عالمی تحقیقی رپورٹ “Stop Throwing AI Tools at Teachers “
حصہ سوم:
یہ بلاگ ایک عالمی تحقیقی رپورٹ کے تجزیے پر مبنی تین حصوں پر مشتمل سیریز کا آخری حصہ ہے۔ اس میں پہلے دو حصوں میں سامنے آنے والے مسائل اور تجربات کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کو مؤثر اور ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات ضروری ہیں۔ اس حصے میں اساتذہ کی تربیت، اخلاقی ذمہ داری، ادارہ جاتی کردار اور پالیسی سطح پر درکار تبدیلیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
حل کیا ہے؟ اساتذہ کو مصنوعی ذہانت کے لیے کیسے تیار کیا جائے
اس سیریز کے پہلے دو حصوں میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا مسئلہ اس کے وجود کا نہیں بلکہ اس کے نفاذ اور تیاری کے طریقے کا ہے۔ پہلے حصے میں یہ دیکھا گیا کہ اساتذہ کو ٹیکنالوجی تو دی جا رہی ہے مگر تربیت اور رہنمائی پیچھے رہ گئی ہے، جبکہ دوسرے حصے میں عالمی تحقیق کی روشنی میں اساتذہ کے عملی تجربات، خدشات اور غیر یقینی کیفیت سامنے آئی۔ اب اس آخری حصے میں توجہ اس سوال پر مرکوز ہے کہ ان تمام تجربات اور نتائج کی بنیاد پر عملی طور پر کیا کیا جانا چاہیے، تاکہ مصنوعی ذہانت تعلیم میں بوجھ بننے کے بجائے ایک مؤثر معاون ثابت ہو سکے۔
رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ سب سے پہلے اس بنیادی سوچ کو تبدیل کرنا ہو گا جس کے تحت مصنوعی ذہانت کو ایک فوری حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تعلیم ایک پیچیدہ انسانی عمل ہے، جس میں فیصلے صرف ڈیٹا یا الگورتھم کی بنیاد پر نہیں کیے جا سکتے۔ اساتذہ نہ صرف معلومات فراہم کرتے ہیں بلکہ طلبہ کی ذہنی، سماجی اور اخلاقی نشوونما میں بھی مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کو اساتذہ کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ ان کے معاون کے طور پر ڈیزائن اور نافذ کیا جانا چاہیے۔
یہ سوال کہ اساتذہ کو مصنوعی ذہانت کے لیے کیسے تیار کیا جائے، رپورٹ کا مرکزی نکتہ ہے۔ اس کے مطابق تربیت کو ایک وقتی سرگرمی کے بجائے مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے عمل کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ مختصر کورسز یا عارضی ورکشاپس اساتذہ کے اعتماد اور عملی فہم کے لیے کافی نہیں ہوتیں۔ اس کے برعکس ایسی تربیت درکار ہے جو وقت کے ساتھ جاری رہے، جس میں اساتذہ تجربات شیئر کر سکیں، سوالات اٹھا سکیں اور اپنی تدریسی ضروریات کے مطابق سیکھ سکیں۔
رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ تربیت صرف تکنیکی مہارت تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اساتذہ کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت تدریسی فیصلوں میں کہاں مددگار ہو سکتی ہے اور کہاں اس کی حدود مقرر کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی خودکار نظام کسی طالب علم کی کارکردگی کا تجزیہ پیش کرتا ہے تو استاد کو یہ اختیار اور فہم حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اس تجزیے کو کس حد تک قبول کرے اور کہاں اپنے پیشہ ورانہ تجربے کو ترجیح دے۔ اس طرح انسانی فیصلہ سازی کو مرکزی حیثیت حاصل رہتی ہے۔
یہ تربیت کب اور کہاں فراہم کی جائے، اس پر بھی رپورٹ تفصیل سے بات کرتی ہے۔ اساتذہ پہلے ہی تدریسی ذمہ داریوں، نصاب، امتحانات اور انتظامی امور کے دباؤ میں ہوتے ہیں۔ اگر مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیت کو ایک اضافی بوجھ کے طور پر پیش کیا جائے تو اس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ اس لیے سفارش کی گئی ہے کہ اس تربیت کو اساتذہ کے باقاعدہ پیشہ ورانہ ترقی کے نظام میں شامل کیا جائے، اور اس کے لیے وقت، وسائل اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کی جائے۔
