-
Mairaj Roonjha
- No Comments
- AI and Work, AI Burnout, AI Research, Artificial Intelligence, future of work, Generative AI, Technology and Work, Workplace Productivity
کیا اے آئی نے کام آسان کرنے کے بجائے اسے زیادہ مشکل بنا دیا ہے؟
مصنوعی ذہانت کے بارے میں سب سے بڑی امید یہ رہی ہے کہ یہ انسانوں کا کام کم کرے گی۔ کمپنیوں کو بتایا گیا کہ اے آئی ای میل لکھ دے گی، رپورٹس تیار کر دے گی، کوڈ درست کر دے گی اور معلومات کا خلاصہ بنا دے گی، جس سے ملازمین کے پاس زیادہ اہم اور تخلیقی کام کے لیے وقت بچے گا۔ لیکن ہارورڈ بزنس ریویو میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق اس تصور کو چیلنج کرتی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق اے آئی کام کم نہیں کرتی بلکہ اسے تیز، وسیع اور زیادہ دباؤ والا بنا دیتی ہے۔
یہ تحقیق ہارورڈ بزنس ریویو میں 9 فروری 2026 کو شائع ہوئی جسے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے ہاس اسکول آف بزنس کی پروفیسر ارونا رنگناتھن اور پی ایچ ڈی محقق ژنگ چی میگی یہ نے انجام دیا۔ محققین نے امریکہ کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی میں آٹھ ماہ تک ملازمین کے کام کرنے کے انداز کا مشاہدہ کیا۔ کمپنی میں تقریباً دو سو افراد کام کرتے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ کمپنی نے اے آئی کا استعمال لازمی قرار نہیں دیا تھا، صرف سہولت فراہم کی تھی۔ اس کے باوجود ملازمین نے خود ہی اے آئی کا استعمال بڑھایا۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب ملازمین کو محسوس ہوا کہ وہ اے آئی کی مدد سے زیادہ کام کر سکتے ہیں تو انہوں نے واقعی زیادہ کام کرنا شروع کر دیا۔ کسی نے انہیں حکم نہیں دیا، لیکن “زیادہ کرنے” کا امکان خود ایک محرک بن گیا۔ یوں کام کم ہونے کے بجائے بڑھنے لگا۔
محققین نے تین بڑی تبدیلیاں واضح کیں۔ پہلی تبدیلی کام کی حدود کا پھیل جانا تھا۔ اے آئی نے لوگوں کو وہ کام بھی کرنے کے قابل بنا دیا جو پہلے وہ کسی اور کے حوالے کرتے تھے۔ پروڈکٹ مینیجر اور ڈیزائنرز نے کوڈ لکھنا شروع کیا۔ محققین نے انجینئرنگ کے کام سنبھالنے شروع کیے۔ وہ کام جو پہلے اضافی مدد یا نئے عملے کی ضرورت پیدا کر سکتے تھے، اب موجودہ ملازمین خود کرنے لگے۔ انہیں لگتا تھا کہ اے آئی انہیں فوری رہنمائی دے رہی ہے، غلطیاں درست کر رہی ہے اور اعتماد فراہم کر رہی ہے۔
لیکن اس کا اثر دوسروں پر بھی پڑا۔ انجینئرز کو اب اپنے کام کے ساتھ ساتھ ساتھیوں کے اے آئی سے تیار کردہ کوڈ کو بھی دیکھنا اور درست کرنا پڑتا تھا۔ انہیں سلیک پیغامات میں وضاحت دینی پڑتی تھی اور ادھورے کام مکمل کروانے میں مدد کرنی پڑتی تھی۔ یوں ان کا بوجھ بڑھ گیا۔
دوسری تبدیلی کام اور آرام کے درمیان حد کا دھندلا ہونا تھا۔ اے آئی نے کام شروع کرنا آسان بنا دیا۔ اب خالی اسکرین سے ڈر نہیں لگتا تھا۔ لوگ لنچ کے دوران بھی ایک سوال ٹائپ کر دیتے تھے۔ میٹنگ کے دوران بھی کوئی نیا خیال آزما لیتے تھے۔ دفتر چھوڑنے سے پہلے ایک آخری ہدایت دے دیتے تھے تاکہ واپسی پر نتیجہ تیار ہو۔ یہ سب انہیں “زیادہ کام” محسوس نہیں ہوتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ وقفے کم ہوتے گئے اور ذہنی آرام گھٹنے لگا۔
