مصنوعی ذہانت پر نظر رکھنے کا وقت آ گیا؟ جانیں عالمی ماہرین کا مؤقف
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا شعبہ روز بروز ترقی کر رہا ہے، اور اب یہ صرف تجربہ گاہوں یا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ہم اسے موبائل ایپس میں، آن لائن چیٹ بوٹس میں، اور اب کاروباری فیصلوں، طب، تعلیم اور سیکیورٹی جیسے حساس شعبوں میں بھی استعمال ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں ایک سوال مسلسل سامنے آ رہا ہے: کیا ان طاقتور نظاموں کی نگرانی اور احتساب کے لیے کوئی مؤثر طریقہ موجود ہے؟ اگر کوئی کمپنی کہتی ہے کہ اس کی اے آئی محفوظ ہے، تو ہم کیسے یقین کریں؟ اسی سوال کا جواب ہے “فرنٹیئر اے آئی آڈٹنگ“۔ یہ ایک نیا مگر ضروری تصور ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سامنے آیا ہے کہ جدید ترین اے آئی نظام محفوظ، شفاف اور جوابدہ ہوں۔
فرنٹیئر اے آئی دراصل ان سسٹمز کو کہا جاتا ہے جو انتہائی جدید، طاقتور اور عموماً جنرل پرپز یعنی ہر کام میں استعمال ہو سکنے والے ہوتے ہیں۔ یہ سسٹمز بہت پیچیدہ اور تیزی سے ترقی کرتے ہیں، اور مستقبل قریب میں یہ انسانوں سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے نظام اگر کسی غلط ہاتھ میں چلے جائیں، یا ان میں کوئی تکنیکی خامی ہو، تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان سسٹمز کی جانچ پڑتال نہ صرف اندرونی طور پر کی جائے، بلکہ تیسرے فریق کے ذریعے، آزادانہ اور تفصیلی انداز میں بھی ہو۔
ہم جب بینکنگ، فوڈ سیفٹی، یا دوا سازی جیسے شعبوں کو دیکھتے ہیں، تو وہاں باقاعدہ آڈٹ، جانچ اور اجازت ناموں کا ایک نظام موجود ہوتا ہے۔ لیکن اے آئی جیسی حساس ٹیکنالوجی میں، خاص طور پر فرنٹیئر ماڈلز کے حوالے سے، ایسا کوئی عالمی معیار یا لازمی نظام اب تک موجود نہیں تھا۔ یہی خلا پُر کرنے کے لیے اب “فرنٹیئر اے آئی آڈٹنگ” کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس میں آزاد ماہرین پر مشتمل ادارے اے آئی کمپنیوں کی اندرونی پالیسیوں، سیفٹی سسٹمز، ڈیٹا سیکیورٹی، اور ماڈلز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ جائزہ صرف ظاہری معلومات یا مارکیٹنگ بیانات پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ اس میں خفیہ، حساس اور تکنیکی معلومات تک رسائی دی جاتی ہے، تاکہ درست اور مکمل جانچ ہو سکے۔
یہ نظام صرف اس لیے نہیں کہ کمپنیوں کی خامیاں نکالی جائیں، بلکہ اس کا اصل مقصد اعتماد قائم کرنا ہے۔ جب صارفین، پالیسی ساز، سرمایہ کار یا انشورنس کمپنیاں یہ جانتی ہوں کہ کسی اے آئی ماڈل کو ایک معتبر، غیر جانب دار ادارے نے پرکھا ہے، تو ان کے لیے اس پر بھروسا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اسی بھروسے کے ذریعے اے آئی کو بڑے پیمانے پر، اور محفوظ طریقے سے، دنیا بھر میں اپنایا جا سکتا ہے۔
اس آڈٹنگ نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ماہرین نے “اے آئی ایشورنس لیولز” یعنی اعتماد کے درجے بھی متعارف کروائے ہیں، جنہیں AAL-1 سے AAL-4 تک تقسیم کیا گیا ہے۔ ان درجات کی مدد سے یہ واضح کیا جا سکتا ہے کہ کسی آڈٹ میں کتنی گہرائی سے جانچ کی گئی ہے، کتنی معلومات استعمال ہوئی ہیں، اور کتنی خود مختاری سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، AAL-1 کا مطلب ہے کہ آڈٹ وقت کے ایک خاص حصے کے لیے کیا گیا، اور کچھ مخصوص پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، جب کہ AAL-4 اس وقت حاصل کیا جا سکے گا جب آڈٹنگ مکمل، مسلسل، اور دھوکہ دہی سے محفوظ انداز میں کی جا سکے گی۔
یہ سب سننے میں شاید تھوڑا تکنیکی لگے، لیکن سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا نظام تیار کیا جائے جس سے عام صارف کو یقین ہو سکے کہ جس اے آئی سسٹم سے وہ فائدہ اٹھا رہا ہے، وہ محفوظ ہے، اس کی معلومات کا غلط استعمال نہیں ہو گا، اور اس پر کسی کمپنی کی من چاہی تشہیر یا خود ساختہ تعریف کا اثر نہیں۔
