پاکستان نے اگست 2025 میں نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس پالیسی 2025 منظور کی — یہ ملک کی پہلی سرکاری اے آئی پالیسی ہے جس کا مقصد 2030 تک دس لاکھ اے آئی پروفیشنلز تیار کرنا اور معیشت، تعلیم، اور عوامی خدمات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال عام کرنا ہے۔
اسلام آباد میں وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس پالیسی 2025 کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ نوجوان نسل کو اے آئی میں تعلیم اور مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
دس لاکھ ماہرین اور ہزاروں منصوبے
پالیسی کے مطابق 2030 تک ایک ملین اے آئی پروفیشنلز تیار کیے جائیں گے۔ آئندہ پانچ برس میں 50 ہزار شہری منصوبے اے آئی پر مبنی ہوں گے اور ایک ہزار مقامی مصنوعات تیار کی جائیں گی۔ اسی منصوبے میں اے آئی انوویشن فنڈ اور اے آئی وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان بھی شامل ہے تاکہ نجی شعبے کی شمولیت بڑھے۔
تعلیم اور شمولیت پر زور
پالیسی میں ہر سال 3 ہزار اے آئی اسکالرشپس اور ایک ہزار تحقیقی منصوبوں کی معاونت کا ہدف رکھا گیا ہے۔ خواتین اور معذور افراد کے لیے قابلِ رسائی تعلیم اور مالی امداد کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سائبر سکیورٹی اور قومی ڈیٹا سکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے عالمی معیار کے ضوابط اپنانے کا منصوبہ بھی ہے۔
اے آئی کونسل
عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک اے آئی کونسل اور جامع ماسٹر پلان بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت معیشت، زراعت، عوامی خدمات اور حکمرانی میں پیداواریت بڑھانے کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
ملک میں اے آئی پیش رفت کا تناظر
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا جب پاکستانی پلیٹ فارم SOCByte نے ملک کا پہلا اے آئی پر مبنی سائبر سکیورٹی پروگرام لانچ کیا، وزارتِ خزانہ نے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2,000 میگاواٹ بجلی مختص کی، اور سپریم کورٹ نے عدالتی نظام میں اے آئی کے اخلاقی استعمال پر زور دیا تھا۔ یہ پالیسی ان تمام اقدامات کو ایک مربوط قومی فریم ورک دینے کی پہلی باقاعدہ کوشش ہے۔
لغت میں اور پڑھیں
اردو اے آئی لغت میں مصنوعی ذہانت کی اصطلاحات آسان اردو میں پڑھیں۔

