Site icon Urdu Ai

نظام صحت کی الجھنیں اور چیٹ جی پی ٹی کی رہنمائی

نظام صحت کی الجھنیں اور چیٹ جی پی ٹی کی رہنمائی

نظام صحت کی الجھنیں اور چیٹ جی پی ٹی کی رہنمائی

نظام صحت کی الجھنیں اور چیٹ جی پی ٹی کی رہنمائی

یہ مضمون اوپن اے آئی کی جانب سے جنوری 2026 میں شائع ہونے والی رپورٹ “AI as a Healthcare Ally” پر مبنی ہے، جس میں امریکہ کے نظام صحت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاکھوں امریکی شہری، خاص طور پر مریض اور ان کے اہلخانہ، چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی ٹولز کو استعمال کر کے نہ صرف اپنے مسائل کا حل تلاش کر رہے ہیں بلکہ ان کے لیے پیچیدہ طبی نظام کو قابلِ فہم بھی بنا رہے ہیں۔ یہ بلاگ اسی رپورٹ پر مبنی تین حصوں پر مشتمل سیریز کا پہلا حصہ ہے، جس میں ہم یہ سمجھیں گے کہ عام افراد کس طرح چیٹ جی پی ٹی سے رہنمائی لے کر نظام صحت کو خود سمجھنے اور سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکہ میں صحت کے نظام کی پیچیدگیاں اور اخراجات عام شہری کے لیے روزمرہ کی جدوجہد بن چکے ہیں۔ انشورنس سے لے کر اسپتال کی فیس تک، ہر مرحلہ نہ صرف مہنگا بلکہ سمجھنے میں بھی مشکل ہوتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں چیٹ جی پی ٹی نے خود کو ایک مفید اور بروقت رہنما کے طور پر منوایا ہے، جو لاکھوں افراد کو پیچیدہ معلومات کو آسان زبان میں سمجھا کر ان کے لیے “نظام” کو قابل رسائی بنا رہا ہے۔

اوپن اے آئی کی رپورٹ کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی پر ہر ہفتے 1.6 سے 1.9 ملین میسجز صرف صحت انشورنس سے متعلق ہوتے ہیں۔ ان میں انشورنس پلانز کا موازنہ، قیمتوں کا اندازہ لگانا، بلنگ اور کلیمز کے مسائل، اہلیت اور رجسٹریشن جیسے معاملات شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، دنیا بھر سے آنے والے تمام چیٹ جی پی ٹی پیغامات میں سے 5 فیصد سے زیادہ صرف صحت کے موضوع پر مبنی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ پیچیدہ میڈیکل نظام کو سمجھنے کے لیے ایک آسان، فوری اور قابل بھروسہ ذریعہ تلاش کر رہے ہیں، اور اے آئی اس خلا کو مؤثر طریقے سے پُر کر رہا ہے۔

رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ 40 ملین سے زائد افراد روزانہ چیٹ جی پی ٹی سے صحت سے متعلق سوالات کرتے ہیں، اور ہر ہفتے ہر چار میں سے ایک صارف اس کا استعمال صحت کے مسئلے پر کرتا ہے۔ امریکہ میں گیلپ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ عوام نے صحت کے نظام کو C+ درجہ دیا ہے، جبکہ اخراجات کے حوالے سے D+۔ مزید یہ کہ 70 فیصد امریکی اس نظام کو “شدید مسائل کا شکار” یا “بحران کی حالت” میں سمجھتے ہیں۔ یہی وہ مایوسی ہے جس نے چیٹ جی پی ٹی کو ایک غیر رسمی مشیر کا کردار دیا ہے۔

