-
Mairaj Roonjha
- No Comments
- AI Privacy, Artificial Intelligence, ChatGPT Ads, Digital Advertising, Free AI Services, Technology News
کیا چیٹ جی پی ٹی اب سوشل میڈیا کی طرح اشتہارات دکھانا شروع کر دیا ہے؟
مصنوعی ذہانت اب صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ طلبہ اس سے اسائنمنٹ میں مدد لیتے ہیں، کاروباری افراد منصوبہ بندی کرتے ہیں، ملازمین ای میلز اور رپورٹس تیار کرتے ہیں، اور عام لوگ روزمرہ سوالات پوچھتے ہیں۔ ایسے میں جب چیٹ جی پی ٹی جیسے مقبول اے آئی پلیٹ فارم پر اشتہارات دکھانے کی خبر سامنے آئی تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں ایک ہی سوال پیدا ہوا: کیا اب ہماری گفتگو بھی اشتہارات کا حصہ بن جائے گی؟ اور کیا اس سے اعتماد متاثر ہوگا؟
اوپن اے آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ میں چیٹ جی پی ٹی پر اشتہارات کی آزمائش شروع کر رہا ہے۔ یہ اشتہارات صرف فری اور گو سبسکرپشن استعمال کرنے والے لاگ اِن بالغ صارفین کو دکھائے جائیں گے۔ پلس، پرو، بزنس، انٹرپرائز اور ایجوکیشن پلان استعمال کرنے والے افراد کو اشتہارات نظر نہیں آئیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ مفت ورژن کو جاری رکھا جا سکے اور نظام کو بہتر بنانے کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
اگر ہم سادہ لفظوں میں سمجھیں تو چیٹ جی پی ٹی کو چلانے کے لیے بہت طاقتور کمپیوٹرز اور بڑے ڈیٹا سینٹرز درکار ہوتے ہیں۔ یہ نظام ہزاروں سرورز پر چلتا ہے اور ہر روز کروڑوں سوالات کے جواب دیتا ہے۔ اس کے لیے بجلی، ڈیٹا اسٹوریج اور ماہرین کی ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سب اخراجات مانگتے ہیں۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اشتہارات اس خرچ کو سہارا دینے کا ایک طریقہ ہو سکتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مفت یا کم قیمت میں اس سروس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
لیکن یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا اشتہارات چیٹ جی پی ٹی کے جواب کو متاثر کریں گے؟ کمپنی کا واضح مؤقف ہے کہ نہیں۔ جوابات مکمل طور پر آزاد اور غیر جانبدار رہیں گے۔ اگر کوئی شخص صحت، تعلیم یا کاروبار سے متعلق سوال پوچھتا ہے تو جواب اسی بنیاد پر دیا جائے گا کہ کیا معلومات درست اور مفید ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ کون سی کمپنی اشتہار دے رہی ہے۔
اشتہارات کو واضح طور پر “اسپانسرڈ” کے طور پر دکھایا جائے گا اور انہیں اصل جواب سے الگ رکھا جائے گا۔ یعنی اگر آپ کسی موضوع پر سوال پوچھتے ہیں تو پہلے آپ کو اصل جواب ملے گا، اور اگر کوئی متعلقہ اشتہار ہوگا تو وہ واضح لیبل کے ساتھ الگ نظر آئے گا۔ اس سے صارف کو یہ فرق سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ کون سی معلومات مشورہ ہے اور کون سا مواد اشتہاری ہے۔
رازداری ایک اور اہم پہلو ہے جس پر بہت سے لوگ فکر مند ہیں۔ اوپن اے آئی کے مطابق مشتہرین کو صارف کی ذاتی گفتگو، چیٹ ہسٹری یا ذاتی معلومات تک رسائی نہیں دی جائے گی۔ انہیں صرف مجموعی اعداد و شمار فراہم کیے جائیں گے، جیسے کتنے لوگوں نے اشتہار دیکھا یا کتنے لوگوں نے اس پر کلک کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اشتہار دینے والی کمپنی آپ کی ذاتی بات چیت نہیں دیکھ سکتی۔
کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر صارفین کو اشتہارات نہیں دکھائے جائیں گے۔ اسی طرح صحت، ذہنی صحت اور سیاست جیسے حساس موضوعات کے قریب اشتہارات شامل نہیں کیے جائیں گے۔ یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ نازک حالات میں تجارتی مفاد شامل نہ ہو اور صارف کا اعتماد برقرار رہے۔
