کیا زیادہ تر لوگ اب اصلی اور مصنوعی ویڈیو میں فرق کر پاتے ہیں؟ جانیے رن وے کی رپورٹ کے نتائج کیا کہتے ہیں۔
کیا آپ واقعی کسی ویڈیو کو دیکھ کر یہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اصلی ہے؟ یہ سوال کچھ عرصہ پہلے تک شاید بے معنی لگتا تھا، کیونکہ ویڈیو کو ہمیشہ حقیقت کا عکس سمجھا جاتا رہا ہے۔ مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جب ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کو دو مختصر ویڈیوز دکھائی گئیں، جن میں ایک اصلی تھی اور دوسری مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی، تو نوے فیصد سے زیادہ افراد درست طور پر یہ پہچان نہ سکے کہ کون سی ویڈیو حقیقت ہے اور کون سی مصنوعی۔
یہ نتیجہ محض ایک تجربے کا نہیں بلکہ ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ مصنوعی ذہانت سے ویڈیو بنانے والی ٹیکنالوجی اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں انسانی آنکھ اور دماغ اکثر دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ چند سال پہلے تک اے آئی سے بنی ویڈیوز غیر فطری حرکتوں، دھندلے مناظر اور عجیب سی ساخت کی وجہ سے آسانی سے پہچان لی جاتی تھیں۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ چند سیکنڈ کی ویڈیوز اس قدر حقیقت کے قریب ہیں کہ عام آدمی کے لیے فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
تحقیق کے دوران شرکا کو بیس ویڈیوز دکھائی گئیں۔ ان میں سے دس حقیقی تھیں اور دس مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تھیں۔ ہر ویڈیو صرف پانچ سیکنڈ کی تھی اور سب کو ایک جیسے معیار میں پیش کیا گیا تاکہ کسی ایک کو فوقیت نہ ملے۔ شرکا کو ہر ویڈیو دیکھنے کے بعد یہ بتانا تھا کہ آیا وہ حقیقی ہے یا مصنوعی۔ نتائج چونکا دینے والے تھے۔ مجموعی طور پر درست جواب دینے کی شرح محض ستاون فیصد رہی، جو محض اندازے کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ یعنی زیادہ تر لوگ محض قیاس آرائی کر رہے تھے، نہ کہ حقیقی پہچان۔
اس تحقیق کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ تھا کہ ہر قسم کی ویڈیو میں فرق پہچاننا یکساں طور پر مشکل نہیں تھا۔ جن ویڈیوز میں انسان شامل تھے، جیسے چہرے، ہاتھ یا انسانی حرکات، وہاں کچھ لوگوں کو معمولی سی آسانی محسوس ہوئی۔ مگر جانوروں، عمارتوں اور قدرتی مناظر کی ویڈیوز میں صورتحال اس کے برعکس تھی۔ ان زمروں میں لوگ اکثر مصنوعی ویڈیوز کو اصلی سمجھ بیٹھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض صورتوں میں مصنوعی ذہانت حقیقت سے بھی زیادہ قائل کرنے والی تصاویر اور مناظر تخلیق کر رہی ہے۔
یہاں سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔ اگر انسان ویڈیو کی حقیقت پرکھنے کے قابل نہیں رہا تو اعتماد کا معیار کیا ہوگا؟ برسوں سے ویڈیو کو ثبوت کی ایک مضبوط شکل سمجھا جاتا رہا ہے۔ خبری رپورٹس، عدالتی شواہد اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج اکثر اسی بنیاد پر قابلِ اعتبار سمجھی جاتی رہی ہے کہ ویڈیو جھوٹ نہیں بولتی۔ مگر اب یہ بنیاد متزلزل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹیکنالوجی نے حقیقت کے تصور کو چیلنج کیا ہو۔ فوٹوگرافی کے آغاز پر بھی یہی سوال اٹھا تھا کہ تصویر کس حد تک سچ بیان کرتی ہے۔ بعد میں فوٹو شاپ اور کمپیوٹر گرافکس نے اس بحث کو مزید گہرا کیا۔ مگر مصنوعی ذہانت کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف ترمیم نہیں کرتی بلکہ مکمل طور پر نئے مناظر تخلیق کر سکتی ہے، وہ بھی اس انداز میں کہ وہ حقیقت سے الگ نظر نہ آئیں۔
ماہرین کے مطابق ہم ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں جعلی اور حقیقی ویڈیو میں فرق کرنا محض انسانی صلاحیت پر چھوڑ دینا کافی نہیں رہا۔ جب نوے فیصد لوگ فرق نہ کر سکیں تو یہ کہنا کہ ہم جعلی مواد کو پہچان لیں گے، ایک کمزور حکمت عملی بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہو رہی ہے کہ مواد کی اصل کو کیسے ثابت کیا جائے، نہ کہ صرف اس کی ظاہری شکل کو پرکھا جائے۔
