کیا مرج لیبز اور اوپن اے آئی واقعی ایسی اے آئی بنا رہے ہیں جو انسان کی سوچ کو سمجھ کر خود عمل کر سکے؟
چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے ایک ایسی کمپنی میں پیسے لگائے ہیں جو کچھ ایسا بنا رہی ہے جو فلموں میں دیکھتے ہیں۔ آپ نے فلموں میں دیکھا ہوگا کہ لوگ صرف سوچ کر چیزیں چلا دیتے ہیں یا اپنے خیالات دوسروں کو بھیج دیتے ہیں۔ یہ کمپنی “مرج لیبز” بالکل یہی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سوچیں کہ آپ بغیر ہاتھ ہلائے، بغیر بولے، صرف دماغ میں سوچ کر اپنا موبائل چلا سکیں، ٹی وی کا چینل بدل سکیں، یا کسی کو پیغام بھیج سکیں۔ یہ عجیب لگتا ہے نا؟ لیکن اب یہ ممکن ہونے والا ہے۔
اوپن اے آئی، جو دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے مرج لیبز کی شروعات میں مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمپنی کچھ ایسا بنا رہی ہے جو آپ کے دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑ سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کیسے کام کرے گا؟ جب آپ کچھ سوچتے ہیں تو آپ کے دماغ میں بہت چھوٹے چھوٹے برقی اشارے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اشارے بہت کمزور ہوتے ہیں لیکن ہوتے ہیں۔ جیسے جب آپ کسی تار میں بجلی دوڑاتے ہیں تو وہ چھوٹے اشارے پیدا کرتی ہے۔
اب یہ کمپنی بہت چھوٹے اور باریک آلات بنا رہی ہے جوب ان اشاروں کو پڑھ سکیں۔ جب آپ سوچیں گے “موبائل کھولو” تو یہ آلہ اس سوچ کو پڑھ کر سمجھ جائے گا اور موبائل کو بتا دے گا۔ اور موبائل کھل جائے گا۔ اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ پہلے ہم نے کی بورڈ سے ٹائپ کیا، پھر ماؤس سے کلک کیا، پھر انگلی سے ٹچ کیا، اب آواز سے بات کرتے ہیں۔ لیکن اگلا قدم یہ ہے کہ صرف سوچ کر کام کروائیں۔ مرج لیبز کہتی ہے کہ وہ انسان اور مشین کو آپس میں جوڑنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ زیادہ بہتر زندگی گزار سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسے طریقے بنا رہے ہیں جو مکمل طور پر محفوظ ہوں اور بہت تیز کام کریں۔
سوچیں کہ یہ کن لوگوں کے لیے کتنا مفید ہوگا۔ ایک ایسا شخص جو حادثے میں زخمی ہو کر اپنے ہاتھ پاؤں نہیں ہلا سکتا، وہ صرف سوچ کر اپنی وہیل چیئر چلا سکے گا۔ ایک ایسا بچہ جو بول نہیں سکتا، وہ اپنی ماں سے صرف سوچ کر بات کر سکے گا۔ ایک بوڑھا آدمی جس کی یادداشت کمزور ہو گئی ہے، اسے یاد رکھنے میں مدد مل سکے گی۔ لیکن یہ صرف معذور لوگوں کے لیے نہیں۔ عام لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ مثال کے طور پر، آپ کوئی نئی زبان سیکھ رہے ہیں تو یہ آلہ آپ کو تیزی سے سکھا سکتا ہے۔ آپ کچھ پڑھ رہے ہیں اور سمجھ نہیں آ رہا تو یہ آپ کے دماغ میں واضح تصویر بنا سکتا ہے۔ آپ گاڑی چلا رہے ہیں اور کسی کو کال کرنی ہے تو صرف سوچیں اور کال لگ جائے گی۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اس سارے کام میں بہت اہم ہے۔ کیونکہ دماغ کے اشارے بہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ایک آدمی جب “ہاں” سوچتا ہے تو اس کے دماغ کے اشارے ایک طرح کے ہوتے ہیں، دوسرا آدمی جب “ہاں” سوچتا ہے تو اس کے اشارے تھوڑے مختلف ہو سکتے ہیں۔ تو مصنوعی ذہانت ہر شخص کے اشاروں کو سمجھنا سیکھ جائے گی۔ اوپن اے آئی اور مرج لیبز مل کر کام کریں گے۔ اوپن اے آئی اپنی مصنوعی ذہانت دے گی جو بہت ہوشیار ہے، اور مرج لیبز دماغ کو سمجھنے کی اپنی تحقیق دے گی۔ مرج لیبز کو تین سائنسدانوں نے بنایا ہے جن کے نام ہیں میخائل شاپیرو، ٹائسن افلالو اور سمنر نورمن۔ یہ تینوں دماغ کی تحقیق میں بہت مشہور ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ کاروباری ماہرین بھی ہیں جن میں سام آلٹمین بھی شامل ہیں۔ سام آلٹمین اوپن اے آئی کے مالک ہیں لیکن اس منصوبے میں انہوں نے اپنے ذاتی طور پر پیسے لگائے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ چیز لگائی کیسے جائے گی؟ آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ بہت چھوٹا آلہ ہوگا، شاید ایک چھوٹے سے دانے جتنا۔ ڈاکٹر اسے بہت احتیاط سے آپ کے سر میں لگائیں گے۔ آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ وہ وہاں ہے۔ لیکن ابھی یہ سب آزمائش کے مرحلے میں ہے۔ ابھی عام لوگوں کے لیے یہ دستیاب نہیں۔ سائنسدان پہلے یہ پکا کر لینا چاہتے ہیں کہ یہ بالکل محفوظ ہے۔ کیونکہ دماغ انسان کا سب سے قیمتی حصہ ہے۔ اس میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی۔
ایلون مسک، جو ٹیسلا کاریں بنانے والے ہیں، ان کی بھی ایک کمپنی ہے جس کا نام نیورا لنک ہے۔ وہ بھی یہی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک شخص کے دماغ میں اپنا چھوٹا سا آلہ لگایا۔ اس شخص نے صرف سوچ کر کمپیوٹر چلایا اور گیم کھیلی۔ یہ کامیابی تھی۔ لیکن مرج لیبز کہتی ہے کہ ان کا طریقہ اور بہتر ہے۔ وہ نہ صرف آلات استعمال کر رہے ہیں بلکہ حیاتیات بھی، یعنی زندہ خلیے بھی۔ یہ بالکل نیا طریقہ ہے۔
اب کچھ لوگ پوچھیں گے کہ کیا یہ خطرناک نہیں؟ کیا یہ ٹھیک ہے؟ یہ بہت اچھے سوالات ہیں۔ پہلی بات، کیا کوئی ہمارے خیالات پڑھ لے گا؟ مرج لیبز کہتی ہے کہ نہیں، یہ صرف آپ کی اجازت سے کام کرے گا۔ جیسے آپ موبائل میں ایپ کو اجازت دیتے ہیں، ویسے ہی۔
دوسرا، کیا یہ محفوظ ہے؟ کمپنی کہتی ہے کہ وہ سالوں جانچ کر رہے ہیں تاکہ کوئی نقصان نہ ہو۔
تیسرا، کیا صرف امیر لوگ ہی یہ استعمال کر سکیں گے؟ ابتدا میں تو ہاں، کیونکہ یہ مہنگا ہوگا۔ لیکن جیسے موبائل فون پہلے بہت مہنگے تھے اور اب سستے ہیں، ویسے ہی یہ بھی وقت کے ساتھ سب کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔
