Site icon Urdu Ai

 طبی ماہرین اے آئی کو کیسے اپنا رہے ہیں؟

 طبی ماہرین اے آئی کو کیسے اپنا رہے ہیں؟

 طبی ماہرین اے آئی کو کیسے اپنا رہے ہیں؟

 طبی ماہرین اے آئی کو کیسے اپنا رہے ہیں؟

نوٹ: یہ مضمون اوپن اے آئی کی جانب سے شائع کردہ صحت اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک تحقیقی رپورٹ کی بنیاد پر لکھا گیا ہے، اور یہ تین حصوں پر مشتمل سیریز کا تیسرا اور آخری حصہ ہے۔

صحت کا شعبہ ہمیشہ سے انسانی زندگی کے سب سے نازک پہلو سے جڑا رہا ہے۔ مگر اب یہ شعبہ خود ایک خاموش بحران کا شکار ہے نہ صرف مریضوں کے لیے، بلکہ اُن کے علاج کرنے والے ڈاکٹروں، نرسز، اور طبی ماہرین کے لیے بھی، جب ایک ڈاکٹر دن میں درجنوں مریض دیکھتا ہے، انتظامی کاغذی کارروائیاں کرتا ہے، مریض کی تاریخ لکھتا ہے، لیب رپورٹس پڑھتا ہے اور ہر مریض کے لیے صحیح فیصلہ کرنا چاہتا ہے، تو یہ بوجھ اکثر ناقابل برداشت بن جاتا ہے۔ اس صورتحال میں مصنوعی ذہانت، اور خاص طور پر چیٹ جی پی ٹی، طبی ماہرین کے لیے ایک ایسا “نیا دوست” بن کر ابھری ہے جو ان کے وقت، ذہن اور فیصلے کے عمل میں مؤثر مدد فراہم کر رہی ہے۔

اوپن اے آئی کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں 66 فیصد امریکی فزیشنز (ڈاکٹرز) نے کسی نہ کسی شکل میں مصنوعی ذہانت استعمال کیا۔ یہ شرح 2023 میں 38 فیصد تھی، یعنی صرف ایک سال میں تقریباً دوگنا اضافہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب مصنوعی ذہانت صرف مریضوں کے لیے معلومات کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ڈاکٹرز کے روزمرہ کے کلینیکل ورک فلو میں بھی شامل ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ نرسز کا 46 فیصد، ایڈمنسٹریٹرز کا 43 فیصد، فارماسسٹ کا 41 فیصد، اور میڈیکل لائبریرینز کا 53 فیصد اےآئی ٹولز کا باقاعدہ استعمال کر رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ طبی ماہرین مصنوعی ذہانت کو کیسے اور کیوں استعمال کر رہے ہیں؟ اس کا پہلا اور سب سے اہم پہلو ہے وقت کی بچت۔ ایک ڈاکٹر اوسطاً ہر مریض پر 15 سے 20 منٹ صرف کرتا ہے، جس میں سے تقریباً آدھا وقت کاغذی نوٹس یا ای ایم آر (الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ) بھرنے میں ضائع ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت جیسے کہ Oracle Clinical Assist اس وقت کو بچاتا ہے۔ یہ سسٹم مریض سے بات چیت سنتا ہے اور خودکار طور پر نوٹس تیار کرتا ہے۔ اس طرح ڈاکٹر کو صرف جائزہ لینا ہوتا ہے، لکھنا نہیں۔ اس کے ذریعے burnout یعنی کام کی تھکن اور ذہنی دباؤ میں واضح کمی آتی ہے۔

دوسرا بڑا فائدہ ہے ریسرچ اور کلینیکل گائیڈ لائنز تک فوری رسائی۔ اکثر ڈاکٹرز کو علاج کے لیے تازہ ترین تحقیق یا گائیڈ لائنز کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں Open  Evidence جیسے اےآئی ٹولز چند سیکنڈز میں عالمی سطح کی تحقیق اور علاج کے طریقے سامنے رکھتے ہیں۔ ان میں بیماری کی علامات، دواؤں کے متبادل، ممکنہ پیچیدگیاں اور دیگر اہم معلومات شامل ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر کو صرف سوال پوچھنا ہوتا ہے۔ باقی تمام معلومات ترتیب وار اےآئی فراہم کر دیتا ہے۔