رپورٹ میں اخلاقی پہلوؤں کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اساتذہ کے تجربات سے یہ بات سامنے آئی کہ بچوں کے ڈیٹا، خودکار جانچ اور نگرانی جیسے معاملات پر واضح رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کی تربیت میں اخلاقی سوالات کو مرکزی مقام دینا ضروری ہے۔ اساتذہ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ڈیٹا کا استعمال کہاں جائز ہے، شفافیت کیسے یقینی بنائی جائے اور کن مواقع پر انسانی مداخلت ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر محفوظ اور ذمہ دارانہ تعلیمی ماحول ممکن نہیں۔
یہ ذمہ داری صرف اساتذہ پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنیوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر اے آئی ٹولز تعلیمی مقاصد کے لیے بنائے جا رہے ہیں تو ان کا ڈیزائن بھی تعلیمی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ایسے نظام جو شفاف نہ ہوں، جن کے فیصلوں کی وضاحت ممکن نہ ہو یا جو اساتذہ کی پیشہ ورانہ خودمختاری کو محدود کریں، وہ تعلیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کو ڈیزائن کے ابتدائی مرحلے سے شامل کریں اور ان کے تجربات کو سنجیدگی سے لیں۔
یہاں حکومتوں اور پالیسی سازوں کا کردار بھی کلیدی ہو جاتا ہے۔ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر واضح ضابطے، رہنما اصول اور نگرانی کے نظام موجود نہ ہوں تو مصنوعی ذہانت کا استعمال غیر متوازن ہو سکتا ہے۔ پالیسی سازوں کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مصنوعی ذہانت تعلیم میں مساوات کو فروغ دے، نہ کہ موجودہ فرق کو مزید گہرا کرے۔ اس کے لیے قومی سطح پر فریم ورک، اخلاقی اصول اور مسلسل جائزے کے نظام ناگزیر ہیں۔
رپورٹ اس خیال کو بھی مسترد کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت خود بخود تعلیمی معیار کو بہتر بنا دے گی۔ اس کے مطابق اصل بہتری اسی وقت ممکن ہے جب ٹیکنالوجی کو انسانی تجربے کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ بصیرت، طلبہ کے ساتھ تعلق اور اخلاقی فیصلہ سازی کو کوئی خودکار نظام مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکتا۔ مصنوعی ذہانت کا کردار معاون کا ہونا چاہیے، نہ کہ فیصلہ کن کا۔
یہ آخری حصہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اساتذہ کو اس تبدیلی کے لیے کس طرح تیار کرتے ہیں۔ اگر تربیت کو سنجیدگی سے لیا جائے، اساتذہ کو بااختیار بنایا جائے اور ٹیکنالوجی، ادارے اور پالیسی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں تو مصنوعی ذہانت تعلیم کے لیے ایک مثبت قوت بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر یہی ٹیکنالوجی تعلیمی نظام میں مزید دباؤ، بے اعتمادی اور عدم مساوات کو جنم دے سکتی ہے۔
اسی کے ساتھ یہ تین حصوں پر مشتمل سیریز اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ یہ رپورٹ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تعلیم میں سب سے اہم عنصر اب بھی انسان ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کو اس انسانی مرکزیت کے ساتھ نہ جوڑا گیا تو ٹیکنالوجی آگے بڑھتی رہے گی، مگر تعلیم اپنے بنیادی مقصد سے دور ہوتی چلی جائے گی۔
No Comments