گوگل کی رپورٹ اے آئی اور سیکھنے کے مستقبل کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
مصنوعی ذہانت اب صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ تعلیم کی وہ نئی حقیقت ہے جو طلبہ، اساتذہ اور والدین کے لیے یکسر نیا منظرنامہ پیش کر رہی ہے۔ گوگل نے حال ہی میں ایک نہایت اہم رپورٹ جاری کی ہے جس کا عنوان ہے “Artificial Intelligence and the Future of Learning“۔ اس رپورٹ کو گوگل لرننگ ٹیم، DeepMind، Google Research اور دنیا بھر کے تعلیمی ماہرین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ “رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکھنا محض اسکول کی چار دیواری تک محدود نہیں یہ انسان کی ایک فطری صلاحیت ہے، جو بچپن سے لے کر پوری زندگی جاری رہتی ہے۔” جیسے پرنٹنگ پریس اور انٹرنیٹ نے تعلیم کو بدلا، ویسے ہی اب مصنوعی ذہانت بھی ایک انقلابی طاقت بن کر ابھری ہے جو سیکھنے کے انداز، مقصد اور رفتار تینوں کو بدل رہی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت کو تعلیم کے اصولوں کے ساتھ مربوط طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ صرف معلومات دینے کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ سیکھنے کے عمل کو گہرا، دلچسپ اور ذاتی نوعیت کا بنا دیتی ہے۔ طلبہ اپنی رفتار کے مطابق سیکھ سکتے ہیں، اساتذہ وقت اور توانائی بچا سکتے ہیں، اور ایسے علاقے جہاں استاد یا اسکول دستیاب نہیں، وہاں بھی معیاری سیکھنے کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے۔ مشکل موضوعات کو سادہ، بصری انداز میں سمجھانا اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
تاہم یہ تبدیلی صرف مثبت امکانات تک محدود نہیں۔ گوگل کی رپورٹ ان خدشات کو بھی سامنے لاتی ہے جو مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جُڑے ہیں۔ کیا طلبہ صرف مصنوعی ذہانت پر انحصار کر کے خود سوچنا چھوڑ دیں گے؟ کیا تعلیم فوری جوابات اور شارٹ کٹس تک محدود ہو جائے گی؟ کیا یہ ٹیکنالوجی صرف شہری، انگریزی بولنے والے بچوں کے لیے دستیاب ہو گی؟ اور کیا اس کے ذریعے تعلیم ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو جائے گی؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہمیں بطور معاشرہ تلاش کرنا ہے۔
ان سوالات کے جواب صرف پالیسی سازوں پر نہیں چھوڑے جا سکتے، بلکہ والدین، اساتذہ اور خود طلبہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو مصنوعی ذہانت سے دور کرنے کے بجائے اس کا اخلاقی، مثبت اور سمجھدار استعمال سکھائیں۔ مصنوعی ذہانت کو فیملی لرننگ کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، جہاں بچے اور بڑے مل کر اپنی مادری زبان اردو میں سیکھیں، کیونکہ علم کا انحصار زبان پر نہیں بلکہ فہم پر ہوتا ہے۔
اساتذہ کے لیے یہ لمحہ ایک موقع کی مانند ہے۔ Khan Academy، ChatGPT، Gemini جیسے مصنوعی ذہانت ٹولز اب تدریسی عمل میں مدد دے سکتے ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ رٹنے کے بجائے تجزیہ، مکالمہ اور تخلیق پر مبنی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ مصنوعی ذہانت کو سیکھنے اور سکھانے کا ذریعہ بنائیں۔ ساتھ ہی، اپنی پیشہ ورانہ تربیت کو جاری رکھیں تاکہ بدلتے ہوئے تعلیمی منظرنامے میں وہ خود کو مؤثر اور باخبر رکھ سکیں۔
طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ایک استاد سے بڑھ کر ذاتی رہنما بن سکتا ہے، جو ہر وقت دستیاب ہو۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف جوابات حاصل کیے جائیں۔ طلبہ کو چاہیے کہ سوال کرنا، تحقیق کرنا اور خود سے سیکھنا جاری رکھیں۔ کوڈنگ، تحقیق اور پریزنٹیشن جیسی نئی مہارتیں آج کے تعلیمی دور میں ضروری بن چکی ہیں۔ اور سیکھنے کے اس سفر میں اردو کو شامل رکھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ علم کسی مخصوص زبان کا پابند نہیں۔
پاکستان میں آٹھویں جماعت سے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے ان کی معلوماتی کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اگر زبان، رسائی اور ٹیکنالوجی کو ایک ساتھ لے کر چلا جائے تو تعلیم واقعی سب کے لیے ہو سکتی ہے۔ اردو اے آئی اسی تعلیمی تبدیلی کو مقامی سطح پر ممکن بنانے کے لیے کام کر رہا ہے، اردو اے آئی کے بلاگ “کیا ہم مصنوعی ذہانت اور تعلیم کے مستقبل کے لیے تیار ہیں؟” اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سیکھنے کی سمت اب بدل چکی ہے اور ہمیں بھی اس کے ساتھ بدلنا ہوگا۔
مصنوعی ذہانت صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم نے آج سے تیاری نہ کی تو ہم اور ہمارے بچے ایک ایسے نظام تعلیم میں رہ جائیں گے جو نہ ہماری زبان سمجھتا ہو گا، نہ ہمارے تقاضے۔ آج کی سیکھنے والی نسل کو صرف مصنوعی ذہانت کا صارف نہیں بلکہ اس انقلاب کا باشعور شریک بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں خود سیکھنے کی سمت میں قدم بڑھانا ہو گا۔
اردو اے آئی کی یہ کوشش کہ ٹیکنالوجی، زبان اور سیکھنے کو ایک ساتھ جوڑا جائے، تعلیم کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ اگر ہم سب اس سفر کا حصہ بنیں تو نہ صرف ہم بدلتے وقت کا ساتھ دے سکیں گے بلکہ ایک زیادہ منصفانہ، قابلِ رسائی اور ہم آہنگ تعلیمی نظام کی بنیاد بھی رکھ سکیں گے۔
No Comments