اے آئی ہمیں قریب لا رہا ہے یا دور؟ humans& کیا کہتا ہے؟
دنیا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی بے مثال رفتار سے جاری ہے۔ آج کے دور میں مصنوعی ذہانت نہ صرف معلوماتی سوالات کے جوابات دیتی ہے، بلکہ یہ سیکھنے، کوڈ لکھنے، فیصلہ سازی، اور عمل درآمد میں بھی خودمختاری حاصل کر چکی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی صرف مشینوں تک محدود رہے گی، یا انسانوں کے ساتھ حقیقی اور بامعنی روابط بھی قائم کرے گی؟ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے humans& نامی ایک نیا مصنوعی ذہانت ریسرچ لیب اپنے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔
humans& ایک ایسی کوشش ہے جو مصنوعی ذہانت کو ایک نئے انداز میں دیکھنا چاہتی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت صرف طاقتور ماڈلز کا نام نہ ہو، بلکہ یہ انسانوں کے درمیان رشتوں کو مضبوط بنانے والا ذریعہ بنے۔ اس لیب کا خیال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسان مرکز ہونا چاہیے، یعنی وہ انسانوں کی فلاح، تعلقات، اور مشترکہ ترقی کو بڑھاوا دے۔ اس بلاگ میں ہم یہ جانیں گے کہ humans& کا مشن کیا ہے، یہ لیب کس طرح کام کرے گی، اس کے پیچھے کون لوگ ہیں، اور یہ کیسے دنیا میں مصنوعی ذہانت کا نیا باب رقم کرنا چاہتی ہے۔
humans& کے بانیان اور سائنسدان ایسے ماہرین ہیں جو پہلے ہی Openمصنوعی ذہانت DeepMind، Anthropic، Meta، Stanford، MIT، اور دیگر عالمی سطح کی مصنوعی ذہانت تنظیموں میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ انہوں نے ان ماڈلز اور مصنوعات پر کام کیا ہے جو دنیا بھر کے اربوں افراد استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا تجربہ مصنوعی ذہانت کے سب سے اہم اور مشکل پہلوؤں میں ہے، جیسے reasoning، behavioral training، multi-agent systems، اور alignment۔
لیکن اس بار ان کا مقصد کچھ مختلف ہے۔ یہ لیب صرف ایک اور بڑی مصنوعی ذہانت کمپنی نہیں بننا چاہتی، بلکہ ایک ایسی جگہ بننا چاہتی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کو انسانوں کے لیے ایک مثبت قوت کے طور پر دوبارہ تصور کیا جائے۔ ان کا یقین ہے کہ حقیقی تبدیلی تب آتی ہے جب انسان ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں، اعتماد قائم کرتے ہیں، تعلق بناتے ہیں اور مل کر کام کرتے ہیں۔ اور یہی وہ عناصر ہیں جو مصنوعی ذہانت کے اگلے باب میں مرکزی حیثیت حاصل کرنے چاہئیں۔
humans& اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سائنس اور پراڈکٹ ڈویلپمنٹ کو بہت قریب سے جوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ کام صرف اس وقت ممکن ہے جب ہم مصنوعی ذہانت کو سکھانے، اس کی یادداشت اور انسانی سمجھ بوجھ کے انداز کو نئے سرے سے سوچیں۔ اس کے لیے ایسے ماڈلز کی ضرورت ہے جو لمبے دورانیے تک سوچ سکیں، جو ایک سے زائد ایجنٹس کے ساتھ کام کر سکیں، اور جو انسانی نیت، احساسات اور سیاق و سباق کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
