اے آئی دور میں ریٹیلرز کے لیے نئی امید: یونیورسل کامرس پروٹوکول کی تفصیل
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ہونے والی پیش رفت اب صرف تصورات کی حد تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب یہ ہماری روزمرہ کی زندگی اور خاص طور پر کاروبار کے طریقے کار کو مکمل طور پر بدلنے جا رہی ہے۔ ایسی ہی ایک انقلابی تبدیلی ہمیں ریٹیل یعنی خرید و فروخت کے میدان میں نظر آ رہی ہے جہاں گوگل نے ایجینٹک کامرس کے ذریعے ایک نئی سمت متعارف کرائی ہے۔ یہ تصور اس بات پر مبنی ہے کہ صارفین کی طرف سے کام کرنے والی مصنوعی ذہانت، یعنی ایسے ایجنٹس جو خریداری، ادائیگی اور مدد جیسے کام خود بخود انجام دیں، اب ایک حقیقت بنتے جا رہے ہیں۔ گوگل نے اس میدان میں کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن کا مقصد نہ صرف خریداروں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے بلکہ ریٹیلرز کے لیے بھی ترقی کے نئے دروازے کھولنا ہے۔
گوگل نے حال ہی میں یونیورسل کامرس پروٹوکول (UCP) کے نام سے ایک نیا اوپن اسٹینڈرڈ متعارف کرایا ہے۔ یہ پروٹوکول ایجنٹک کامرس کو پوری خریداری کی سفارت میں ممکن بناتا ہے، یعنی دریافت، خریداری اور خریداری کے بعد کی معاونت تک، اس پروٹوکول کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مختلف ایجنٹس اور سسٹمز ایک مشترکہ زبان میں بات چیت کر سکیں، چاہے وہ کنزیومر پلیٹ فارمز ہوں، کاروبار ہوں یا ادائیگی فراہم کرنے والے ادارے اس سے پہلے ہر ایجنٹ کو الگ سے مربوط کرنا پڑتا تھا، مگر UCP کے ذریعے اب سب ایجنٹس ایک دوسرے سے باآسانی منسلک ہو سکتے ہیں۔ یہ پروٹوکول ایجنٹ ٹو ایجنٹ (A2A)، ایجنٹ پیمنٹس پروٹوکول (AP2)، اور ماڈل کونٹیکسٹ پروٹوکول (MCP) جیسے موجودہ انڈسٹری اسٹینڈرڈز کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔
اس نئے پروٹوکول کو گوگل نے معروف کمپنیوں جیسے Shopify، Etsy، Wayfair، Target اور Walmart کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے، جب کہ Adyen، American Express، Best Buy، Flipkart، Macy’s، Mastercard، Stripe، The Home Depot، Visa اور Zalando جیسی مزید 20 سے زائد کمپنیاں اس کی حمایت کر رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف گوگل کا اکیلا قدم نہیں بلکہ ایک بڑا انڈسٹری اقدام ہے جو مستقبل میں خریداری کے تجربے کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
UCP کے تحت گوگل نے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جو جلد ہی امریکی صارفین کے لیے گوگل سرچ اور Gemini ایپ میں دستیاب ہو گا۔ اس فیچر کے تحت صارفین براہِ راست سرچ کرتے ہوئے کسی بھی متعلقہ ریٹیلر سے چیز خرید سکیں گے، بغیر کسی اضافی قدم کے۔ اس سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ ادائیگی کا عمل انتہائی محفوظ طریقے سے گوگل پے اور جلد ہی PayPal کے ذریعے مکمل ہو گا، جس میں صارفین کے پے منٹ میتھڈز اور شپنگ معلومات گوگل والٹ میں پہلے سے موجود ہوں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریٹیلرز ہی سیلر آف ریکارڈ ہوں گے اور وہ اپنے مطابق اس انضمام کو اپنی ضروریات کے مطابق ترتیب دے سکیں گے، جس سے خریداری میں آسانی پیدا ہو گی اور نامکمل چیک آؤٹس کی شرح کم ہو گی۔
