کیا اے آئی جنگی کارروائیوں میں استعمال ہو رہی ہے؟ عالمی بحث کا تفصیلی جائزہ
مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو عام طور پر تعلیم، کاروبار اور روزمرہ زندگی سے جوڑا جاتا ہے۔ مگر حالیہ رپورٹس نے ایک مختلف پہلو کو سامنے لایا ہے: کیا اے آئی جنگی کارروائیوں میں بھی استعمال ہو رہی ہے؟ امریکی اور برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں نے اس سوال کو دوبارہ عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
مارچ 2026 میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے ایران پر حملوں کے دوران “کلاؤڈ” نامی اے آئی ماڈل استعمال کیا۔ یہ ماڈل اینتھروپک نامی کمپنی نے تیار کیا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، یہ استعمال اس وقت ہوا جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ہی سرکاری اداروں کو اس کمپنی کے ٹولز استعمال کرنے سے روکنے کا اعلان کیا تھا ۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ اے آئی ٹولز کو انٹیلی جنس تجزیے، اہداف کے انتخاب اور جنگی منظرناموں کی نقل تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ وال اسٹریٹ جرنل اور ایکسیوس نے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات دی تھیں۔
اے آئی جنگ میں کرتی کیا ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اے آئی خود بندوق نہیں چلاتی اور نہ ہی میزائل داغتی ہے۔ اس کا بنیادی کام معلومات کا تجزیہ کرنا ہے۔جدید جنگوں میں فوج کے پاس بے شمار ڈیٹا ہوتا ہے: سیٹلائٹ تصاویر، ڈرون ویڈیوز، ریڈار سگنلز اور خفیہ رپورٹس۔ انسانی تجزیہ کار اتنی بڑی مقدار میں معلومات کو مکمل طور پر دیکھ اور سمجھ نہیں سکتے۔ یہاں اے آئی سسٹمز پیٹرن تلاش کرتے ہیں، مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ممکنہ اہداف کی فہرست تیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اے آئی “بیٹل فیلڈ سمولیشن” میں بھی مدد کرتی ہے۔ یعنی اگر کسی علاقے میں کارروائی کی جائے تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں، کتنے وسائل درکار ہوں گے اور خطرات کیا ہوں گے۔ اس سے کمانڈرز کو منصوبہ بندی میں مدد ملتی ہے۔
تنازع کیوں پیدا ہوا؟
کلاؤڈ کے استعمال پر تنازع اس لیے پیدا ہوا کیونکہ اینتھروپک کے ضوابط کے مطابق اس کا ماڈل پرتشدد مقاصد، ہتھیاروں کی تیاری یا نگرانی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے وینزویلا میں ایک فوجی کارروائی کے دوران بھی اسی ماڈل کے استعمال پر کمپنی نے اعتراض کیا تھا۔
جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اینتھروپک کو “ریڈیکل لیفٹ اے آئی کمپنی” قرار دیا اور سرکاری اداروں کو اس کے استعمال سے روک دیا، تو یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ دفاعی حکام نے اعتراف کیا کہ اے آئی سسٹمز پہلے ہی کئی فوجی نظاموں میں شامل ہو چکے ہیں، اس لیے فوری طور پر مکمل علیحدگی آسان نہیں۔
کیا اے آئی خود فیصلہ کرتی ہے؟
موجودہ معلومات کے مطابق حتمی فیصلہ انسان ہی کرتا ہے۔ اے آئی سفارشات دیتی ہے، مگر حملے کا حکم انسانی کمانڈر جاری کرتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جب فیصلہ سازی میں اے آئی کی رائے شامل ہو جائے تو انسانی فیصلہ بھی اس کے اثر سے مکمل طور پر آزاد نہیں رہتا۔یہی وہ نکتہ ہے جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
اخلاقی اور قانونی پہلو
اقوام متحدہ میں خودکار ہتھیاروں کے نظام پر کئی برسوں سے مذاکرات جاری ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ مکمل خودکار ہتھیاروں پر پابندی عائد کی جائے۔ اہم سوال یہ ہے کہ اگر اے آئی کی تجویز کی بنیاد پر کوئی حملہ ہو اور اس میں غلطی ہو جائے تو ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ فوجی افسر پر؟ سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی پر؟ یا ریاست پر؟ یہ سوال ابھی تک عالمی سطح پر واضح طور پر حل نہیں ہو سکا۔
بڑی ٹیک کمپنیوں کا کردار
اینتھروپک سے فاصلے کے بعد اوپن اے آئی نے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کے مطابق اوپن اے آئی کے ٹولز پینٹاگون کے خفیہ نیٹ ورک میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اب قومی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس سے یہ بحث مزید گہری ہو جاتی ہے کہ نجی کمپنیاں جنگی پالیسی پر کتنا اثر رکھتی ہیں۔
عام شہریوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
شاید یہ سب ایک دور کی بات لگے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اے آئی اب عالمی سیاست اور سلامتی کے معاملات میں شامل ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے شفافیت، نگرانی اور واضح قوانین پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئے ہیں۔
اگر اے آئی معلومات کے تجزیے میں مدد دے سکتی ہے تو یہ غلطیوں کو کم بھی کر سکتی ہے۔ مگر اگر اس کا استعمال بغیر واضح ضوابط کے کیا جائے تو اس کے نتائج خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ آخرکار، اے آئی ایک ٹول ہے۔ یہ نہ خود جنگ چھیڑتی ہے اور نہ خود امن قائم کرتی ہے۔ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کس مقصد کے لیے اور کن اصولوں کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔
ایران حملوں سے متعلق رپورٹ نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا دنیا اے آئی کے فوجی استعمال کے لیے واضح عالمی قواعد بنانے کو تیار ہے یا نہیں۔ یہ بحث ابھی جاری ہے۔ اور آنے والے برسوں میں اس کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
No Comments