صارفین کو اشتہارات پر کنٹرول بھی دیا گیا ہے۔ وہ اشتہار کو بند کر سکتے ہیں، فیڈ بیک دے سکتے ہیں، اپنی اشتہاری ہسٹری دیکھ سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو اپنا اشتہاری ڈیٹا حذف بھی کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی صارف اشتہارات نہیں دیکھنا چاہتا تو وہ پلس یا پرو پلان میں اپ گریڈ کر سکتا ہے، یا فری ورژن میں اشتہارات سے انکار کر کے محدود روزانہ پیغامات کا انتخاب کر سکتا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید دلچسپ ہو جاتی ہے جب ہم اسے دوسرے اے آئی پلیٹ فارمز سے موازنہ کریں۔ مثال کے طور پر اینتھروپک کا ماڈل کلاڈ پہلے ہی یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر اشتہارات شامل نہیں کرے گا۔ کلاڈ کا مؤقف ہے کہ اے آئی گفتگو ایک ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں صارف مکمل سکون اور توجہ کے ساتھ بات کر سکے۔
یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں کاروباری ماڈلز مختلف ہو سکتے ہیں۔ ایک ماڈل اشتہارات کے ذریعے مفت رسائی برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسرا ماڈل مکمل طور پر سبسکرپشن پر انحصار کرتا ہے اور اشتہارات سے گریز کرتا ہے۔ یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا اشتہارات واقعی نقصان دہ ہوں گے؟ انٹرنیٹ کی دنیا میں ہم برسوں سے اشتہارات دیکھتے آئے ہیں۔ سرچ انجن، سوشل میڈیا اور ویڈیو پلیٹ فارمز سب اشتہارات سے چلتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی ایک گفتگو پر مبنی نظام ہے جہاں لوگ ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھ سکتے ہیں۔ اسی لیے یہاں اعتماد کی اہمیت زیادہ ہے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک آزمائشی مرحلہ ہے۔ کمپنی اس دوران صارفین کے ردعمل کو غور سے دیکھے گی اور اگر کسی قسم کی تشویش سامنے آتی ہے تو اس کے مطابق تبدیلیاں کی جائیں گی۔ اشتہارات کو محدود رکھا جائے گا اور تجربے کو زیادہ سے زیادہ سادہ اور غیر مداخلت والا بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
طویل مدت میں یہ فیصلہ مصنوعی ذہانت کی معیشت کے بارے میں ایک بڑی بحث کو جنم دیتا ہے۔ جدید اے آئی ماڈلز تیار کرنے میں اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اگر یہ خدمات مکمل طور پر مفت رکھی جائیں تو اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ کیا سبسکرپشن ہی واحد راستہ ہے، یا اشتہارات ایک متوازن حل ہو سکتے ہیں؟
عام صارف کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی معلومات محفوظ رہیں اور جوابات غیر جانبدار ہوں۔ اگر یہ دونوں اصول برقرار رہتے ہیں تو ممکن ہے کہ اشتہارات کو ایک عملی سمجھوتہ سمجھا جائے۔ لیکن اگر کسی بھی مرحلے پر اعتماد مجروح ہوا تو صارفین متبادل پلیٹ فارمز کا رخ کر سکتے ہیں۔
آخرکار، مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا انحصار صرف اس کی ذہانت پر نہیں بلکہ اعتماد پر بھی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کا اشتہارات کی طرف قدم ایک تجربہ ہے، اور اس کا نتیجہ آنے والے وقت میں واضح ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ اشتہارات آئیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اعتماد برقرار رہے گا۔ اور یہی وہ امتحان ہے جس پر اے آئی کمپنیوں کا مستقبل منحصر ہوگا۔
No Comments