عالمی تحقیقی رپورٹ “Stop Throwing AI Tools at Teachers “
حصہ دوم:
یہ بلاگ ایک عالمی تحقیقی رپورٹ کے تجزیے پر مبنی تین حصوں پر مشتمل سیریز کا دوسرا حصہ ہے،اس میں مختلف ممالک کے اساتذہ کے عملی تجربات کا جائزہ لیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے تربیت کہاں مؤثر رہی اور کہاں ناکافی ثابت ہوئی۔ اس میں اساتذہ کے خدشات، اخلاقی سوالات اور زمینی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
مصنوعی ذہانت کلاس روم میں، اساتذہ کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
اس سیریز کے پہلے حصے میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت تیزی سے داخل ہو رہی ہے، مگر اساتذہ اس تبدیلی کے لیے کیوں تیار نہیں۔ وہاں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ مسئلہ ٹیکنالوجی کی کمی نہیں بلکہ تربیت، رہنمائی اور نظامی ترجیحات کا ہے۔ اب اس دوسرے حصے میں اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مختلف ممالک کے اساتذہ نے عملی طور پر مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرتے ہوئے کیا تجربات کیے، انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ فراہم کی گئی تربیت کو کس حد تک مؤثر یا ناکافی سمجھتے ہیں۔
تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر گفتگو اکثر پالیسی بیانات اور مستقبل کے دعووں تک محدود رہتی ہے، مگر زمینی حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب اساتذہ کے تجربات کو توجہ سے سنا جائے۔ اس عالمی رپورٹ کے دوسرے حصے میں اسی مقصد کے تحت مختلف ممالک کے اساتذہ کے تجربات کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیت نے ان کے تدریسی عمل کو کس طرح متاثر کیا۔ یہ حصہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت کو ایک نظری تصور کے بجائے ایک عملی حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں شامل اساتذہ مختلف جغرافیائی خطوں، تعلیمی نظاموں اور سماجی حالات سے تعلق رکھتے تھے۔ کچھ اساتذہ ایسے اسکولوں میں پڑھا رہے تھے جہاں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پہلے ہی نصاب کا حصہ بن چکی تھی، جبکہ کچھ ایسے علاقوں سے تھے جہاں بنیادی تعلیمی سہولیات بھی محدود تھیں۔ اس تنوع کے باوجود اساتذہ کے تجربات میں ایک نمایاں مماثلت نظر آئی۔ تقریباً ہر جگہ اساتذہ نے یہ بات دہرائی کہ وہ مصنوعی ذہانت کو رد نہیں کرتے، بلکہ اسے بہتر طور پر سمجھنا چاہتے ہیں تاکہ اسے تدریسی مقاصد کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔
یہ تربیتی پروگرام کب اور کیسے ترتیب دیے گئے، اس پر رپورٹ خاص توجہ دیتی ہے۔ زیادہ تر تربیت مختصر آن لائن کورسز، ویبینارز یا ورکشاپس تک محدود رہی، جن کا مقصد اساتذہ کو مختلف اے آئی ٹولز سے متعارف کرانا تھا۔ تاہم اساتذہ نے بتایا کہ انہیں یہ تو سکھایا گیا کہ فلاں ٹول کیا کر سکتا ہے، مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اسے کلاس روم میں کن حالات میں، کن طلبہ کے ساتھ اور کن اخلاقی حدود کے اندر استعمال کرنا مناسب ہو گا۔ اس کمی نے اساتذہ کو عملی سطح پر غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔
رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اساتذہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج تکنیکی مہارت نہیں بلکہ عملی فہم کا فقدان تھا۔ بہت سے اساتذہ نے اعتراف کیا کہ وہ ٹیکنالوجی استعمال کرنا سیکھ سکتے ہیں، مگر انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ مصنوعی ذہانت کو تدریسی فیصلوں کا حصہ کیسے بنایا جائے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی خودکار نظام کسی طالب علم کی کارکردگی کے بارے میں کوئی تجزیہ پیش کرتا ہے تو اس پر کس حد تک انحصار کیا جائے؟ کیا استاد کو اس تجزیے کو حتمی سمجھنا چاہیے یا اسے محض ایک معاون ذریعہ کے طور پر استعمال کرنا چاہیے؟ ایسے بنیادی سوالات تربیت کے دوران شاذ و نادر ہی زیرِ بحث آئے۔
