کیا مارک زکربرگ اپنا کام اے آئی کے حوالے کر رہے ہیں؟
آج کل ہر طرف اے آئی کی بات ہو رہی ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اسے صرف موبائل ایپس یا چیٹ بوٹس تک ہی سمجھتے ہیں۔ مگر اب بات اس سے کہیں آگے جا چکی ہے۔ اب بڑی کمپنیاں یہ سوچ رہی ہیں کہ کیا اے آئی انسانوں کی طرح فیصلے بھی کر سکتی ہے؟ اور اسی سوال کے بیچ ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے کہ مارک زکربرگ اپنی کمپنی کے کچھ اہم کام ایک اے آئی سسٹم کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اب اسے بہت آسان مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کریں آپ ایک بڑی کمپنی چلا رہے ہیں۔ آپ کے پاس سینکڑوں ملازمین ہیں، روزانہ کئی میٹنگز ہوتی ہیں، رپورٹس آتی ہیں، فیصلے لینے ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ عام طور پر سی ای او کو مختلف لوگوں سے معلومات لینی پڑتی ہے، پھر اس بنیاد پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
لیکن اب میٹا ایک ایسا سسٹم بنا رہی ہے جہاں یہ سب کام ایک اے آئی خود کر کے آپ کو سیدھا نتیجہ دے سکتی ہے۔ یعنی بیچ کے کئی مراحل ختم ہو جائیں گے۔ آپ کو لمبی لمبی رپورٹس پڑھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اے آئی آپ کو مختصر اور اہم معلومات دے دے گی۔ یہ جو نیا سسٹم بنایا جا رہا ہے، اسے ہم آسان الفاظ میں “ڈیجیٹل اسسٹنٹ” کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ عام اسسٹنٹ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا ذہین سسٹم ہے جو خود ڈیٹا کو سمجھتا ہے، سوالات کے جواب دیتا ہے، اور آپ کو بہتر فیصلے لینے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اسے “اے آئی سی ای او” بھی کہہ رہے ہیں۔
میٹا نے اس مقصد کے لیے کچھ خاص ٹولز بھی بنائے ہیں۔ ان میں ایک “Second Brain” ہے۔ نام سن کر تھوڑا عجیب لگتا ہے، لیکن کام بہت سادہ ہے۔ یہ ایک ایسا سسٹم ہے جو کمپنی کے تمام ڈاکومنٹس، فائلز اور معلومات کو ایک جگہ رکھتا ہے اور جب بھی کسی کو کچھ چاہیے ہوتا ہے تو فوراً ڈھونڈ کر دے دیتا ہے۔ یعنی جیسے آپ کے پاس ایک دوسرا دماغ ہو جو سب کچھ یاد رکھتا ہے۔ ایک اور ٹول “My Claw” ہے، اور یہ تو اور بھی دلچسپ ہے۔ فرض کریں آپ کسی ساتھی سے بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن آپ کے پاس وقت نہیں۔ اب آپ کا اے آئی اسسٹنٹ اس کے اے آئی اسسٹنٹ سے بات کر لے گا۔ یعنی انسان کے بجائے مشینیں آپس میں بات کر کے کام مکمل کریں گی۔
یہ سن کر شاید عجیب لگے، لیکن حقیقت میں یہ کام کو بہت تیز بنا سکتا ہے۔ کیونکہ مشینیں نہ تھکتی ہیں، نہ وقت ضائع کرتی ہیں، اور نہ ہی غلط فہمی کا شکار ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ میٹا نے ایک ایسا سسٹم بھی بنایا ہے جہاں اے آئی بوٹس آپس میں خود بات چیت کرتے ہیں۔ یعنی ایک طرح سے کمپنی کے اندر ایک “ڈیجیٹل دنیا” بن رہی ہے جہاں اے آئی خود فیصلوں میں حصہ لے رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس کا سیدھا جواب ہے: وقت بچانے اور کام تیز کرنے کے لیے۔
آج کل ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے جسے “Tokenmaxxing” کہا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنے کام میں زیادہ سے زیادہ اے آئی استعمال کر رہے ہیں تاکہ وہ جلدی اور زیادہ کام کر سکیں۔ بڑی کمپنیوں میں اب یہ سوچ بن رہی ہے کہ اگر آپ اے آئی استعمال نہیں کر رہے تو آپ پیچھے رہ جائیں گے۔ Gergely Orosz جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب کچھ جگہوں پر اے آئی استعمال نہ کرنا بھی ایک خطرہ بن گیا ہے۔ یعنی اگر آپ اس ٹیکنالوجی کو نہیں اپناتے تو آپ کا کام کم اہم سمجھا جا سکتا ہے۔ مارک زکربرگ نے بھی کہا ہے کہ وہ ایسے ٹولز بنا رہے ہیں جن سے ایک شخص زیادہ کام کر سکے۔ ان کے مطابق اب وہ وقت آ رہا ہے جب ایک باصلاحیت انسان وہ کام کر سکے گا جو پہلے پوری ٹیم کرتی تھی۔
یہ بات سننے میں اچھی لگتی ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ خدشات بھی ہیں۔ مثلاً اگر اے آئی خود فیصلے کرنے لگے تو کیا وہ ہمیشہ صحیح ہوں گے؟اور اگر اسے غلط ڈیٹا مل جائے تو کیا ہوگا؟ اور اگر یہ سسٹم کسی غلط کام کے لیے استعمال ہو جائے تو؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی طاقتور ہو رہی ہے، ویسے ویسے اسے سنبھالنا بھی ضروری ہے۔ اگر اسے کمپنی کے اہم ڈیٹا سے جوڑ دیا جائے تو اسے ایک حساس نظام کی طرح دیکھنا ہوگا، جیسے بینک یا بجلی کا نظام ہوتا ہے۔ میٹا نے کچھ ایسی کمپنیوں کو بھی خریدا ہے جو اے آئی ایجنٹس پر کام کر رہی تھیں، جیسے Moltbook۔ یہاں اے آئی بوٹس خود ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ لیکن کچھ مواقع پر ان بوٹس کے رویے پر سوال بھی اٹھے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی مکمل نہیں ہے۔
اگر ہم سادہ انداز میں بات کریں تو یہ سب کچھ ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب کام صرف انسان نہیں کریں گے بلکہ اے آئی بھی ان کے ساتھ ہوگی۔ یہ ایک ایسا نظام ہوگا جہاں انسان اور مشین مل کر کام کریں گے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا ضروری ہے۔ اے آئی ابھی انسان کی جگہ لینے کے لیے نہیں بلکہ اس کی مدد کرنے کے لیے آئی ہے۔ یہ فیصلے آسان بناتی ہے، تیز بناتی ہے، لیکن آخری فیصلہ اب بھی انسان کا ہی ہوتا ہے۔
آخر میں اگر سیدھی بات کریں تو میٹا کا یہ قدم ہمیں مستقبل کی ایک جھلک دکھا رہا ہے۔ ایک ایسا مستقبل جہاں ایک سی ای او کے پاس ایک “ڈیجیٹل دماغ” ہوگا، جو ہر وقت اس کی مدد کرے گا۔ اور شاید آنے والے وقت میں ہم واقعی ایسے دن دیکھیں جب کمپنیاں جزوی طور پر اے آئی کے ذریعے چل رہی ہوں گی۔


No Comments