رپورٹ میں رچ کپلان کی مثال بھی سامنے آتی ہے، جو سیئٹل سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک نایاب آٹو امیون بیماری کا شکار ہیں۔ اپنی صحت کے سفر میں انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کو صرف ایک بار نہیں بلکہ بارہا استعمال کیا۔ ایک موقع پر انہوں نے اپنی دوائیوں کی فہرست چیٹ جی پی ٹی پر دی، اور مصنوعی ذہانت نے فوراً خبردار کیا کہ ایک دوا گردے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ رچ نے فوراً اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیا اور دوا تبدیل کر دی۔ اسی طرح انہوں نے لیب رپورٹس کا مطلب سمجھنے، پیچیدہ میڈیکل اصطلاحات کو آسان بنانے، اور ڈاکٹر سے بات کرنے کے لیے سوالات تیار کرنے میں بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔

تیسرا اہم استعمال ہے کمیونیکیشن  یعنی مریض اور ڈاکٹر کے درمیان بات چیت کا مؤثر خلاصہ تیار کرنا۔ اکثر ڈاکٹر مریض سے لمبی بات چیت کرتے ہیں، مگر لکھنے کا وقت کم ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت یہاں پر گفتگو کا خلاصہ نکالتا ہے، صرف اہم نکات نوٹ کرتا ہے، اور فالو اپ کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ یہ صرف وقت کی بچت نہیں بلکہ معیار میں بہتری بھی ہے۔

چوتھی اہم جہت فارماسسٹ اور نرسز کا کردار ہے۔ دواؤں کی مطابقت، مضر اثرات، یا مریض کی مخصوص حالت کے مطابق دوا کا انتخاب اب مصنوعی ذہانت سے مدد لے کر کیا جا رہا ہے۔ نرسز مریض کی علامات کی ابتدائی تشخیص، طرزِ علاج کی تیاری، اور مریض کی تعلیم میں مصنوعی ذہانت کو بطور رہنما استعمال کر رہی ہیں۔

یاد رکھنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کبھی بھی ڈاکٹر کا نعم البدل نہیں بن سکتا۔ ایک انسانی معالج کا تجربہ، ہمدردی، مشاہدہ اور اخلاقی فیصلہ سازی وہ چیزیں ہیں جو کسی بھی مشین سے نہیں آ سکتیں۔ لیکن مصنوعی ذہانت ایک طاقتور معاون ضرور بن سکتا ہے۔ ایسا معاون جو نہ تھکتا ہے، نہ بھولتا ہے، اور ہر لمحے معلومات سے بھرپور مشورہ دیتا ہے۔

رپورٹ اس پہلو کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بہتر نتائج تب ہی ممکن ہیں جب وہ کلینیکل ڈیٹا، مریض کے سیاق و سباق اور ہیلتھ ریکارڈ سے منسلک ہو۔ جب چیٹ جی پی ٹی جیسے ماڈلز کسی ڈاکٹر کے EHR سسٹم کے ساتھ جڑ جائیں، تو جواب نہ صرف درست ہوتا ہے بلکہ سیاق و سباق کے مطابق ہوتا ہے۔ جس سے مریض کی حفاظت اور علاج کے نتائج دونوں میں بہتری آتی ہے۔

یہ واضح ہے کہ طبی ماہرین اب مصنوعی ذہانت کو محض ایک تجربہ نہیں بلکہ روزمرہ کے اوزار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس کا استعمال اب سیکھنے یا آزمائش کی حد تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ طبی کام کا مستقل حصہ بنتا جا رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں جب مصنوعی ذہانت مزید بہتر اور محفوظ ہو گا، تو یہ تعاون مزید گہرا اور مربوط ہو گا۔

یہ سیریز اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ صحت کے نظام کا ایک لازمی اور انسانی پہلو بنتی جا رہی ہے، جو مریض، معالج، اور نظام تینوں کے درمیان ایک نئی پل کا کام دے رہی ہے۔

Exit mobile version