ایک متاثر کن مثال ایرن سانتوسو کی ہے، جو سان فرانسسکو میں ٹیکس کنسلٹنٹ ہیں۔ انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے انڈونیشیا میں موجود اپنی والدہ کے اچانک نظر کی کمزوری کے مسئلے کی تشخیص میں مدد لی۔ ابتدائی علامات، پرانی میڈیکل ہسٹری اور موجودہ صورتحال فراہم کرنے پر چیٹ جی پی ٹی نے خبردار کیا کہ یہ ہائیپرٹینشن کا بحران یا فالج کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے ان کی والدہ نے بلڈ پریشر چیک کیا اور فوری طور پر اسپتال داخل ہوئیں۔ اسپتال میں داخلے کے دوران بھی چیٹ جی پی ٹی نے ان کی رہنمائی کی، جیسے گھر پر چیک اپ کا طریقہ، خوراک میں تبدیلی، اور احتیاطی تدابیر۔ ڈاکٹر نے بعد میں ان سفارشات کی تصدیق بھی کی۔ آج ان کی والدہ کی نظر میں 95 فیصد بہتری آ چکی ہے۔

اس کے علاوہ رچ کپلان، سیئٹل میں رہنے والے ایک شخص جنہیں ایک نایاب آٹو امیون بیماری ہے، نے بھی چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے اپنی انشورنس کمپنی کے خلاف ایک اپیل تیار کی۔ انشورنس نے ایک مہنگے علاج کی منظوری دینے سے انکار کر دیا تھا۔ رچ نے چیٹ جی پی ٹی سے متعلقہ میڈیکل ریسرچ، ٹرائلز، اور کیس اسٹڈیز کی مدد لی، اور ایک تفصیلی لٹریچر ریویو تیار کیا۔ اس بنیاد پر اپیل دائر کی گئی اور آخر کار ثالثی کے عمل میں کامیابی حاصل ہوئی۔ بعد میں بھی وہ چیٹ جی پی ٹی کو استعمال کرتے رہے جیسے کہ لیبارٹری رپورٹس کو سمجھنے، دواؤں کے مضر اثرات کو جانچنے، اور ڈاکٹرز کے لیے سوالات تیار کرنے میں۔

چیٹ جی پی ٹی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ اس کو سہل اور سمجھنے کے قابل زبان میں تبدیل کرتا ہے۔ جب ایک مریض یا اس کا اہلخانہ طبی اصطلاحات، انشورنس کے قوانین یا لیبارٹری نتائج سے گھبرا جاتا ہے، تو چیٹ جی پی ٹی اس میں رہنمائی کرتا ہے، ہر قدم پر۔ یوں صارف کو اپنے علاج میں زیادہ اعتماد، بہتر تیاری، اور فعال شرکت کا موقع ملتا ہے۔

چیٹ جی پی ٹی کے جوابات اگر مخصوص صارف کے سیاق و سباق (جیسے انشورنس پلان کی تفصیلات، کلینیکل ہدایات یا ہیلتھ پورٹل کے ڈیٹا) سے مربوط ہوں، تو ان کی درستگی اور افادیت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ اے آئی کا مؤثر استعمال صرف عمومی معلومات تک محدود نہیں بلکہ یہ ذاتی نوعیت کی رہنمائی میں بھی کارآمد ہو سکتا ہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی جہاں صحت کا نظام مضبوط سمجھا جاتا ہے، وہاں عوام بڑی تعداد میں ایک ڈیجیٹل رہنما پر انحصار کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ “نظام” جتنا بھی پیچیدہ یا مہنگا ہو، ایک قابل فہم، فوری اور سستا حل موجود ہے اور وہ ہے اے آئی کا درست استعمال۔ آج جب اسپتالوں کی فیسیں، بلنگ کے مسائل اور انشورنس کی پیچیدگیاں ایک عام فرد کے لیے عذاب بن چکی ہیں، تو چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز اس اندھیرے میں ایک روشنی بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ صرف ایک سافٹ ویئر نہیں بلکہ لوگوں کے لیے امید، سمجھ بوجھ اور خود اعتمادی کا ذریعہ ہے۔

اگلے حصے میں ہم یہ دیکھیں گے کہ دیہی اور محروم علاقوں میں چیٹ جی پی ٹی کس طرح اسپتالوں کی کمی، طویل فاصلوں اور مالی مسائل کے باوجود علاج کے متلاشی لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

Exit mobile version