اسی کے ساتھ گوگل نے ایک اور جدید فیچر متعارف کرایا ہے جسے Business Agent کہا جا رہا ہے۔ یہ ایک برانڈڈ اے آئی اسسٹنٹ ہے جس کے ذریعے صارفین براہِ راست گوگل سرچ میں کسی برانڈ سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی دکان میں سیلز اسسٹنٹ ہو جو ہر سوال کا فوری اور درست جواب دے رہا ہو۔ اس Business Agent کے ذریعے برانڈز اپنی آواز میں صارفین کو جواب دے سکتے ہیں، پروڈکٹس کے بارے میں معلومات دے سکتے ہیں، اور خریداری کے اہم مراحل پر مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ فیچر اب Lowe’s، Michael’s، Poshmark، Reebok اور دیگر برانڈز کے لیے دستیاب ہے، جب کہ دیگر امریکی ریٹیلرز بھی اسے گوگل مرچنٹ سینٹر کے ذریعے ایکٹیویٹ اور حسبِ ضرورت کسٹمائز کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں یہ بزنس ایجنٹس اپنی مخصوص ڈیٹا پر مبنی تربیت حاصل کر سکیں گے، کسٹمر انسائٹس حاصل کر سکیں گے، اور صارف کو متعلقہ پروڈکٹس پر آفرز اور ڈائریکٹ پرچیزز جیسی سہولیات فراہم کر سکیں گے۔
ایجنٹک کامرس کے اس نئے دور میں گوگل صرف ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کر رہا بلکہ وہ نئے ڈیٹا فیڈز اور کسٹمر سے متعلق معلومات کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔ اسی لیے مرچنٹ سینٹر میں درجنوں نئے ڈیٹا ایٹریبیوٹس شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ ای آئی موڈ، جیمینائی اور بزنس ایجنٹس جیسے پلیٹ فارمز پر صارفین کو بہتر اور زیادہ موزوں معلومات فراہم کی جا سکیں۔ ان میں صرف روایتی کی ورڈز ہی نہیں بلکہ ایسے جوابات بھی شامل ہوں گے جو عمومی سوالات کے جواب دیتے ہیں، متعلقہ اشیاء تجویز کرتے ہیں یا متبادل دکھاتے ہیں۔
گوگل نے ڈائریکٹ آفرز کے نام سے ایک نیا ایڈورٹائزنگ پائلٹ بھی متعارف کرایا ہے۔ اس کے تحت گوگل ایڈز پر مشتمل ای آئی موڈ میں صارفین کو مخصوص اور محدود مدت کی رعایتیں دی جائیں گی۔ مثلاً اگر کوئی صارف سرچ کر رہا ہے کہ اسے ایک خوبصورت، جدید اور دھونے میں آسان قالین چاہیے جو ڈنر پارٹی کے دوران کام آئے، تو گوگل نہ صرف موزوں پروڈکٹس دکھائے گا بلکہ اب اس کے ساتھ ڈائریکٹ ڈسکاؤنٹ آفر بھی پیش کی جائے گی جیسے کہ 20 فیصد رعایت۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ صارف کو بہتر قیمت پر پروڈکٹ ملے گی اور ریٹیلر کی سیل مکمل ہونے کا امکان بڑھے گا۔
ڈائریکٹ آفرز میں ریٹیلرز اپنی مہمات کے سیٹنگز میں آفرز شامل کرتے ہیں اور گوگل کا اے آئی خود طے کرتا ہے کہ کس وقت کون سی آفر دکھائی جائے۔ ابتدائی طور پر یہ رعایتوں پر مبنی ہو گا، لیکن بعد میں اسے بَندلز، فری شپنگ اور دیگر ویلیو بیسڈ آفرز تک بڑھایا جائے گا۔ گوگل اس حوالے سے Petco، e.l.f. Cosmetics، Samsonite، Rugs USA اور Shopify مرچنٹس جیسے شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
یہ تمام اقدامات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ خریداری کا مستقبل مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ساتھ منسلک ہے۔ صارفین نہ صرف زیادہ تیزی سے اشیاء تلاش کریں گے بلکہ وہ بہتر، محفوظ اور ذاتی نوعیت کے تجربات سے بھی مستفید ہوں گے۔ دوسری جانب ریٹیلرز کے لیے یہ ایک نیا دور ہے جس میں انہیں اپنی موجودگی کو بہتر انداز میں پیش کرنے اور صارفین کے ساتھ براہِ راست رابطے میں آنے کا موقع ملے گا۔
گوگل کی یہ کوشش ایک ایسی دنیا کی تشکیل کر رہی ہے جہاں خریداری محض ایک عمل نہیں بلکہ ایک مکمل، ذاتی اور ذہین تجربہ ہو گا۔ اور یہی وہ ایجنٹک شاپنگ کا تصور ہے جو اب مستقبل نہیں بلکہ حال بنتا جا رہا ہے۔
No Comments