تو مادہ اپنی موجودہ شکل میں قائم نہیں رہ سکتا۔
جب سائنسدان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ذرات آپس میں کس طرح ٹکراتے ہیں یا تعامل کرتے ہیں، تو وہ ایک خاص قسم کا حساب لگاتے ہیں۔ اسے “اسکیٹرنگ ایمپلی ٹیوڈ” کہا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ ایک ایسا ریاضیاتی فارمولا ہوتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کسی خاص قسم کا تعامل ہونے کا امکان کتنا ہے۔
کئی دہائیوں سے ایک خاص صورت حال کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ اگر کئی گلوانز میں سے ایک کی اسپن کی سمت مختلف ہو اور باقی سب ایک ہی سمت میں ہوں، تو روایتی دلائل کے مطابق اس صورت میں اسکیٹرنگ ایمپلی ٹیوڈ صفر ہونی چاہیے۔ یعنی ایسا تعامل نہیں ہونا چاہیے۔ اسی وجہ سے اس معاملے پر زیادہ تحقیق نہیں کی گئی، کیونکہ نتیجہ پہلے ہی “صفر” مان لیا گیا تھا۔
لیکن نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ نتیجہ مکمل طور پر درست نہیں تھا۔ پرانی دلیل اس مفروضے پر مبنی تھی کہ ذرات کی رفتار اور سمت عام یا بے ترتیب ہوں۔ اگر رفتاریں ایک خاص ترتیب میں ہوں، جسے ماہرین ایک مخصوص تکنیکی نام دیتے ہیں، تو نتیجہ بدل جاتا ہے۔ اس خاص حالت میں وہ تعامل ممکن ہو جاتا ہے جسے پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں مصنوعی ذہانت نے کیا کردار ادا کیا؟
ابتدائی مرحلے میں انسانی سائنسدانوں نے خود چند مثالوں کے لیے حساب کتاب کیا۔ یہ حساب نہایت پیچیدہ اور طویل تھا۔ ہر نئی مثال کے ساتھ مساوات مزید الجھتی چلی جاتی تھی۔ اس مرحلے پر جی پی ٹی 5.2 کو استعمال کیا گیا۔ اسے وہ پیچیدہ نتائج دیے گئے جو انسانوں نے نکالے تھے۔
ماڈل نے ان لمبی اور مشکل مساواتوں کو نسبتاً سادہ شکل میں دوبارہ لکھا اور ان میں ایک پیٹرن تلاش کیا۔ پھر اس پیٹرن کی بنیاد پر اس نے ایک عمومی فارمولا تجویز کیا جو کسی بھی تعداد کے گلوانز کے لیے کام کر سکتا تھا۔ یعنی اس نے چند مثالوں سے ایک عمومی اصول نکالنے کی کوشش کی۔
بعد میں اسی ماڈل کے ایک منظم ورژن نے کئی گھنٹوں تک مسئلے پر غور کیا اور اسی فارمولے کا باضابطہ ثبوت بھی تیار کیا۔ اس کے بعد انسانی ماہرین نے روایتی طریقوں سے اس نتیجے کو جانچا۔ انہوں نے معروف ریاضیاتی اصولوں کے ذریعے یہ دیکھا کہ کیا یہ فارمولا واقعی درست ہے۔ جانچ کے بعد یہ نتیجہ درست ثابت ہوا۔
یہ بات بہت اہم ہے کہ اے آئی نے اکیلے کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ اس نے ایک تجویز دی، جسے انسانی سائنسدانوں نے سخت سائنسی معیار پر پرکھا۔ یعنی یہ ایک مشترکہ عمل تھا، نہ کہ مکمل طور پر خودکار دریافت۔
عالمی سطح کے ماہرین نے بھی اس پیش رفت پر تبصرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پیچیدہ حساب کتاب کے پیچھے کوئی سادہ اور خوبصورت اصول چھپا ہوتا ہے، مگر اسے تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر کمپیوٹر ایسے پیٹرنز جلدی پہچان سکیں تو وہ تحقیق کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے۔ سائنسی تحقیق میں ہر نئی بات کو بار بار جانچا جاتا ہے۔ یہ نتیجہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور مزید جائزے سے گزرے گا۔ سائنسی برادری میں بحث اور تنقید کے بعد ہی اس کی مکمل اہمیت واضح ہوگی۔
اگر اسے عام مثال سے سمجھیں تو یہ ایسے ہے جیسے ایک طالب علم بہت مشکل ریاضی کا سوال حل کر رہا ہو۔ وہ چند مثالیں حل کرتا ہے، مگر اسے عمومی اصول سمجھ نہیں آتا۔ ایک کمپیوٹر ان مثالوں کو دیکھ کر کہتا ہے کہ ان سب میں ایک خاص پیٹرن موجود ہے، اور پھر ایک سادہ فارمولا پیش کرتا ہے۔ استاد اس فارمولے کو چیک کرتا ہے اور تصدیق کرتا ہے کہ یہ درست ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
یہ پیش رفت ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے: کیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت نئی سائنسی دریافتوں میں مرکزی کردار ادا کرے گی؟ فی الحال جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اے آئی ایک طاقتور معاون بن رہی ہے۔ وہ پیچیدہ ڈیٹا میں پیٹرن تلاش کر سکتی ہے، مشکل حساب کو سادہ بنا سکتی ہے اور محققین کو نئے زاویے سے سوچنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مگر حتمی ذمہ داری اور فیصلہ اب بھی انسان کے پاس ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ جی پی ٹی 5.2 کی یہ شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف سوالوں کے جواب دینے یا تحریر لکھنے تک محدود نہیں رہی۔ وہ علم کی تخلیق کے عمل میں بھی شامل ہو رہی ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں ہم ایسی مزید مثالیں دیکھیں جہاں انسان اور مشین مل کر نئی سائنسی راہیں تلاش کریں۔
آخرکار یہ معاملہ صرف ایک فارمولا یا ایک تحقیق تک محدود نہیں۔ یہ اس بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں ٹیکنالوجی اور انسانی ذہانت ایک ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی کیا کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے کس حد تک اور کس ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔
No Comments