-
Mairaj Roonjha
- No Comments
- AI agriculture, farming technology, Halter, precision agriculture, smart collar
کیا اے آئی اب گایوں کو بھی کنٹرول کر رہی ہے؟ سمارٹ کالرایک دلچسپ ٹیکنالوجی
آج کے دور میں ہم بار بار سنتے ہیں کہ اے آئی دنیا بدل رہی ہے، لیکن زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ بات ابھی بھی تھوڑی مبہم ہے۔ اکثر لوگ اسے صرف موبائل ایپس، چیٹ بوٹس یا سوشل میڈیا تک محدود سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اب ہماری روزمرہ زندگی کے ایسے شعبوں میں داخل ہو رہی ہے جہاں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ انہی میں سے ایک شعبہ ہے کھیتی باڑی اور مویشی پالنا، جہاں اب ایک نئی اور دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
ذرا خود کو ایک کسان کی جگہ رکھ کر سوچیں۔ آپ کے پاس کئی گائیں ہیں، اور آپ کو ہر وقت ان پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ کبھی وہ چراگاہ سے باہر نکل جاتی ہیں، کبھی بیمار ہو جاتی ہیں، اور کبھی آپ کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کون سی گائے کہاں ہے۔ اس سب کے لیے آپ کو گھنٹوں میدان میں گزارنے پڑتے ہیں۔ یہ نہ صرف تھکا دینے والا کام ہے بلکہ اس میں وقت اور محنت دونوں بہت زیادہ لگتے ہیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لیے Halter نے ایک سادہ مگر زبردست حل پیش کیا ہے۔
Halter نے ایک سمارٹ کالر بنایا ہے جو گایوں کے گلے میں پہنا دیا جاتا ہے۔ پہلی نظر میں یہ ایک عام سا کالر لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک چھوٹا سا ذہین نظام ہے جس میں اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔ آسان لفظوں میں سمجھیں تو یہ کالر کسان کے لیے ایک مددگار بن جاتا ہے جو ہر وقت گایوں پر نظر رکھتا ہے اور انہیں کنٹرول بھی کرتا ہے۔
پہلے کسانوں کو اپنی گایوں کو ایک جگہ رکھنے کے لیے باڑ لگانی پڑتی تھی۔ یہ باڑ لکڑی، تار یا دیگر چیزوں سے بنتی تھی، جس میں کافی خرچ اور محنت لگتی تھی۔ اگر گائے باہر نکل جاتی تو اسے واپس لانا ایک الگ مشکل کام ہوتا تھا۔ لیکن اب اس سمارٹ کالر کے ذریعے ایک “نظر نہ آنے والی باڑ” بن جاتی ہے۔ یعنی آپ ایک حد مقرر کر دیتے ہیں، اور اگر کوئی گائے اس حد سے باہر جانے لگے تو کالر اسے ہلکی سی وائبریشن یا آواز کے ذریعے روک دیتا ہے۔ گائے خود ہی سمجھ جاتی ہے اور واپس مڑ جاتی ہے۔
یہ سننے میں چھوٹی بات لگتی ہے، لیکن ایک کسان کے لیے یہ بہت بڑی سہولت ہے۔ اب اسے ہر وقت گایوں کے پیچھے نہیں بھاگنا پڑتا، نہ ہی مہنگی باڑ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنے موبائل فون سے یہ سب کچھ کنٹرول کر سکتا ہے۔ جی ہاں، ایک سادہ سی ایپ کے ذریعے وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس کی گائیں کہاں ہیں اور کیا کر رہی ہیں۔
یہ کالر صرف گایوں کو کنٹرول کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان کی صحت پر بھی نظر رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی گائے کم حرکت کر رہی ہو یا اس کے رویے میں تبدیلی آئے تو یہ سسٹم کسان کو اشارہ دیتا ہے کہ شاید کوئی مسئلہ ہے۔ اس طرح کسان بروقت قدم اٹھا سکتا ہے اور بڑے نقصان سے بچ سکتا ہے۔ پہلے یہ سب اندازے سے ہوتا تھا، اب ڈیٹا کے ذریعے ہوتا ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہ کالر سورج کی روشنی سے چلتا ہے۔ یعنی اسے بار بار چارج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دیہات میں جہاں بجلی کی سہولت ہر وقت موجود نہیں ہوتی، وہاں یہ فیچر بہت کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح کسان کو ایک اور پریشانی سے نجات مل جاتی ہے۔
اس کمپنی کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں دنیا کے بڑے سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں۔ Peter Thiel کی فرم Founders Fund اس میں سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے، اور اندازہ ہے کہ کمپنی کی مالیت 2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اب اس ٹیکنالوجی کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
یہاں ایک اور بات سمجھنے کی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں کئی زرعی ٹیکنالوجی کمپنیاں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ کسانوں کے لیے نئی ٹیکنالوجی کو اپنانا آسان نہیں ہوتا، اور اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن Halter کا طریقہ مختلف ہے کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ حل کرتا ہے جو ہر کسان کو درپیش ہوتا ہے، یعنی مویشیوں کو سنبھالنا۔ Craig Piggott، جو اس کمپنی کے بانی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد کھیتی باڑی کو زیادہ آسان، مؤثر اور پائیدار بنانا ہے۔ یعنی کسان کم محنت کرے، کم خرچ کرے اور زیادہ فائدہ حاصل کرے۔ یہ سوچ ہی دراصل اس ٹیکنالوجی کی بنیاد ہے۔
اگر ہم بڑے منظرنامے کو دیکھیں تو یہ ٹیکنالوجی ایک نئے رجحان کا حصہ ہے جسے سادہ زبان میں “سمارٹ کھیتی باڑی” کہا جا سکتا ہے۔ اس میں اے آئی اور ڈیٹا کا استعمال کر کے بہتر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کب جانور کو چرنے دینا ہے، کب اسے آرام دینا ہے، اور کب علاج کی ضرورت ہے، یہ سب چیزیں اب اندازے کے بجائے معلومات کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ تاہم ہر نئی چیز کے ساتھ کچھ سوالات بھی آتے ہیں۔ کیا یہ ٹیکنالوجی ہر کسان کے لیے سستی ہوگی؟ کیا چھوٹے کسان بھی اسے استعمال کر سکیں گے؟ کیا لوگ اس پر اعتماد کریں گے؟ یہ سوالات ابھی باقی ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ان کے جواب بھی سامنے آ جائیں گے۔
ایک بات واضح ہے کہ اے آئی اب صرف شہروں تک محدود نہیں رہی۔ یہ دیہات، کھیتوں اور مویشیوں تک پہنچ چکی ہے۔ اور جب ٹیکنالوجی ان جگہوں تک پہنچتی ہے جہاں پہلے سہولیات کم ہوتی تھیں، تو اس کا اثر بہت بڑا ہوتا ہے۔
آخر میں اگر آسان لفظوں میں بات کریں تو یہ سمارٹ کالر صرف ایک ڈیوائس نہیں بلکہ ایک نئی سوچ ہے۔ ایک ایسا طریقہ جس میں انسان اور اے آئی مل کر کام کرتے ہیں تاکہ زندگی آسان ہو سکے۔ آج یہ گایوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے، کل یہ پوری کھیتی باڑی کے نظام کو بدل سکتا ہے۔ یہ تبدیلی آہستہ آہستہ آ رہی ہے، لیکن یقینی ہے۔ اور جو لوگ اس کو سمجھ لیں گے اور اپنالیں گے، وہ آنے والے وقت میں زیادہ فائدے میں رہیں گے۔


No Comments