یہ ٹیکنالوجی طب میں بھی بہت کام آئے گی۔ جن لوگوں کو فالج ہو جاتا ہے اور وہ ایک طرف کا جسم نہیں ہلا پاتے، انہیں دوبارہ حرکت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ جو لوگ اندھے ہیں، ہو سکتا ہے مستقبل میں وہ دیکھ سکیں۔ جو لوگ بہرے ہیں، وہ سن سکیں۔ تعلیم میں بھی بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ آج کل بچے کتابیں پڑھ کر سیکھتے ہیں۔ کل کو شاید معلومات براہ راست ان کے دماغ میں جا سکیں۔ لیکن یہ بہت دور کی بات ہے۔ ابھی تو سائنسدان صرف بنیادی چیزیں کر پا رہے ہیں۔
اوپن اے آئی کا یہ قدم بتاتا ہے کہ وہ صرف چیٹ بوٹ بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہتے۔ وہ ایک ایسی دنیا دیکھنا چاہتے ہیں جہاں انسان اور مصنوعی ذہانت بہت قریب سے کام کریں۔ اتنے قریب کہ دونوں میں فرق ہی مشکل ہو جائے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ احتیاط بہت ضروری ہے۔ یہ اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔ دماغ دنیا کی سب سے پیچیدہ چیز ہے۔ اس میں تقریباً 86 ارب خلیے ہیں۔ ہر خلیہ ہزاروں دوسرے خلیوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کون سا خلیہ کیا کر رہا ہے، بہت مشکل ہے۔
پھر ہر انسان کا دماغ مختلف ہے۔ جیسے ہر انسان کی انگلیوں کے نشان الگ ہوتے ہیں، ویسے ہی ہر انسان کے دماغی اشارے بھی الگ ہوتے ہیں۔ تو ایک ایسا آلہ بنانا جو ہر انسان کے ساتھ کام کرے، بہت بڑا چیلنج ہے۔ لیکن سائنسدان امید رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اتنی طاقتور ہو گئی ہے کہ وہ یہ سب سمجھ سکتی ہے۔ وہ سیکھ سکتی ہے کہ آپ کے دماغ کے اشارے کیا مطلب رکھتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ کب ہمارے لیے دستیاب ہوگا؟ سائنسدان کہتے ہیں کہ اگلے پانچ سے دس سال میں ہم شاید ابتدائی مصنوعات دیکھ سکیں۔ لیکن جو چیز فلموں میں دکھائی جاتی ہے، وہ شاید بیس یا تیس سال لگے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر کوئی اسے استعمال کرنا چاہے۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ قدرتی نہیں۔ کچھ کہیں گے کہ یہ خطرناک ہے۔ کچھ کہیں گے کہ انسان کو مشین نہیں بننا چاہیے۔ یہ سب درست خیالات ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ٹیکنالوجی رکتی نہیں۔ وہ آگے بڑھتی رہتی ہے۔ پچاس سال پہلے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم جیب میں ایک چھوٹا سا کمپیوٹر رکھیں گے جس سے پوری دنیا سے بات کر سکیں گے۔ آج یہ عام ہے۔
اسی طرح شاید پچاس سال بعد لوگ کہیں “یاد ہے جب ہم ہاتھوں سے ٹائپ کرتے تھے؟ کتنا عجیب تھا!” اور نئی نسل ہنسے گی کیونکہ وہ تو صرف سوچ کر سب کچھ کریں گے۔ مرج لیبز کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد انسانوں کو بہتر بنانا ہے، انہیں مشین بنانا نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ زیادہ طاقتور محسوس کریں، زیادہ آزاد ہوں، اور بہتر زندگی گزاریں۔ اوپن اے آئی کی یہ سرمایہ کاری بتاتی ہے کہ وہ مستقبل پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان اور مصنوعی ذہانت ساتھ مل کر کام کریں گے، ایک دوسرے کے خلاف نہیں۔ اور شاید یہی صحیح راستہ ہے۔
No Comments