انویڈیا اور گروق کے درمیان 20 ارب ڈالر کا لائسنس معاہدہ
2025 کا آخری ہفتہ تھا، دنیا کرسمس کی چھٹیوں میں مصروف تھی، اور بیشتر لوگ سمجھ رہے تھے کہ اس سال اب کچھ خاص باقی نہیں۔ لیکن عین اسی وقت ایک خبر نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں زلزلہ برپا کر دیا: انویڈیا نے گروق نامی ایک چھوٹی مگر جدید چپ بنانے والی کمپنی سے 20 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا۔ بظاہر یہ دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی اے آئی ڈیل تھی۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ انویڈیا نے اسے خریداری (acquisition) نہیں بلکہ “لائسنسنگ معاہدہ” قرار دیا۔ یہ ایک چھوٹا سا لفظی فرق لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ فرق بہت کچھ بدل دیتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ گروق ہے کیا؟ گروق ایک امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی ہے جو خاص قسم کی کمپیوٹر چپس بناتی ہے جنہیں LPU کہا جاتا ہے یعنی Language Processing Units۔ یہ چپس اس وقت کام آتی ہیں جب آپ کسی اے آئی چیٹ بوٹ جیسے کہ ChatGPT سے سوال کرتے ہیں اور وہ جواب دیتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اے آئی کا جواب آنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر اے آئی سسٹمز GPU یعنی Graphics Processing Units پر چلتے ہیں، جو دراصل ویڈیو گیمز کے لیے بنائے گئے تھے۔ وہ طاقتور ضرور ہیں، لیکن اے آئی کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں۔
یہیں گروق کا کمال سامنے آتا ہے۔ گروق نے ایسی چپس بنائیں جو خاص طور پر اے آئی چیٹ بوٹس کو تیز اور کم توانائی میں جواب دینے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کی چپس روایتی چپس کے مقابلے میں دس گنا تیزی سے کام کرتی ہیں اور دس گنا کم بجلی استعمال کرتی ہیں۔ گروق کے بانی جوناتھن روس وہی انجینئر ہیں جنہوں نے گوگل میں رہتے ہوئے TPU یعنی Tensor Processing Unit بنائی، جو اب گوگل کی اے آئی پاور کا مرکز ہے۔
اب ذرا گوگل کی بات کرتے ہیں۔ حال ہی میں گوگل نے اپنے نئے اے آئی ماڈل Gemini 3 کو متعارف کروایا، جو مکمل طور پر گوگل کی اپنی چپس پر تربیت یافتہ تھا۔ اس میں انویڈیا کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اس سے مارکیٹ میں یہ پیغام گیا کہ بڑی اے آئی کمپنیز اب انویڈیا پر انحصار کیے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب انویڈیا نے تیز قدم اٹھایا اور گروق کے بانی سمیت اہم افراد کو اپنے ساتھ ملا لیا لیکن کمپنی کو خریدنے کے بجائے، صرف اس کی ٹیکنالوجی کو لائسنس پر لے لیا۔
اب یہاں وہ نکتہ آتا ہے جو عام لوگوں کے لیے سمجھنا ضروری ہے: اگر انویڈیا گروق کو واقعی خریدتی تو حکومت کے کچھ سخت قوانین، جنہیں اینٹی ٹرسٹ قوانین کہا جاتا ہے، ان کے راستے میں آ سکتے تھے۔ انویڈیا پہلے ہی اے آئی چپ مارکیٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ کنٹرول کرتی ہے۔ اگر وہ گروق کو مکمل طور پر خرید لیتی، تو شاید حکومت اس معاہدے کو روک دیتی جیسے ماضی میں انویڈیا نے ARM نامی کمپنی کو خریدنے کی کوشش کی تھی، اور وہ ناکام ہوئی۔
تو پھر حل یہ نکالا گیا کہ کمپنی کو “خریدا” نہ جائے، بلکہ اس کی ٹیکنالوجی کا “لائسنس” لے لیا جائے اور ساتھ ہی اہم لوگوں کو انویڈیا میں ملازمت دے دی جائے۔ بظاہر گروق ایک آزاد کمپنی بنی رہتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کی جان انویڈیا کے پاس چلی جاتی ہے۔
اس حکمت عملی کا ایک اور فائدہ بھی ہوتا ہے کمپنی کے سرمایہ کار یعنی وہ لوگ جنہوں نے پیسے لگا رکھے ہوتے ہیں، انہیں اچھا منافع مل جاتا ہے۔ گروق کی پچھلی مالیت صرف 6.9 ارب ڈالر تھی، اور اب وہ 20 ارب ڈالر میں لائسنسنگ ڈیل کر کے کئی گنا زیادہ فائدہ میں آ گئے ہیں۔ جن کمپنیوں نے گروق میں سرمایہ لگایا، جیسے BlackRock, Samsung, Cisco وغیرہ، سب کو بڑا مالی فائدہ ہوا۔
لیکن کہانی کا ایک تلخ پہلو بھی ہے۔ گروق میں کام کرنے والے عام ملازمین جنہوں نے سالوں محنت کی، کم تنخواہ پر صرف اس لیے کام کیا کہ بعد میں کمپنی بیچے جانے پر ان کے اسٹاک آپشنز کی قیمت بڑھے گی اب ان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا۔ کیونکہ یہ “خریداری” نہیں ہے، ان کے شیئرز نقدی میں تبدیل نہیں ہوتے۔ یہ ایک تکنیکی چال ہے، لیکن اصل میں ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے جنہوں نے دن رات محنت کی۔
یہی ماڈل اب بڑی ٹیک کمپنیز کے لیے ایک نیا نسخہ بن گیا ہے۔ گوگل، مائیکروسافٹ، ایمیزون سب نے حالیہ مہینوں میں اسی طرح کی ڈیلز کی ہیں، جہاں بظاہر کمپنیز خریدی نہیں جا رہیں، بلکہ ان کی ٹیکنالوجی اور ٹیلنٹ کو لائسنس پر لے کر باقی کمپنی کو ایک خالی ڈھانچے کی طرح چھوڑ دیا جا رہا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر ہر نئی کمپنی جو کچھ نیا بناتی ہے، وہ آخر کار انویڈیا یا گوگل کے پاس چلی جاتی ہے، تو مسابقت (competition) کہاں رہ جاتی ہے؟ نئی کمپنیز کے لیے امید کم ہوتی جا رہی ہے کہ وہ کبھی خود بھی بڑی بن سکیں گی۔ سریبرز جیسی دوسری چپ کمپنیز بھی اب اپنے شیئر بازار میں آنے کے منصوبے روک رہی ہیں، کیونکہ شاید وہ بھی کسی بڑی کمپنی کا اگلا ہدف بن جائیں۔
آخری بات یہ کہ انویڈیا کے پاس 60 ارب ڈالر کی نقد رقم ہے۔ وہ جسے چاہے، جب چاہے، خرید یا “لائسنس” پر لے سکتی ہے۔ یہ قانوناً درست ضرور ہے، لیکن کیا یہ سب کچھ اخلاقی بھی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج اے آئی کی دنیا میں سب سے اہم بنتا جا رہا ہے۔
No Comments