سی ڈانس 2.0 کیا ہے؟ وہ اے آئی ماڈل جس نے ہالی وڈ میں ہلچل مچا دی
ہالی وڈ میں اس وقت جس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو ہو رہی ہے وہ کوئی نئی فلم، سپر اسٹار یا باکس آفس ریکارڈ نہیں بلکہ ایک مصنوعی ذہانت کا ماڈل ہے۔ چند سطریں لکھیں اور بدلے میں مکمل فلمی معیار کی ویڈیو حاصل کریں۔ یہ دعویٰ ہے سی ڈانس 2.0 کا، جسے ٹِک ٹاک کی مالک کمپنی ByteDance نے تیار کیا ہے۔ اس ماڈل نے نہ صرف سوشل میڈیا صارفین کو حیران کیا ہے بلکہ فلمی صنعت میں بھی تشویش اور تجسس دونوں کو جنم دیا ہے۔
عام الفاظ میں سمجھیں تو سی ڈانس 2.0 ایک ایسا سافٹ ویئر ہے جو تحریری ہدایات کو ویڈیو میں بدل دیتا ہے۔ اگر کوئی صارف لکھے کہ “بارش میں ایک سپر ہیرو شہر کی عمارت کی چھت پر کھڑا ہے اور پس منظر میں سنسنی خیز موسیقی بج رہی ہے”، تو یہ ماڈل اس منظر کو تخلیق کر سکتا ہے۔ کیمرے کا زاویہ، روشنی، حرکت، آواز اور بعض اوقات مکالمے بھی خودکار طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے ماہرین کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ یہ ویڈیوز محض اے آئی ویڈیوزنہیں بلکہ باقاعدہ فلمی پروڈکشن جیسی محسوس ہوتی ہیں۔
سی ڈانس کا پہلا ورژن جون 2025 میں سامنے آیا تھا، مگر اس وقت اسے زیادہ توجہ حاصل نہیں ہوئی۔ تاہم آٹھ ماہ بعد آنے والے ورژن 2.0 نے اچانک عالمی توجہ حاصل کر لی۔ سوشل میڈیا پر اس سے تیار کردہ ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں، جن میں مشہور سپر ہیروز اور فلمی کردار دکھائے گئے۔ ایک ویڈیو میں اداکار ول سمتھ کو سپگیٹی کھاتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ ایک اور منظر میں وہ ایک خیالی مخلوق سے لڑتے نظر آئے۔ دیکھنے والوں کے مطابق مناظر اتنے حقیقت سے قریب تھے کہ پہلی نظر میں انہیں اصل اور مصنوعی میں فرق کرنا مشکل تھا۔
اس سے پہلے بھی مغربی کمپنیاں ویڈیو بنانے والے اے آئی ماڈلز پیش کر چکی ہیں، جیسے OpenAI کا سورا، مگر کئی ماہرین کے مطابق سی ڈانس 2.0 کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے تصویر، آواز اور حرکت کو زیادہ مربوط انداز میں پیش کیا ہے۔ جہاں بعض دیگر ماڈلز کرداروں کی حرکت یا چہرے کے تاثرات میں کمزوری دکھاتے تھے، وہاں سی ڈانس نے نسبتاً بہتر نتائج دیے ہیں، خاص طور پر ایکشن مناظر میں۔
تاہم اس پیش رفت کے ساتھ ہی تنازع بھی سامنے آیا۔ Disney اور Paramount Pictures جیسے بڑے اسٹوڈیوز نے اعتراض کیا کہ ان کے کاپی رائٹ شدہ کردار بغیر اجازت استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کمپنیوں نے باضابطہ خطوط کے ذریعے مطالبہ کیا کہ یہ مواد فوری طور پر ہٹایا جائے۔ جاپان میں بھی اسی نوعیت کی تحقیقات جاری ہیں۔ بائٹ ڈانس کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے، لیکن یہ تنازع اس بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والا مواد کہاں سے آتا ہے اور کیا اس کی اجازت لی گئی ہوتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اے آئی کمپنیوں کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہو۔ 2023 میں امریکی اخبار The New York Times نے Microsoft اور اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے مضامین بغیر اجازت تربیتی مواد کے طور پر استعمال کیے گئے۔ اسی طرح دیگر پلیٹ فارمز نے بھی اپنے مواد کے غیر مجاز استعمال پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی رفتار قانون سازی سے کہیں زیادہ تیز ہے۔
فلمی صنعت میں اس پیش رفت کو ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ کچھ فلم سازوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی تخلیقی افراد کے لیے ایک طاقتور آلہ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے کم بجٹ میں بھی معیاری مناظر تخلیق کیے جا سکیں گے۔ ایک طالب علم یا یوٹیوبر بغیر بڑی ٹیم کے بھی معیاری ویڈیو تیار کر سکتا ہے۔ چھوٹے کاروباری افراد اپنی تشہیری ویڈیوز خود بنا سکتے ہیں۔ اس طرح ویڈیو تخلیق کی طاقت چند بڑے اسٹوڈیوز تک محدود نہیں رہے گی۔
لیکن دوسری طرف خدشات بھی موجود ہیں۔ اگر کمپنیاں لاگت کم کرنے کے لیے انسانی عملے کی جگہ اے آئی ٹولز استعمال کرنے لگیں تو اداکاروں، کیمرہ مینوں، ایڈیٹرز اور دیگر تکنیکی عملے کے روزگار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر اے آئی سے تیار شدہ ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب ہوں کہ اصل اور مصنوعی میں فرق کرنا مشکل ہو جائے، تو غلط معلومات پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں واضح لیبلنگ اور شفاف قوانین ضروری ہوں گے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
سی ڈانس 2.0 نے ایک اور بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ کیا چین مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں مغرب کے برابر یا اس سے آگے نکل رہا ہے۔ چینی کمپنیوں نے حالیہ برسوں میں کئی جدید اے آئی ٹولز متعارف کروائے ہیں، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ چین اس میدان میں سنجیدہ سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ نئے سال کے موقع پر نئی اے آئی مصنوعات متعارف کروانے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے تاکہ کروڑوں صارفین فوری طور پر انہیں آزما سکیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سی ڈانس 2.0 نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ویڈیو تخلیق کا عمل تیزی سے بدل رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی تخلیقی اظہار کے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ قانونی، اخلاقی اور معاشی سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ کیا مستقبل میں فلم سازی زیادہ جمہوری ہو جائے گی یا چند بڑی ٹیک کمپنیوں کے ہاتھ میں مرکوز ہو جائے گی؟ فی الحال اتنا واضح ہے کہ کمپیوٹر اب صرف حساب نہیں لگا رہا بلکہ کہانیاں بھی تخلیق کر رہا ہے، اور یہی وہ تبدیلی ہے جس نے ہالی وڈ کو چونکا دیا ہے۔
No Comments