-
Mairaj Roonjha
- No Comments
- AI Impact, AI in Pakistan, AI in Urdu, AI Learning Platform, AI Opportunity Fund, Community Training, Digital Empowerment, impact in Pakistan, Local Leadership, Pakistan AI Initiative, Training of Trainers, Urdu Ai, Urdu AI Community Impact Program, Urdu AI Dost, Youth Skill Development
اردو اے آئی کا کمیونٹی امپیکٹ پروگرام کیا ہے؟

دنیا بھر میں اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت اب کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہی۔ تعلیم ہو یا کاروبار، صحت ہو یا میڈیا، ہر جگہ اس کا اثر دکھائی دے رہا ہے۔ کئی ماہرین اسے نئی ڈیجیٹل خواندگی قرار دیتے ہیں۔ یعنی جیسے کبھی پڑھنا لکھنا ضروری تھا، آج ٹیکنالوجی کو سمجھنا بھی اتنا ہی اہم بنتا جا رہا ہے۔ مگر پاکستان میں صورتحال کچھ مختلف تھی۔ یہاں لاکھوں نوجوان باصلاحیت ہونے کے باوجود اس تبدیلی میں پوری طرح شامل نہیں ہو پا رہے تھے۔ مسئلہ ذہانت کا نہیں تھا، بلکہ رسائی، زبان اور مواقع کا تھا۔ اسی پس منظر میں اردو اے آئی کا آغاز ہوا ایک ایسی کوشش جو مصنوعی ذہانت کو اردو زبان میں عام کرنے کا عزم رکھتی ہے۔
پاکستان میں زیادہ تر جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی سے متعلق مواد انگریزی میں دستیاب ہے۔ بڑے شہروں کے نجی تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے شاید یہ مسئلہ کم ہو، مگر دیہی علاقوں اور سرکاری اداروں کے نوجوانوں کے لیے یہ ایک حقیقی دیوار ہے۔ اردو اے آئی کی ٹیم کے مطابق سوال بہت سادہ تھا: اگر اے آئی سب کے لیے ہے تو کیا اسے سب کی زبان میں نہیں ہونا چاہیے؟ یہی سوچ اردو اے آئی کے آغاز کی بنیاد بنی۔ مقصد یہ تھا کہ مصنوعی ذہانت کو عام فہم اور آسان اردو میں سمجھایا جائے تاکہ کوئی نوجوان صرف زبان کی وجہ سے خود کو پیچھے نہ سمجھے۔
اردو اے آئی کا آغاز کسی بڑی تقریب یا سرکاری اعلان سے نہیں ہوا۔ یہ سفر سوشل میڈیا پر چند سادہ ویڈیوز اور مختصر تحریروں سے شروع ہوا۔ ان ویڈیوز میں اے آئی کے بنیادی تصورات کو عام زبان میں بیان کیا گیا۔ بتایا گیا کہ چیٹ بوٹس کیا ہوتے ہیں، جنریٹیو ٹولز کیسے کام کرتے ہیں، اور ایک طالب علم یا فری لانسر اس سے کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ساتھ ہی تحریری پوسٹس میں پیچیدہ اصطلاحات کو سادہ انداز میں سمجھایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ مصنوعی ذہانت کوئی خوفناک یا دور کی چیز نہیں، بلکہ ان کی زندگی کا حصہ بن سکتی ہے۔ جیسے جیسے سمجھ آئی، ویسے ویسے اعتماد بڑھا۔ سوالات آنے لگے۔ نوجوانوں نے مزید سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب اردو اے آئی کا کمیونٹی امپیکٹ پروگرام کی ضرورت پڑھی ۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا تھا جب عالمی ادارے خبردار کر رہے تھے کہ دنیا کا روزگار تیزی سے بدل رہا ہے۔ World Economic Forum کی رپورٹ کے مطابق آئندہ برسوں میں بڑی تعداد میں کارکنوں کو نئی مہارتیں سیکھنا ہوں گی کیونکہ آٹومیشن اور اے آئی کام کے طریقے بدل رہے ہیں۔
اسی طرح International Monetary Fund نے 2024 میں کہا کہ مصنوعی ذہانت عالمی سطح پر تقریباً 40 فیصد ملازمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان جیسے نوجوان ملک کے لیے یہ اعداد و شمار ایک واضح اشارہ تھے کہ اگر مقامی سطح پر مہارت نہ دی گئی تو نوجوان عالمی مسابقت میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔
اردو اے آئی کا کمیونٹی امپیکٹ پروگرام

