کیا این ویڈیا اور تھنکنگ مشینز کی شراکت داری اے آئی کو انسان کے مطابق بنا دے گی؟
آج کل جب بھی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا ذکر ہوتا ہے تو ایک عجیب سا ملا جلا احساس سامنے آتا ہے۔ ایک طرف حیرت ہوتی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اور دوسری طرف ایک ہلکی سی فکر بھی ہوتی ہے کہ یہ سب آخر ہمیں کہاں لے جائے گا۔ ایسے ہی وقت میں تھنکنگ مشینز لیب اور این ویڈیا کی یہ نئی شراکت داری سامنے آئی ہے، جو صرف ایک خبر نہیں بلکہ مستقبل کی ایک جھلک لگتی ہے۔ اگر اسے بہت سادہ انداز میں سمجھیں تو یہ دونوں کمپنیاں مل کر ایسے طاقتور کمپیوٹر سسٹمز بنانے جا رہی ہیں جو اے آئی کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور سمجھدار بنا دیں گے۔ یہاں “گیگاواٹ” جیسا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جو سننے میں تھوڑا مشکل لگتا ہے، مگر اصل میں اس کا مطلب ہے بہت بڑی سطح پر کمپیوٹنگ طاقت۔ یعنی ایسے سسٹمز جو عام کمپیوٹرز سے کہیں زیادہ طاقت رکھتے ہوں اور جو بڑے بڑے اے آئی ماڈلز کو سکھانے اور چلانے کے قابل ہوں۔
این ویڈیا کا کردار یہاں کافی اہم ہے کیونکہ یہ کمپنی پہلے ہی اے آئی کے لیے طاقتور چپس اور سسٹمز بنانے میں دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ ان کے نئے “ویرا روبن” سسٹمز دراصل اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اے آئی نہ صرف تیزی سے کام کرے بلکہ زیادہ بہتر انداز میں سیکھے اور نتائج دے۔ یعنی آنے والے وقت میں ہم ایسے سسٹمز دیکھ سکتے ہیں جو آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہین محسوس ہوں گے۔ لیکن اس پوری کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ شاید تھنکنگ مشینز لیب ہے۔ یہ کمپنی صرف یہ نہیں چاہتی کہ اے آئی زیادہ طاقتور ہو، بلکہ وہ چاہتی ہے کہ یہ انسان کے لیے آسان اور قابلِ سمجھ بھی ہو۔ یعنی ایسا نظام جو صرف ماہرین تک محدود نہ ہو بلکہ عام لوگ بھی اسے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکیں۔
اگر آپ تھوڑا سا رک کر سوچیں تو یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔ پہلے ہمیں ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا تھا، لیکن اب کوشش یہ ہو رہی ہے کہ ٹیکنالوجی خود ہمارے مطابق ڈھلے۔ یعنی اے آئی ایک سخت اور پیچیدہ نظام نہ ہو بلکہ ایک ایسا ساتھی بن جائے جو ہمارے ساتھ مل کر کام کرے۔ اس شراکت داری میں ایک اور بات جو دل کو لگتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف بڑی کمپنیوں کو فائدہ دینا نہیں ہے۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو اداروں، سائنسدانوں اور تحقیق کرنے والوں تک بھی پہنچایا جائے۔ یعنی اے آئی کا فائدہ زیادہ لوگوں تک جائے، نہ کہ صرف چند طاقتور اداروں تک محدود رہے۔
این ویڈیا کی جانب سے اس کمپنی میں سرمایہ کاری بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس خیال پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ یہ کوئی وقتی قدم نہیں بلکہ ایک لمبے سفر کی شروعات ہے، جہاں دونوں مل کر مستقبل کو شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہم ذرا وسیع نظر سے دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اے آئی اب صرف ایک ٹول نہیں رہی بلکہ ہماری دنیا کا ایک بنیادی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ جیسے کبھی بجلی اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگی بدل دی تھی، ویسے ہی اب اے آئی بھی آہستہ آہستہ ہر شعبے میں داخل ہو رہی ہے۔
این ویڈیا کے سربراہ کا یہ کہنا کہ اے آئی انسانی تاریخ میں علم حاصل کرنے کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے، سننے میں بڑا دعویٰ لگتا ہے، مگر جب ہم اردگرد دیکھتے ہیں تو اس میں حقیقت بھی نظر آتی ہے۔ آج اے آئی بیماریوں کی تحقیق میں مدد کر رہی ہے، کاروبار کو بہتر بنا رہی ہے، اور یہاں تک کہ تخلیقی کاموں میں بھی ساتھ دے رہی ہے۔
لیکن اس سب کے ساتھ ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کچھ خدشات بھی ہوتے ہیں۔ لوگ فکر مند ہوتے ہیں کہ کہیں نوکریاں متاثر نہ ہوں، یا غلط معلومات نہ پھیلیں۔ اور یہ خدشات بالکل بے بنیاد بھی نہیں ہیں۔ اسی لیے اصل بات یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم اسے سمجھ داری سے استعمال کریں تو یہ ہماری زندگی آسان بنا سکتی ہے، ہمارے کام کو بہتر بنا سکتی ہے، اور ہمیں نئی راہیں دکھا سکتی ہے۔
آخر میں اگر دل کی بات کی جائے تو یہ شراکت داری ایک امید بھی دیتی ہے۔ ایک ایسی امید کہ آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی انسان کے مقابل نہیں بلکہ اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ مشینیں طاقتور ہوں گی، مگر ان کا مقصد انسان کو پیچھے چھوڑنا نہیں بلکہ اسے آگے بڑھانا ہوگا۔ اور شاید یہی وہ بات ہے جو اس پوری کہانی کو خاص بناتی ہے کہ مستقبل جتنا بھی جدید ہو جائے، اس کا مرکز اب بھی انسان ہی رہے گا۔


No Comments