فرنٹیئر اے آئی آڈٹنگ کے دائرہ کار میں صرف ماڈلز ہی نہیں بلکہ پورا ادارہ آتا ہے۔ یعنی صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ ماڈل ٹھیک کام کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کمپنی اپنے ملازمین کو کس طرح تربیت دیتی ہے، خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا تیاریاں کرتی ہے، اور حساس معلومات کو کیسے محفوظ رکھتی ہے۔ اس جامع تجزیے کے بغیر کسی اے آئی سسٹم کی سیکیورٹی یا سیفٹی کی مکمل تصویر سامنے نہیں آ سکتی۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ آڈٹ ایک بار کر کے فائلوں میں بند نہیں کر دیا جاتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہوتا ہے۔ کیونکہ اے آئی نظام مسلسل ترقی کرتے ہیں، ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، اور خطرات کی نوعیت بھی بدلتی ہے، اس لیے ان کی نگرانی بھی ایک مسلسل عمل ہونا چاہیے۔ مثلاً اگر کسی ماڈل کی تربیت کے طریقہ کار میں تبدیلی آ جائے، یا اس کے صارفین کا رویہ بدل جائے، تو یہ بھی آڈٹ کے نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آڈٹرز یعنی جانچ کرنے والے ادارے آزاد ہوں، ان پر کسی کمپنی یا سیاسی دباؤ کا اثر نہ ہو، اور ان کے پاس اے آئی، سیکیورٹی، اور پالیسی سازی کے حوالے سے مکمل مہارت ہو۔ اسی طرح آڈٹس کے نتائج کو آسان زبان میں اور شفاف طریقے سے عوام کے سامنے پیش کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ہر شخص سمجھ سکے کہ کسی ماڈل کو کس بنیاد پر محفوظ یا غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ نظام کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ آڈٹرز کے لیے اعلیٰ معیار کا ایک عالمی فریم ورک تیار کیا جائے تاکہ یہ عمل محض کاغذی کارروائی نہ بن جائے۔ دوسرا، آڈٹنگ اداروں کی تعداد اور استعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ عالمی سطح پر تمام کمپنیوں کا احاطہ کر سکیں۔ تیسرا، کمپنیوں کو آڈٹنگ کی طرف راغب کرنے کے لیے قانونی، معاشی اور ساکھ سے متعلق ایسے اقدامات کیے جائیں جو انہیں اس عمل کا حصہ بننے پر مجبور یا تیار کریں۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ آڈٹنگ کا یہ نظام صرف امریکہ یا یورپ تک محدود نہ ہو، بلکہ پوری دنیا میں اس کا اطلاق ہونا چاہیے، کیونکہ اے آئی کے اثرات عالمی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اگر ایک ملک میں کسی اے آئی سسٹم کا غلط استعمال ہوتا ہے تو اس کا اثر دوسرے ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس لیے بین الاقوامی تعاون اور یکساں معیارات کی ضرورت ہے۔
اگر ہم یہ سب اقدامات بروقت کر لیتے ہیں، تو اے آئی کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے، اس کے فوائد کو محفوظ طریقے سے دنیا بھر میں پہنچایا جا سکتا ہے، اور ہم ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی نہ صرف طاقتور ہو بلکہ جوابدہ بھی ہو۔ لیکن اگر ہم نے غفلت برتی تو پھر صرف ایک غلطی یا ایک ناقص نظام پوری دنیا کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
لہٰذا، فرنٹیئر اے آئی آڈٹنگ صرف ایک ٹیکنیکل تجویز نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔ یہ اس بنیاد کا حصہ ہے جو ہمیں مستقبل میں اے آئی پر اعتماد، بھروسہ اور بھلائی کی بنیاد پر مبنی نظام کی طرف لے جائے گی۔ ہر کمپنی، ہر حکومت، اور ہر صارف کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عمل کو سنجیدگی سے لے، اس کا حصہ بنے، اور دنیا کو ایک محفوظ، منصفانہ اور ترقی یافتہ ڈیجیٹل مستقبل کی جانب لے کر جائے۔
No Comments