-
Mairaj Roonjha
- No Comments
- AI Agents, AI Deployment, AI in Business, AI Platform, Artificial Intelligence, Business Automation, digital transformation, Enterprise AI, OpenAI Frontier, workflow automation
اوپن اے آئی فرنٹیئر کیا ہے اور یہ کمپنیوں کے کام کو کیسے آسان بنا رہا ہے؟
مصنوعی ذہانت پچھلے چند برسوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ اب بھی ایک سوال ہے کہ آخر یہ بڑی کمپنیوں میں عملی طور پر کیسے کام آتی ہے۔ اوپن اے آئی نے اسی سوال کا جواب دینے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے جسے اوپن اے آئی فرنٹیئر کہا جا رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اب مسئلہ یہ نہیں رہا کہ اے آئی کیا کر سکتی ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسے اداروں کے اندر صحیح طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے تاکہ وہ واقعی کام میں بہتری لا سکے۔
آسان الفاظ میں اگر سمجھیں تو بہت سی بڑی کمپنیاں پہلے ہی مصنوعی ذہانت استعمال کر رہی ہیں۔ کوئی کمپنی چیٹ بوٹ سے کسٹمر سروس سنبھال رہی ہے، کوئی ڈیٹا کا تجزیہ کر رہی ہے، اور کوئی خودکار رپورٹنگ کر رہی ہے۔ لیکن اکثر یہ سب نظام الگ الگ چل رہے ہوتے ہیں۔ ایک شعبہ اپنی جگہ اے آئی استعمال کرتا ہے اور دوسرا شعبہ اپنی جگہ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مکمل فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا کیونکہ یہ سب نظام ایک دوسرے سے جڑے نہیں ہوتے۔
اوپن اے آئی کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں لاکھوں کاروباری اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک بات واضح ہوئی کہ سب سے بڑی رکاوٹ ماڈل کی ذہانت نہیں بلکہ تنظیم کے اندر اس کا درست استعمال ہے۔ کئی ملازمین کہتے ہیں کہ اے آئی نے انہیں ایسے کام کرنے میں مدد دی جو وہ پہلے نہیں کر سکتے تھے۔ مگر جب اسے پورے ادارے میں پھیلانے کی بات آتی ہے تو پیچیدگیاں سامنے آ جاتی ہیں۔ مختلف ڈیٹا بیس، الگ الگ سافٹ ویئر، مختلف کلاؤڈ سروسز اور سخت حفاظتی اصول اس عمل کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
اوپن اے آئی فرنٹیئر اسی مسئلے کا حل پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اسے یوں سمجھیں جیسے کسی نئے ملازم کو کمپنی میں شامل کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص نئی نوکری شروع کرتا ہے تو اسے کمپنی کے طریقہ کار، ڈیٹا تک رسائی، قواعد و ضوابط اور اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اسی طرح فرنٹیئر اے آئی ایجنٹس کو بھی آن بورڈ کرتا ہے۔ یعنی انہیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ کمپنی کیسے کام کرتی ہے، معلومات کہاں موجود ہے اور کن حدود کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔
ایک بڑا مسئلہ جو اکثر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ کمپنیوں کا ڈیٹا مختلف جگہوں پر بکھرا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسٹمر کی معلومات ایک نظام میں، مالیاتی ڈیٹا دوسرے میں، اور آپریشنل تفصیلات کسی تیسرے نظام میں موجود ہوتی ہیں۔ اگر اے آئی کو مکمل تصویر نظر نہ آئے تو وہ درست مشورہ یا فیصلہ نہیں دے سکتی۔ فرنٹیئر ان مختلف نظاموں کو ایک مشترکہ سیاق و سباق میں جوڑنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اے آئی کو پوری صورتحال سمجھ آ سکے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ فرنٹیئر کھلے معیارات پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اداروں کو اپنا موجودہ نظام تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی کمپنی پہلے سے کسی خاص سافٹ ویئر، کلاؤڈ سروس یا ڈیٹا پلیٹ فارم کا استعمال کر رہی ہے تو اسے ترک نہیں کرنا پڑے گا۔ فرنٹیئر انہی نظاموں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ اس سے وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ہوتی ہے۔