کچھ ملازمین نے تسلیم کیا کہ وہ پہلے کی طرح تازہ دم محسوس نہیں کرتے۔ انہیں لگتا تھا کہ وہ ہر وقت کسی نہ کسی حد تک کام سے جڑے ہوئے ہیں۔ کام ایک واضح حد کے بجائے ایک مسلسل بہاؤ میں بدل گیا تھا۔
تیسری بڑی تبدیلی بیک وقت کئی کام کرنے کی عادت تھی۔ اے آئی کے ساتھ کام کرتے ہوئے لوگ ایک ہی وقت میں مختلف پروجیکٹس چلا رہے تھے۔ ایک طرف خود لکھ رہے تھے، دوسری طرف اے آئی کا متبادل جواب تیار ہو رہا تھا۔ کچھ ٹاسک پس منظر میں چل رہے تھے۔ یہ سب بظاہر تیزی دکھاتا تھا، لیکن حقیقت میں بار بار توجہ بدلنے کا عمل ذہنی دباؤ بڑھا رہا تھا۔
ہارورڈ کی اس تحقیق کے مطابق یہ سب ایک خودکار چکر میں بدل گیا۔ اے آئی نے رفتار بڑھائی، رفتار نے توقعات بڑھا دیں، توقعات نے انحصار بڑھایا، اور انحصار نے کام کی وسعت میں اضافہ کر دیا۔ ملازمین کو لگا کہ وہ زیادہ پیداواری ہو گئے ہیں، لیکن وہ کم مصروف نہیں ہوئے۔ بلکہ کئی افراد نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ مصروف اور دباؤ میں ہیں۔
محققین خبردار کرتے ہیں کہ ابتدا میں یہ سب کمپنیوں کو فائدہ مند لگ سکتا ہے۔ نتائج تیزی سے مل رہے ہوتے ہیں اور ملازمین خود زیادہ کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر طویل مدت میں یہ ماڈل خطرناک ہو سکتا ہے۔ آہستہ آہستہ کام کا بوجھ بڑھتا ہے، ذہنی تھکن پیدا ہوتی ہے، فیصلوں میں غلطی کا امکان بڑھتا ہے اور برن آؤٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
اسی لیے تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ اداروں کو ایک واضح “اے آئی پریکٹس” اپنانی چاہیے۔ یعنی ایسے اصول بنائے جائیں جو یہ طے کریں کہ اے آئی کب اور کیسے استعمال ہوگی، کب وقفہ لینا ضروری ہے، اور کام کی حد کہاں مقرر کی جائے گی۔ مثال کے طور پر بڑے فیصلوں سے پہلے ایک مختصر توقف رکھا جا سکتا ہے، نوٹیفکیشنز کو مخصوص اوقات میں دیکھا جا سکتا ہے، اور ٹیموں کے لیے توجہ کے محفوظ اوقات مقرر کیے جا سکتے ہیں۔
تحقیق یہ بھی کہتی ہے کہ انسانی رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ جب لوگ زیادہ وقت اے آئی کے ساتھ اکیلے کام کرتے ہیں تو انسانی مکالمہ کم ہو جاتا ہے۔ تخلیقی سوچ مختلف انسانی خیالات کے تبادلے سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ صرف ایک ڈیجیٹل نظام سے۔
ہارورڈ بزنس ریویو کی یہ رپورٹ ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: کیا ہم اے آئی کو کام کم کرنے کے لیے استعمال کریں گے، یا یہ ہمیں زیادہ اور تیز کام کرنے پر مجبور کر دے گی؟ بظاہر اے آئی ہمیں زیادہ قابل بناتی ہے، لیکن اگر حدود مقرر نہ کی جائیں تو یہ قابلیت دباؤ میں بدل سکتی ہے۔
آخرکار اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا استعمال ہے۔ اے آئی خود فیصلہ نہیں کرتی کہ کتنا کام کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ادارے اور افراد کرتے ہیں۔ اگر واضح اصول نہ ہوں تو “زیادہ کرنا” معمول بن جاتا ہے اور “کب رکنا ہے” یہ سوال پیچھے رہ جاتا ہے۔
ہارورڈ کی اس تحقیق کا خلاصہ یہی ہے کہ اے آئی کام کم نہیں کرتی، بلکہ اسے نئی شکل دیتی ہے۔ اب ذمہ داری اداروں پر ہے کہ وہ اس نئی رفتار کو سمجھیں اور ایسا نظام بنائیں جو کارکردگی کے ساتھ ساتھ انسانی صحت اور توازن کو بھی محفوظ رکھے۔
No Comments