اسی مقصد کے لیے کچھ ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیجیٹل شناختی نظام متعارف کرا رہی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ہر ویڈیو کے ساتھ ایک ایسی تکنیکی مہر شامل ہو جو یہ بتا سکے کہ ویڈیو کہاں سے آئی، کیسے بنی اور کیا اس میں ترمیم کی گئی۔ اس طرح اگر کوئی ویڈیو وائرل ہو تو اس کی اصل کو جانچا جا سکے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ حل بھی مکمل نہیں۔ جیسے جیسے شناختی نظام بہتر ہوں گے، ویسے ہی انہیں چکمہ دینے کے طریقے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ اس کے سماجی اثرات بھی گہرے ہیں۔ اگر لوگ ویڈیوز پر اعتماد کھو دیں تو اس کا اثر صحافت، سیاست اور روزمرہ زندگی پر پڑے گا۔ جھوٹی معلومات پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہیں، اور اگر ویڈیو جیسا طاقتور ذریعہ بھی مشکوک ہو جائے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ کسی واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بھی لوگ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ یہ اصلی ہے یا نہیں۔
دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کے مثبت پہلو بھی ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے ویڈیو بنانے کے اوزار فلم سازی، تعلیم اور سائنسی تحقیق میں نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ خطرناک تجربات کو محفوظ طریقے سے دکھانا، تاریخی واقعات کی بصری وضاحت اور تخلیقی کہانیوں کو کم وسائل میں حقیقت کا روپ دینا اب پہلے سے کہیں آسان ہو گیا ہے۔ مسئلہ خود ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا غلط یا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں صرف تکنیکی حل پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور، تعلیمی نصاب اور صحافتی اصولوں کو بھی اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ آن لائن مواد کو کس نظر سے دیکھیں، کن سوالات کے ساتھ پرکھیں اور کس حد تک اس پر اعتماد کریں۔ جیسے ماضی میں لوگوں نے تصاویر اور تحریری خبروں کو پرکھنا سیکھا، ویسے ہی اب ویڈیوز کے معاملے میں بھی نئی سمجھ بوجھ درکار ہے۔
یہ بحث ہمیں ایک بڑے سوال کی طرف لے جاتی ہے۔ جب آنکھ اور کان پر بھروسا مشکل ہو جائے تو ہم حقیقت کو کیسے پہچانیں گے؟ شاید اس کا جواب کسی ایک ٹیکنالوجی یا قانون میں نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری میں چھپا ہے۔ ٹیکنالوجی بنانے والوں کو شفاف ہونا ہوگا، میڈیا کو محتاط اور عوام کو باشعور۔
مصنوعی ذہانت کی ترقی رکے گی نہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں ویڈیوز مزید حقیقت کے قریب ہوتی جائیں گی۔ اس صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیسے جئیں گے۔ کیا ہم ہر ویڈیو پر شک کریں گے، یا نئے طریقے اپنائیں گے جن سے اعتماد بحال ہو سکے؟
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ ایک ایسا دور جہاں حقیقت اور مصنوعی کے درمیان لکیر مدہم ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی خوفناک بھی ہو سکتی ہے اور فائدہ مند بھی، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس کا سامنا کس طرح کرتے ہیں۔ اگر ہم ذمہ داری، شفافیت اور سمجھ داری کو اپنا شعار بنائیں تو مصنوعی ذہانت نہ صرف ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھا سکتی ہے بلکہ ہمیں حقیقت کو نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع بھی دے سکتی ہے۔ مگر اگر ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو یہ ٹیکنالوجی اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
No Comments