مصنوعی ذہانت کے دور میں اداروں کے لیے سب سے بڑا فیصلہ کیا ہے؟
مصنوعی ذہانت کے دور میں کاروبار کرنے کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے، مگر اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے ٹیکنالوجی کا ماہر ہونا ضروری نہیں۔ اصل بات صرف اتنی ہے کہ آج کے وقت میں ہر ادارے کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کا ڈیٹا ہے۔ یہ ڈیٹا صارفین کی معلومات، کاروباری ریکارڈ، فیصلوں کی بنیاد اور مستقبل کی منصوبہ بندی سب کچھ اپنے اندر سمیٹے ہوتا ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ ڈیٹا موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس پر اصل اختیار کس کے پاس ہے۔
دنیا بھر میں حکومتیں اس بات پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں کہ ان کے ملکوں میں کام کرنے والے ادارے اپنا ڈیٹا کہاں رکھتے ہیں، کون اسے استعمال کرتا ہے اور اس پر کس کا قانون لاگو ہوتا ہے۔ ماہر ادارہ Gartner اندازہ لگا چکا ہے کہ چند برسوں میں دنیا کی اکثریت حکومتیں ایسے قوانین متعارف کرائیں گی جو ڈیجیٹل خودمختاری کو لازمی بنا دیں گے۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی کمپنی ان قوانین پر پورا نہیں اترے گی تو اسے صرف جرمانہ ہی نہیں ہوگا بلکہ ممکن ہے وہ کسی ملک یا خطے میں کاروبار ہی نہ کر سکے۔
ڈیجیٹل خودمختاری سننے میں ایک مشکل اصطلاح لگتی ہے، مگر اس کا مفہوم عام اور سادہ ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی ادارہ اپنے ڈیٹا، سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل نظام پر خود کتنا کنٹرول رکھتا ہے۔ کیا کمپنی کو معلوم ہے کہ اس کا ڈیٹا کہاں محفوظ ہے؟ کیا وہ خود طے کر سکتی ہے کہ اسے کون استعمال کرے گا؟ اور کیا وہ اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ اس کا ڈیٹا غلط ہاتھوں میں نہ جائے؟ جو ادارے ان سوالات کے واضح جواب رکھتے ہیں، وہی حقیقی معنوں میں ڈیجیٹل طور پر خودمختار سمجھے جاتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نے اس مسئلے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ آج اے آئی کے ذریعے فیصلے تیز کیے جا رہے ہیں، اخراجات کم ہو رہے ہیں اور صارفین کو بہتر خدمات مل رہی ہیں۔ لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ادارے کے پاس اپنے ڈیٹا پر مکمل اختیار ہو۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق اداروں کے پاس موجود تقریباً ننانوے فیصد ڈیٹا آج بھی استعمال میں نہیں آ رہا۔ اگر یہ ڈیٹا محفوظ، منظم اور ادارے کے اپنے کنٹرول میں ہو تو یہی ڈیٹا ترقی اور مقابلے میں سبقت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سائبر حملوں کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ آئے دن خبریں آتی ہیں کہ کسی کمپنی کا ڈیٹا چوری ہو گیا، صارفین کی معلومات لیک ہو گئیں یا پورا نظام کچھ گھنٹوں کے لیے بند ہو گیا۔ ایسے واقعات صرف مالی نقصان نہیں کرتے بلکہ برسوں میں بننے والا اعتماد بھی ختم کر دیتے ہیں۔ ڈیجیٹل خودمختاری دراصل ایک حفاظتی دیوار کا کام کرتی ہے، جو ادارے کے اہم ڈیٹا کو غیر ضروری خطرات سے بچاتی ہے۔
کاروباری دنیا میں تبدیلی صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہی بلکہ کام کرنے کے طریقے بھی بدل رہے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں اب بھی پرانے، سست اور الگ الگ شعبوں میں بٹے ہوئے نظام پر چل رہی ہیں۔ اس کے برعکس، جو ادارے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کو سمجھ کر اپنے کام کو سادہ اور مربوط بنا رہے ہیں، وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس تبدیلی میں ہائبرڈ کلاؤڈ جیسے تصورات سامنے آئے ہیں، جن کا مطلب یہ ہے کہ ادارے اپنے حساس ڈیٹا کو زیادہ محفوظ نظام میں رکھتے ہیں اور باقی کام کے لیے لچکدار حل اپناتے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خودمختار ڈیجیٹل نظاموں کی مارکیٹ آنے والے برسوں میں کئی گنا بڑھے گی، خاص طور پر بینکاری اور صحت جیسے شعبوں میں جہاں ڈیٹا انتہائی حساس ہوتا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو ادارے اور ان کے سربراہان آج درست فیصلے کریں گے، وہ مستقبل میں فائدے میں رہیں گے۔ جو تاخیر کریں گے، ان کے لیے مقابلہ مشکل ہو جائے گا۔
چیف ایگزیکٹو افسران کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ ڈیجیٹل خودمختاری اب صرف آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا موضوع نہیں رہی بلکہ براہِ راست قیادت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ادارے واضح اصول اپنائیں، ایسے نظام منتخب کریں جو قوانین کے مطابق ہوں، اور اپنے ملازمین کو نئی مہارتیں سکھائیں تاکہ وہ بدلتی دنیا کے ساتھ چل سکیں۔ قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ تعاون بھی اس راستے کو آسان بناتا ہے، جیسا کہ عالمی سطح پر کچھ ادارے مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں، جن میں IBM کی مثال بھی دی جاتی ہے۔
آخر میں بات بہت سادہ ہے۔ ڈیجیٹل خودمختاری کا مطلب یہ نہیں کہ ادارے دنیا سے کٹ جائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی ڈیجیٹل بنیادوں پر خود اختیار رکھیں۔ یہ بقا کی جنگ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ جو ادارے آج اپنے ڈیٹا، اعتماد اور ٹیکنالوجی کو سنجیدگی سے لیں گے، وہ آنے والے برسوں میں نہ صرف محفوظ رہیں گے بلکہ ترقی کی دوڑ میں آگے بھی ہوں گے۔ یہ فیصلہ آج کرنا ہوگا، کیونکہ ڈیجیٹل دنیا میں انتظار کی گنجائش دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔
No Comments