عملی مثالوں سے اس کی افادیت زیادہ واضح ہوتی ہے۔ ایک بڑے مینوفیکچرنگ ادارے میں پیداوار کو بہتر بنانے کا عمل پہلے کئی ہفتے لیتا تھا کیونکہ انجینئرز کو مختلف ڈیٹا دیکھنا اور مسائل کی جڑ تلاش کرنا پڑتی تھی۔ اے آئی ایجنٹس کی مدد سے یہی کام ایک دن میں مکمل کیا گیا۔ ایک سرمایہ کاری کمپنی نے سیلز کے عمل میں اے آئی کو شامل کیا جس کے بعد سیلز ٹیم کو گاہکوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ ایک توانائی پیدا کرنے والی کمپنی نے پیداوار میں چند فیصد اضافہ کیا جو مالی لحاظ سے اربوں کی قدر رکھتا ہے۔
فرنٹیئر صرف معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ اے آئی کو عملی طور پر کام کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ فائلیں کھول سکتا ہے، ڈیٹا ترتیب دے سکتا ہے، رپورٹس تیار کر سکتا ہے، کوڈ چلا سکتا ہے اور مختلف سافٹ ویئر ٹولز استعمال کر سکتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اے آئی صرف مشورہ دینے والا نظام نہ رہے بلکہ ایک فعال معاون بنے جو انسانوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔
ایک اور اہم پہلو سیکھنے کا ہے۔ جیسے ایک ملازم تجربے کے ساتھ بہتر ہوتا جاتا ہے، ویسے ہی اے آئی ایجنٹس بھی پچھلے کاموں سے سیکھ سکتے ہیں۔ فرنٹیئر میں ایسے نظام شامل کیے گئے ہیں جو کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کہاں بہتری کی ضرورت ہے۔ اس سے وقت کے ساتھ معیار بہتر ہوتا جاتا ہے اور اے آئی زیادہ قابلِ اعتماد بنتی ہے۔
حفاظت اور کنٹرول بھی اس پلیٹ فارم کا اہم حصہ ہیں۔ ہر اے آئی ایجنٹ کی اپنی شناخت ہوتی ہے اور اسے واضح اجازتیں دی جاتی ہیں۔ اسے صرف وہی معلومات اور نظام تک رسائی ملتی ہے جس کی اسے ضرورت ہو۔ اس سے حساس معلومات محفوظ رہتی ہیں اور کمپنی کو یقین ہوتا ہے کہ اے آئی حدود سے باہر جا کر کام نہیں کرے گی۔ خاص طور پر مالیاتی، طبی یا حکومتی اداروں میں یہ پہلو نہایت اہم ہے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ صرف ٹیکنالوجی فراہم نہیں کر رہا بلکہ اپنی ماہر ٹیموں کے ذریعے اداروں کے ساتھ مل کر کام بھی کرے گا۔ یہ ماہرین کمپنیوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیں گے کہ اے آئی کو کہاں اور کیسے نافذ کیا جائے۔ اس عمل کے دوران حاصل ہونے والی معلومات اوپن اے آئی کی تحقیق تک بھی پہنچتی ہیں، جس سے مستقبل کے ماڈلز کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ابتدائی طور پر چند بڑی عالمی کمپنیوں نے فرنٹیئر کو اپنایا ہے اور مزید ادارے اسے آزما رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اسے وسیع پیمانے پر دستیاب کیا جائے گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اے آئی اب محض ایک تجرباتی ٹول نہیں بلکہ کاروباری حکمت عملی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر اوپن اے آئی فرنٹیئر ایک ایسی کوشش ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کو منظم، محفوظ اور مؤثر طریقے سے کمپنیوں کے اندر شامل کرنا ہے۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اے آئی کو ایک ڈیجیٹل ساتھی کے طور پر دیکھا جائے جو انسانوں کے ساتھ مل کر کام کرے، نہ کہ ان کی جگہ لے۔ مستقبل میں وہی ادارے آگے بڑھ سکیں گے جو اس تبدیلی کو سمجھ کر بروقت اپنائیں گے۔ اصل سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی کیا کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون سی کمپنی اسے صحیح انداز میں اپنے نظام کا حصہ بناتی ہے۔
No Comments