ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی کمپنی مائیکروسافٹ نے پاکستان میں اپنا دفتر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو گزشتہ 25 برس سے یہاں سرگرم تھا۔ اس فیصلے نے ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے جڑے افراد کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
مائیکروسافٹ کے مطابق پاکستان میں ان کا “آپریٹنگ ماڈل تبدیل” کیا جا رہا ہے۔ تاہم دفتر کی بندش کے باوجود مقامی صارفین کے لیے سروسز دستیاب رہیں گی۔ کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ اس اقدام کا مقصد ادارہ جاتی بہتری اور مسابقتی برتری حاصل کرنا ہے۔
اس فیصلے کے پسِ منظر میں مائیکروسافٹ کی جانب سے مصنوعی ذہانت میں 80 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔ کمپنی اب اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز قائم کر رہی ہے۔
بی بی سی اردو سے گفتگو میں کمپنی کی ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ عالمی حکمتِ عملی کے تحت لیا گیا ہے۔ پاکستان میں محض پانچ ملازمین پر مشتمل نمائندہ دفتر بند ہو گا۔ مگر لائسنسنگ اور دیگر تجارتی سرگرمیاں بدستور یورپ سے جاری رہیں گی۔
پاکستان کی وزارت آئی ٹی نے بیان میں واضح کیا کہ مائیکروسافٹ اب بھی پاکستان سے وابستگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اور یہ تنظیمی تبدیلی عالمی ماڈل کا حصہ ہے۔
سابق صدر عارف علوی نے اس فیصلے کو ملکی معیشت کے لیے منفی قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس اعلان کو مایوس کن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل کریم اور اوبر جیسی کمپنیاں بھی پاکستان میں اپنی خدمات بند کر چکی ہیں۔
اگرچہ دفتر بند ہونے سے کمپنی کا ظاہری وجود متاثر ہو رہا ہے۔مگر ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق سروسز کی دستیابی اور شراکت داروں کے ذریعے تعاون جاری رہے گا۔ تاہم یہ واضح ہے کہ عالمی سطح پر کمپنیاں ’آن پریمیس‘ ماڈلز سے ایس اے اے ایس ماڈلز کی جانب منتقل ہو رہی ہیں۔
مائیکروسافٹ جیسے ادارے کی جانب سے دفتر بند کرنا نہ صرف کاروباری ماڈل کی تبدیلی کی علامت ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اب کم لاگت، زیادہ منافع اور ڈیجیٹل سروسز پر زور دے رہی ہیں۔
Hi! I’m Mairaj Roonjha, a Computer Science student, Web developer, Content creator, Urdu AI blogger, and a changemaker from Lasbela, Balochistan. I’m currently studying at Lasbela University of Agriculture, Water and Marine Sciences (LUAWMS), where I focus on web development, artificial intelligence, and using tech for social good. As the founder and lead of the Urdu AI project, I’m passionate about making artificial intelligence more accessible for Urdu-speaking communities. Through this blog, I aim to break down complex tech concepts into simple, relatable content that empowers people to learn and grow. I also work with the WALI Lab of Innovation to help reduce the digital divide in rural areas.
عاصمہ انور
اگر ہم جمود کا شکار ہو جائیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ زمانہ کی رفتا ر کے ساتھ آگے بڑھنے کےلیے ہمیں زمانہ کے ساتھ چلنا ہوگا۔ نئےٹولز ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنا ہوگا۔