ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کو کلاؤڈ تک رسائی کیوں نہیں ملی؟
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں روز بروز نت نئی تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں، لیکن بعض اوقات ان تبدیلیوں کے پس پردہ کہانیاں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ حالیہ دنوں ایک دلچسپ اور قابلِ غور واقعہ سامنے آیا جب ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کو ایک اور معروف اے آئی کمپنی، اینتھروپک، نے اپنے ماڈل کلاؤڈ تک رسائی سے محروم کر دیا۔ یہ فیصلہ ایک نئی پالیسی کے تحت لیا گیا جس میں اینتھروپک نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنی خدمات کسی بھی بڑی مقابل کمپنی کو فراہم نہیں کرے گی۔ اس اقدام نے نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں اب صرف تکنیکی قابلیت ہی نہیں، بلکہ کاروباری پالیسیاں اور حکمتِ عملیاں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایکس اے آئی کے شریک بانی ٹونی وو نے ایک داخلی پیغام میں اپنی ٹیم کو اس صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اینتھروپک کے ماڈل اب کرسر پر رسپانس نہیں دے رہے اور اس کی وجہ اینتھروپک کی نئی پالیسی ہے جو وہ اپنے بڑے حریفوں پر لاگو کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک منفی اور مثبت دونوں پہلو رکھتی ہے۔ ایک طرف تو اس سے کمپنی کی موجودہ پیداواریت متاثر ہوگی، لیکن دوسری طرف یہ موقع فراہم کرے گا کہ وہ اپنے ذاتی اے آئی ماڈلز اور کوڈنگ ٹولز تیار کریں۔ ان کے بقول، اب مصنوعی ذہانت ہمارے روزمرہ کے کاموں کے لیے ایک ناگزیر ٹیکنالوجی بن چکی ہے، اور آنے والا سال اس حوالے سے انتہائی اہم اور پُرجوش ہو گا۔
ایکس اے آئی کے پاس اس وقت گروک نامی ایک چیٹ بوٹ موجود ہے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دستیاب ہے، لیکن کمپنی کی کوشش ہے کہ وہ جلد ہی ایک نیا، مکمل خودمختار اے آئی ماڈل یا پراڈکٹ تیار کرے تاکہ اپنے تمام داخلی کاموں میں خود کفیل بن سکے۔ فی الحال، ٹونی وو کی ٹیم مختلف ماڈلز کا تجربہ کر رہی ہے اور جلد ہی ایک نیا حل متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کا یہ بیان کمپنی کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی اور کمپنی پر انحصار نہیں کرنا چاہتی۔
دوسری طرف اینتھروپک کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ کرسر، جس کے ذریعے ایکس اے آئی کی ٹیم اینتھروپک کے ماڈلز استعمال کر رہی تھی، نے بھی اس معاملے پر خاموشی اختیار کی اور صرف اتنا کہا کہ یہ فیصلہ اینتھروپک کی پالیسی کے تحت لیا گیا ہے۔ ایکس اے آئی کی جانب سے میڈیا کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ معاملہ اندرونی طور پر خاصی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
اس پورے واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اے آئی کی دنیا میں صرف تکنیکی ترقی ہی کافی نہیں بلکہ کمپنیاں اب اپنی پالیسیاں ایسے بنا رہی ہیں جو نہ صرف مارکیٹ میں ان کی حیثیت مضبوط کریں بلکہ حریفوں کو کسی حد تک محدود بھی رکھیں۔ اینتھروپک کا یہ قدم بظاہر ایک دفاعی حکمتِ عملی ہے تاکہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کو صرف اپنے اور اپنے قابلِ اعتماد شراکت داروں تک محدود رکھ سکے۔
اس معاملے نے یہ بھی ثابت کیا کہ اے آئی اب صرف ایک سہولت نہیں رہا بلکہ یہ کاروباری میدان میں ایک تزویراتی ہتھیار بن چکا ہے۔ ایکس اے آئی جیسے اسٹارٹ اپ کے لیے یہ واقعہ ایک سبق بن سکتا ہے کہ اگر وہ مکمل خود مختاری حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی بنیادی ٹیکنالوجی خود تیار کرنی ہوگی۔
ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کمپنیاں نہ صرف اپنی الگورتھمز اور ماڈلز تیار کریں گی بلکہ اپنی خدمات کو دیگر کمپنیوں سے محدود رکھنے کی پالیسیاں بھی اختیار کریں گی۔ اس طرح کے فیصلے نہ صرف مقابلہ بڑھائیں گے بلکہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو نئی سمت بھی دیں گے۔ ایکس اے آئی اور اینتھروپک کے درمیان یہ واقعہ ایک نئی حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ اے آئی اب صرف علم و تحقیق کا شعبہ نہیں بلکہ یہ طاقت، اختیار، اور کنٹرول کا میدان بھی بن چکا ہے۔

No Comments