آئیے جانتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اپنے تعلیمی نظام میں کیسا انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال سے ملک کے تمام سرکاری اسکولوں میں اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔
یہ اعلان دبئی کے حکمران اور یو اے ای کے نائب صدر و وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر کیا۔ انھوں نے کہا کہ “ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اُس دور کے لیے تیار کریں جو ہمارے وقت سے بالکل مختلف ہو گا۔”
نئے نصاب کی تیاری وزارت تعلیم نے کی ہے، جس میں اے آئی کے بنیادی تصورات جیسے ڈیٹا، الگوردمز، مشین لرننگ، اور اس کے سماجی اثرات شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، طلبہ کو ڈیٹا پرائیویسی، اخلاقی پہلوؤں اور الگوردم کی شفافیت پر بھی سکھایا جائے گا۔ یو اے ای کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ تعلیمی میدان میں بھی اے آئی کو معمول کی ٹیکنالوجی کے طور پر اپنانے کے لیے پرعزم ہے۔
متحدہ عرب امارات کا یہ قدم دنیا بھر میں ایک منفرد مثال قائم کر رہا ہے۔ جہاں برطانیہ اور سنگاپور جیسے ممالک نے اے آئی کو مخصوص مضامین میں شامل کیا ہے۔ وہاں یو اے ای نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اسے تمام جماعتوں کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور اسے مزید تفصیل سے The Express Tribune کی رپورٹ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
عالمی سطح پر اے آئی کو تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔ مختلف شعبوں میں اس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے صحت، تجارت، انفراسٹرکچر، اور میڈیا سب ہی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
شیخ محمد کا کہنا تھا کہ ’’ہم اپنی نئی نسل کو ایسا علم دینا چاہتے ہیں جو اُن کے آنے والے کل کے لیے بنیاد بنے۔‘‘
یہ قدم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کو اپنا رہا ہے بلکہ تعلیمی سطح پر اسے مستقبل کا ستون بھی بنا رہا ہے۔
اب اے آئی صرف تعلیمی یا صنعتی موضوع نہیں رہا بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی شامل ہو چکا ہے۔ ایک مثال کے طور پر Otter’s Meeting Agent جیسے ٹولز اب خودکار کالز شیڈیول کر سکتے ہیں اور ای میل بھی لکھ سکتے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے تعلیمی نظام کو نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ جہاں کئی ممالک اب بھی اے آئی کو تجرباتی مرحلے میں لیے ہوئے ہیں، وہاں یو اے ای نے واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک نہیں، بلکہ اس میں قیادت کرنے والا ملک ہے۔ یہی نہیں، بلکہ حالیہ سی ای ایس 2025 میں بھی اے آئی پر مبنی اختراعات نے سب کو حیران کر دیا ہے، جو بتاتے ہیں کہ یہ صرف شروعات ہے۔
Hi! I’m Mairaj Roonjha, a Computer Science student, Web developer, Content creator, Urdu AI blogger, and a changemaker from Lasbela, Balochistan. I’m currently studying at Lasbela University of Agriculture, Water and Marine Sciences (LUAWMS), where I focus on web development, artificial intelligence, and using tech for social good. As the founder and lead of the Urdu AI project, I’m passionate about making artificial intelligence more accessible for Urdu-speaking communities. Through this blog, I aim to break down complex tech concepts into simple, relatable content that empowers people to learn and grow. I also work with the WALI Lab of Innovation to help reduce the digital divide in rural areas.
No Comments