آن لائن ویڈیوز، تحریروں اور ڈیجیٹل کورسز نے اردو اے آئی کی بنیاد ضرور رکھ دی تھی، مگر جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ صرف اسکرین پر موجود مواد کافی نہیں۔ مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے پیغامات موصول ہونے لگے کہ اے آئی کے بارے میں باقاعدہ تربیت دی جائے۔ کئی طلبہ نے کہا کہ انہیں عملی رہنمائی درکار ہے تاکہ وہ خود ٹولز استعمال کر سکیں۔ اساتذہ نے خواہش ظاہر کی کہ کلاس روم میں اس ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کے لیے رہنمائی ملے۔ انہی زمینی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے اردو اے آئی کا کمیونٹی امپیکٹ پروگرام متعارف کرایا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ علم کو صرف آن لائن نہ رکھا جائے بلکہ براہِ راست کمیونٹی تک پہنچایا جائے۔
یہ پروگرام ایک ملک گیر اقدام ہے جس کی قیادت Welfare Association for New Generation کر رہی ہے، جبکہ تکنیکی معاونت Wang Lab of Innovation فراہم کرتا ہے۔ اس ماڈل کے تحت مختلف شہروں، قصبوں اور اضلاع میں باقاعدہ ورکشاپس منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان سیشنز میں شرکا کو صرف نظری معلومات نہیں دی جاتیں بلکہ عملی طور پر اے آئی ٹولز استعمال کر کے دکھائے جاتے ہیں تاکہ سیکھنے والا خود تجربہ کر سکے۔
ان تربیتی سیشنز کو مرحلہ وار ترتیب دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے شرکا کو مصنوعی ذہانت کے بنیادی اصول سمجھائے جاتے ہیں تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ اے آئی کام کیسے کرتی ہے۔ اس کے بعد جنریٹیو ٹولز کا عملی استعمال سکھایا جاتا ہے، مثلاً مواد تیار کرنا، پریزنٹیشن بنانا یا ڈیٹا سے مدد لینا۔ اگلے مرحلے میں تعلیم اور تحقیق میں اس کا استعمال سمجھایا جاتا ہے تاکہ طلبہ اور اساتذہ اسے تعلیمی سرگرمیوں میں شامل کر سکیں۔ اسی کے ساتھ چھوٹے کاروبار کے لیے مثالیں دی جاتی ہیں کہ مارکیٹنگ، منصوبہ بندی اور پیداواری عمل میں اے آئی کس طرح مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ہر مرحلے میں ذمہ دار اور اخلاقی استعمال پر بھی زور دیا جاتا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کا استعمال محتاط اور درست انداز میں ہو۔
ہر سیشن کا مرکزی مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ اعتماد پیدا کرنا ہے۔ منتظمین کے مطابق جب لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اے آئی کس طرح کام کرتی ہے اور وہ خود اسے استعمال کر سکتے ہیں، تو خوف ختم ہو جاتا ہے اور امکانات واضح ہونے لگتے ہیں۔ یہی اعتماد اس پروگرام کی اصل کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
30 اردو اے آئی دوست: مقامی قیادت کی مثال

پروگرام کو ملک گیر بنانے کے لیے ہر سال 30 نوجوانوں کو منتخب کیا جاتا ہے جنہیں “اردو اے آئی دوست” کہا جاتا ہے۔ یہ افراد مختلف شہروں اور علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہیں باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں ورکشاپس منعقد کر سکیں۔ مقامی افراد جب اپنے ہی علاقے میں سکھاتے ہیں تو سیکھنے والوں کا اعتماد بڑھتا ہے۔ سوال پوچھنے میں جھجھک کم ہوتی ہے، اور سیکھنے کا ماحول زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔ یہی ماڈل پروگرام کی توسیع اور پائیداری کی بنیاد ہے۔
36 ہزار افراد تک رسائی
اردو اے آئی نے جون 2027 تک 36 ہزار افراد کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس میں بے روزگار نوجوان، طلبہ، اساتذہ، خواتین اور چھوٹے کاروباری افراد شامل ہیں۔ ہر ورکشاپ کی باقاعدہ دستاویز بندی کی جاتی ہے، شرکا کی حاضری اور پیش رفت ریکارڈ کی جاتی ہے تاکہ نتائج قابلِ پیمائش ہوں۔ مقصد صرف آگاہی نہیں بلکہ عملی مہارت ہے۔
عالمی شراکت، مقامی قیادت
یہ اقدام AVPN کے AI Opportunity Fund کے تحت سامنے آیا ہے، جسے Google.org اور Asian Development Bank کی حمایت حاصل ہے۔
تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کی اصل طاقت مقامی قیادت اور کمیونٹی کی شمولیت ہے۔ یہ درآمد شدہ تربیت نہیں بلکہ مقامی ضرورتوں کے مطابق تیار کیا گیا ماڈل ہے۔
ایک پروگرام نہیں، ایک سوچ کی تبدیلی

اردو اے آئی کو صرف ایک تعلیمی منصوبہ کہنا شاید اس کی اصل روح کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ دراصل ایک سوچ کی تبدیلی کی کوشش ہے ایسی سوچ جو یہ مانتی ہے کہ ٹیکنالوجی چند لوگوں کی ملکیت نہیں بلکہ سب کا حق ہے۔
ذرا تصور کیجیے ایک دور دراز علاقے کی طالبہ کا، جو پہلے انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے جدید ٹیکنالوجی سے فاصلے پر تھی۔ اب وہ اپنی زبان میں اے آئی سیکھ رہی ہے، تحقیق کر رہی ہے، اور خود اعتمادی کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھ رہی ہے۔ اسی طرح ایک چھوٹا کاروباری جو پہلے روایتی طریقوں پر انحصار کرتا تھا، اب مصنوعی ذہانت کے ٹولز سے اپنی مارکیٹنگ بہتر بنا رہا ہے۔ ایک استاد جو پہلے ٹیکنالوجی سے ہچکچاتا تھا، اب کلاس روم میں نئے طریقے آزما رہا ہے۔
یہ سب محض تربیت کے نتائج نہیں ہیں۔ یہ بااختیار ہونے کی مثالیں ہیں۔
اردو اے آئی کے منتظمین کہتے ہیں کہ یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ ان کا خواب صرف ورکشاپس منعقد کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے جہاں اردو زبان میں اے آئی سے متعلق مواد، تربیت، تحقیق اور قیادت مسلسل بڑھتی رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر طالب علم، ہر استاد اور ہر نوجوان کو یہ احساس ہو کہ یہ ٹیکنالوجی اس کی بھی ہے۔
اگر مصنوعی ذہانت واقعی ایک عالمی انقلاب ہے تو اسے چند زبانوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان میں اے آئی کا سفر اب صرف انگریزی تک محدود نہیں رہا۔ اردو بھی اس میں شامل ہو چکی ہے اور شاید یہی اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس نے زبان کی دیوار کو کمزور کرنا شروع کر دیا ہے۔
No Comments