مصنوعی ذہانت کے اخلاقی پہلو اساتذہ کے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث بنے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کے ڈیٹا کا استعمال، خودکار جانچ کے نظام، اور طلبہ کے رویوں کی نگرانی جیسے معاملات پر اساتذہ کو واضح رہنمائی فراہم نہیں کی گئی۔ اساتذہ نے بتایا کہ انہیں یہ علم نہیں کہ طلبہ کا ڈیٹا کہاں محفوظ ہوتا ہے، کون اس تک رسائی رکھتا ہے اور مستقبل میں اس کا استعمال کس مقصد کے لیے ہو سکتا ہے۔ ان سوالات کے غیر واضح جوابات نے اساتذہ کے اعتماد کو متاثر کیا۔
یہ مسائل کہاں زیادہ نمایاں تھے، اس کا تعلق وسائل اور انفراسٹرکچر سے بھی جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کو بہتر ڈیجیٹل سہولیات میسر تھیں، مگر وہاں بھی تربیت زیادہ تر تکنیکی پہلوؤں تک محدود رہی۔ اس کے برعکس کم وسائل والے ممالک میں اساتذہ کو نہ صرف تربیت کی کمی کا سامنا تھا بلکہ زبان، وقت اور سہولیات کی رکاوٹیں بھی حائل تھیں۔ اس کے باوجود دونوں طرح کے اساتذہ کی خواہش ایک ہی تھی کہ انہیں اس تبدیلی کا باخبر اور بااختیار حصہ بنایا جائے۔
رپورٹ میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ اساتذہ کو اکثر یہ احساس دلایا گیا کہ مصنوعی ذہانت ایک ناگزیر حقیقت ہے اور انہیں اس کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہی ہو گا۔ تاہم اس عمل میں انہیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ سوال اٹھا سکیں یا اپنی پیشہ ورانہ رائے شامل کر سکیں۔ بہت سے اساتذہ نے محسوس کیا کہ فیصلے پالیسی سازوں یا ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کی جانب سے کیے جا رہے ہیں، جبکہ اساتذہ کو محض ان پر عمل کرنے والا فریق سمجھا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال اساتذہ کی پیشہ ورانہ خود مختاری کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن جاتی ہے۔ تدریس محض معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ ایک ایسا انسانی عمل ہے جس میں تجربہ، اخلاقی فیصلہ سازی اور طلبہ کی انفرادی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ جب خودکار نظام ان فیصلوں میں مداخلت کرنے لگتے ہیں تو اساتذہ کے لیے یہ جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ ان کا کردار کہاں ختم ہوتا ہے اور ٹیکنالوجی کی حدود کہاں شروع ہوتی ہیں۔
تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اساتذہ کی تربیت کو اکثر ایک وقتی سرگرمی سمجھا گیا، نہ کہ ایک مسلسل سیکھنے کے عمل کے طور پر۔ ایک مختصر کورس کے بعد یہ توقع کی جاتی ہے کہ اساتذہ خود بخود نئے ٹولز کو سمجھ لیں گے اور انہیں تدریسی عمل میں شامل کر لیں گے، حالانکہ مصنوعی ذہانت ایک تیزی سے بدلنے والا شعبہ ہے جس کے لیے مسلسل رہنمائی اور تبادلۂ خیال ضروری ہے۔
یہ تمام تجربات اس نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اساتذہ مصنوعی ذہانت کے مخالف نہیں، بلکہ وہ ایسی تربیت چاہتے ہیں جو ان کے تدریسی تجربے، سیاق و سباق اور طلبہ کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ان کے کردار کو کمزور کرنے کے بجائے کیسے مضبوط بنا سکتی ہے اور وہ خود اس تبدیلی میں فعال کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں۔
حصہ دوم اس نکتے پر آ کر ٹھہرتا ہے کہ اگر اساتذہ کے تجربات اور خدشات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو مصنوعی ذہانت تعلیم میں بہتری کے بجائے ایک اضافی دباؤ بن سکتی ہے۔ یہ تحقیق واضح طور پر یہ پیغام دیتی ہے کہ اساتذہ کو محض نئے ٹولز فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں اس تبدیلی کا بااختیار اور باخبر حصہ بنانا ضروری ہے۔ اسی تسلسل میں سیریز کے آخری حصے میں یہ دیکھا جائے گا کہ ان تجربات کی روشنی میں عملی طور پر کیا کیا جانا چاہیے، اور اساتذہ کی تربیت کو مؤثر، بامعنی اور پائیدار بنانے کے لیے کن ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
No Comments