مارشمیلو ٹیسٹ اور اے آئی: صبر، کامیابی اور ڈیجیٹل دور میں آپ کا راستہ
ایلون مسک نے حال ہی میں ایک دلچسپ تجربے کا ذکر کیا جسے مارشمیلو ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ دراصل اسٹینفورڈ یونیورسٹی کا ایک نفسیاتی تجربہ تھا جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا بچے فوری نتائج کو ترجیح دیتے ہیں یا صبر سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تجربے میں بچوں کے سامنے مارشمیلو ٹافی رکھی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ اگر وہ فوراً کھا لیں تو صرف ایک ملے گی، لیکن اگر کچھ دیر انتظار کریں تو انہیں دو ملیں گی۔
اکثر بچوں نے فوراً کھانے کو ترجیح دی کیونکہ وہ فوری مزہ چاہتے تھے یا انہیں یقین نہیں تھا کہ دوسرا شخص واپس آ کر واقعی مزید مارشمیلو دے گا۔ لیکن جو بچے صبر سے کام لیتے ہوئے انتظار کر سکے، ان کے بارے میں اسٹینفورڈ کی فالو اپ ریسرچ نے یہ ظاہر کیا کہ وہ زندگی میں زیادہ کامیاب ہوئے۔ ان کے تعلیمی گریڈز بہتر آئے، اچھی نوکریاں ملیں، اور مجموعی طور پر وہ عملی زندگی میں کامیاب رہے۔ اس تجربے نے یہ واضح کیا کہ صبر، دیرپا سوچ اور پلاننگ ایک کامیاب زندگی کے کلیدی اجزا ہیں۔
اب اگر ہم اسی اصول کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی پر لاگو کریں، تو آج کے دور میں بالکل ویسی ہی صورتحال سامنے آتی ہے۔ ہمارے سامنے دو راستے ہیں: پہلا یہ کہ ہم فوری نتائج پر خوش ہو جائیں۔ جیسا کہ کسی تصویر کو اے آئی سے جنریٹ کروایا، انسٹاگرام پر لگایا، چند لائکس اور تبصرے ملے اور ہم مطمئن ہو گئے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے، سیکھنے اور اس سے حقیقی فائدہ اٹھانے کی سنجیدہ کوشش کریں۔
ایلون مسک نے بھی یہی پیغام دیا کہ جو لوگ صبر سے اے آئی کو سیکھنے، اس پر کام کرنے، اور اسے اپنی زندگی میں لاگو کرنے کا وقت نکالیں گے، وہی مستقبل میں آگے بڑھیں گے۔ یہ کام آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ آپ کو چاہیے کہ خود سے سوال کریں: کیا میں صرف سوشل میڈیا کے لیے امیج یا ویڈیو بنا کر وقتی خوشی حاصل کرنا چاہتا ہوں، یا میں اس ٹیکنالوجی کو اپنی تعلیم، کیریئر یا کاروبار کی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہوں؟
مصنوعی ذہانت اب صرف ایک شوقیہ ٹول نہیں رہا، یہ ایک مکمل سسٹم ہے جو آپ کی مدد بھی کر سکتا ہے، آپ کو سکھا بھی سکتا ہے، اور آپ کے لیے کام بھی کر سکتا ہے۔ اور وہ بھی بالکل مفت۔ اگر آپ طالبعلم ہیں تو یہ آپ کے لیے سیکھنے، نوٹس بنانے، اور امتحانات کی تیاری کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کاروباری شخصیت ہیں تو اے آئی سے پروڈکٹ ڈیزائن، مارکیٹنگ کیمپینز، ڈیٹا اینالیسز، اور صارفین سے رابطے میں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
یاد رکھیں، صرف امیجز بنوانا اور چند لائکس حاصل کرنا اصل کامیابی نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ موجودہ ٹیکنالوجی کو صحیح طریقے سے سمجھ کر طویل مدتی فائدے حاصل کریں۔ یہ وہی سبق ہے جو مارشمیلو ٹیسٹ ہمیں دیتا ہے: صبر کریں، گہرائی میں جا کر سیکھیں، اور اپنے فیصلوں کو وقتی خوشی کی بجائے طویل فائدے کی بنیاد پر کریں۔
آج، ہمارے پاس اے آئی ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ‘بس تصویر بنا کر اپ لوڈ کر دو’ بلکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ‘میں اس سے اپنی شخصیت، کیریئر اور علم میں اضافہ کیسے کر سکتا ہوں’۔
اگر آپ اس ٹیکنالوجی کو صرف تفریح تک محدود رکھیں گے، تو آپ بھی ان بچوں کی طرح ہوں گے جنہوں نے پہلی مارشمیلو کھا لی۔ لیکن اگر آپ نے وقت نکالا، سیکھا، اور صبر سے اپنی مہارتیں بہتر بنائیں تو مستقبل میں آپ کے پاس دو نہیں، درجنوں کامیابیاں ہوں گی۔
No Comments