گوگل کا پروجیکٹ جینی کیا ہے؟
گوگل نے ایک ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو آپ کے تصور کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔ اب آپ اپنے ذہن میں کوئی بھی منظر سوچ کر اس میں خود داخل ہو سکتے ہیں اور گھوم سکتے ہیں۔ اس نئی سہولت کا نام پروجیکٹ جینی ہے اور یہ ابھی امریکہ میں گوگل کی خاص سبسکرپشن استعمال کرنے والوں کے لیے دستیاب ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ آہستہ آہستہ اسے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔
فرض کیجیے کہ آپ برف سے ڈھکے پہاڑوں کی سیر کرنا چاہتے ہیں، یا کسی قدیم قلعے میں گھومنا چاہتے ہیں، یا سمندر کے کنارے چلنا چاہتے ہیں۔ اب یہ سب ممکن ہے۔ آپ کو بس اپنے الفاظ میں بتانا ہے کہ آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں، یا کوئی تصویر اپ لوڈ کرنی ہے، اور کمپیوٹر آپ کے لیے وہ دنیا بنا دیتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی اس لیے منفرد ہے کہ یہ پہلے سے بنی بنائی تصاویر یا ویڈیوز نہیں دکھاتی۔ جب آپ اس دنیا میں آگے بڑھتے ہیں، تو کمپیوٹر فوری طور پر آپ کے سامنے نیا منظر بناتا رہتا ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے آپ واقعی کسی جگہ پر چل رہے ہوں۔ اگر آپ دائیں مڑیں تو دائیں طرف کا منظر نظر آئے گا، اگر بائیں مڑیں تو بائیں طرف کا منظر نظر آئے گا۔
پروجیکٹ جینی استعمال کرنا کافی آسان ہے۔ سب سے پہلے آپ لکھتے ہیں کہ آپ کیسا منظر دیکھنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر جھیل کے کنارے پرانا مکان یا جنگل میں پگڈنڈی۔ اس کے بعد آپ یہ بھی طے کر سکتے ہیں کہ اس دنیا میں کیسے چلیں گے۔ پیدل، گاڑی میں بیٹھ کر، یا اڑ کر۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ یہ بھی چن سکتے ہیں کہ منظر کو کس انداز سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یا تو آپ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھیں، یا پھر باہر سے اپنے کردار کو دیکھیں جیسا کہ فلموں اور ویڈیو گیمز میں ہوتا ہے۔
جب آپ کی دنیا تیار ہو جائے تو آپ اس میں داخل ہو کر گھوم سکتے ہیں۔ موبائل کی اسکرین یا کمپیوٹر کے بٹن سے آپ اپنے کردار کو حرکت دیتے ہیں۔ جیسے جیسے آپ آگے بڑھتے ہیں، نیا نظارہ سامنے آتا رہتا ہے۔ آپ کیمرے کا زاویہ بھی بدل سکتے ہیں تاکہ منظر کو مختلف طریقے سے دیکھ سکیں۔
اس کے علاوہ آپ دوسرے لوگوں کی بنائی ہوئی دنیاؤں میں بھی جا سکتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی نے صحرا کا منظر بنایا ہے تو آپ اس میں نخلستان یا خیمے شامل کر سکتے ہیں۔ گوگل نے کچھ نمونے کی دنیائیں بھی فراہم کی ہیں جن سے آپ آئیڈیا لے سکتے ہیں۔ اور جب کام مکمل ہو جائے تو آپ اپنی بنائی ہوئی دنیا کی ویڈیو بھی محفوظ کر سکتے ہیں۔ البتہ گوگل نے خود تسلیم کیا ہے کہ یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کچھ مسائل موجود ہیں۔ کبھی کبھار بنائی گئی دنیائیں بالکل حقیقی نظر نہیں آتیں۔ کبھی آپ کا کردار اتنی آسانی سے قابو میں نہیں رہتا جتنا ہونا چاہیے۔ اور فی الوقت آپ صرف ساٹھ سیکنڈ کی دنیا ہی بنا سکتے ہیں۔
یہ سہولت ابھی صرف ان لوگوں کے لیے دستیاب ہے جو امریکہ میں رہتے ہیں اور گوگل اے آئی الٹرا نامی خاص سبسکرپشن استعمال کرتے ہیں۔ استعمال کرنے والے کی عمر کم از کم اٹھارہ سال ہونی ضروری ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جو لوگ روبوٹ بناتے ہیں وہ اس سے دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا روبوٹ مختلف حالات میں کیسے کام کرے گا۔ فلم بنانے والے اپنی کہانیوں کے مناظر تیار کر سکتے ہیں۔ اساتذہ اپنے طلبا کو تاریخی مقامات کی سیر کرا سکتے ہیں۔
گوگل نے بتایا کہ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو عام لوگوں تک پہنچانے سے پہلے کافی جانچ پڑتال کی ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اس کا تجربہ کروایا اور ان کی رائے لی۔ اب وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عام صارفین اسے کیسے استعمال کرتے ہیں اور کس طرح کی دنیائیں بناتے ہیں۔
گوگل کے مطابق، ان کا مقصد یہ جانناہے کہ لوگ اس ٹیکنالوجی کو کن کن طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔ اس سے انہیں مستقبل میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گوگل نے گزشتہ سال اگست میں پہلی بار اس ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات شیئر کی تھیں، لیکن اب پہلی بار عام لوگ (اگرچہ محدود تعداد میں) اسے استعمال کر سکیں گے۔ جن لوگوں نے ابتدائی مرحلے میں اسے آزمایا، انہوں نے بہت ہی دلچسپ اور تخلیقی دنیائیں بنائیں۔
پروجیکٹ جینی کے پیچھے تین الگ الگ ٹیکنالوجیز کام کر رہی ہیں۔ ایک جینی 3 ہے جو دنیا کو بناتی ہے، دوسری جیمینی ہے جو گوگل کی مصنوعی ذہانت ہے، اور تیسری نانو بنانا پرو ہے جو تصاویر کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے فائدے کے لیے استعمال ہو۔ اسی لیے وہ احتیاط سے آگے بڑھ رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ لوگ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ ابھی کچھ خصوصیات جن کا انہوں نے پہلے ذکر کیا تھا، جیسے کہ آپ کے گھومنے پھرنے سے دنیا میں خودبخود کچھ واقعات کا رونما ہونا، اس ورژن میں شامل نہیں ہیں۔ لیکن کمپنی نے وعدہ کیا ہے کہ مستقبل میں یہ سب شامل کیا جائے گا۔
یہ ٹیکنالوجی اس بات کی ایک جھلک ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے مستقبل میں کیا کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔ پہلے ہم صرف کتابوں میں پڑھ کر یا فلموں میں دیکھ کر خیالی دنیاؤں کا تصور کر سکتے تھے، لیکن اب ہم خود ان دنیاؤں میں جا سکتے ہیں اور انہیں اپنی مرضی سے تشکیل دے سکتے ہیں۔
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے مہینوں اور سالوں میں یہ ٹیکنالوجی کتنی ترقی کرتی ہے اور کتنے لوگ اس سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔ فی الحال یہ صرف امریکہ میں دستیاب ہے، لیکن امید ہے کہ جلد ہی دنیا کے دیگر حصوں میں بھی لوگ اسے استعمال کر سکیں گے۔
No Comments