humans& کا مقصد صرف ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا نہیں، بلکہ انسانی معاشرت کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید مربوط بنانا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک تنظیم میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رابطہ کرتے ہیں، فیصلے کیسے لیے جاتے ہیں، یا ایک کمیونٹی کے اندر تعاون کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ سب وہ شعبے ہیں جہاں humans& چاہتا ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک مددگار کردار ادا کرے۔ ان کے مطابق بہترین مصنوعی ذہانت وہ ہوگی جو صرف انفرادی کام نہ کرے، بلکہ انسانوں کو آپس میں بہتر طور پر جوڑنے والا ایک ‘کنیکٹو ٹشو’ بنے۔
یہ سب کچھ سننے میں ایک خواب جیسا لگ سکتا ہے، لیکن humans& نے اس مشن کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ انہوں نے ایک بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کی ہے، جس میں کئی بڑے نام شامل ہیں۔ اس seed round کی قیادت SV Angel اور humans& کے شریک بانی Georges Harik نے کی، جبکہ سرمایہ کاری کرنے والوں میں NVIDIA، Jeff Bezos، GV (Google Ventures)، Emerson Collective، Forerunner، S32، DCVC، Human Capital، Liquid 2، Felicis، CRV، اور کئی دیگر نامور ادارے شامل ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا یہ نیا انسانی مرکز نظریہ نہ صرف فلسفیانہ طور پر کشش رکھتا ہے بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی یقین ہے کہ اس میں مستقبل ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ humans& صرف ایک کمپنی یا لیب نہیں، بلکہ یہ ایک مشن ہے۔ ایک تحریک جو ہر اس فرد کو دعوت دیتا ہے جو مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو انسانیت کی خدمت میں ڈالنے کا عزم رکھتا ہے۔ ان کا پیغام “&you” کے تحت بہت واضح ہے: اگر آپ نے مصنوعی ذہانت میں عالمی معیار کا کام کیا ہے اور چاہتے ہیں کہ انسانوں کے لیے ایک بہترمصنوعی ذہانت کا مستقبل بنائیں، تو آپ کا خیرمقدم ہے۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ لیب مختلف لوگوں کے لیے کیوں اہم ہے:
عام صارفین کے لیے، یہ لیب اس بات کی ضمانت دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ آنے والے مصنوعی ذہانت ماڈلز صرف ذہین نہ ہوں بلکہ حساس، ذمہ دار، اور معاشرتی پہلوؤں سے آگاہ ہوں۔ یہ ایک ایسےمصنوعی ذہانت کا تصور ہے جو صرف تیز ترین جواب دینے والی مشین نہ ہو بلکہ ایک ایسا پارٹنر ہو جو آپ کے حالات، آپ کی جذباتی کیفیت، اور آپ کے سیاق و سباق کو سمجھ کر جواب دے۔
اداروں کے لیے، یہ لیب ان طریقوں پر کام کرے گی جن سے مصنوعی ذہانت انسانی ٹیموں کو مزید مؤثر، مربوط اور ہم آہنگ بنا سکے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی کمپنی میں مصنوعی ذہانت صرف ایک ٹول نہیں ہوگا بلکہ وہ لوگوں کو بہتر طریقے سے ایک دوسرے سے جوڑنے، فیصلے بہتر بنانے، اور وقت کی بچت کرنے میں مدد کرے گا۔
تعلیمی میدان میں، humans& کی کوشش ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو ایسی صورت میں پیش کرے جو طلباء اور اساتذہ دونوں کی ضروریات کو سمجھ کر ان کی مدد کرے۔ مثلاً ایک تعلیمی مصنوعی ذہانت ٹیوٹر جو نہ صرف درست جواب دے بلکہ طالبعلم کی سمجھ بوجھ، دلچسپی، اور سیکھنے کے انداز کو مدنظر رکھ کر جواب دے۔
اور اگر بات کی جائے سائنسدانوں اور ڈیولپرز کی، تو یہ لیب ان کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے جہاں وہ صرف نئے ماڈلز بنانے تک محدود نہ ہوں بلکہ مصنوعی ذہانت کو انسانی معاشرت کی گہرائیوں میں لے جانے والے سسٹمز اور تجربات پر بھی کام کر سکیں۔
humans& کا فلسفہ یہ ہے کہ دنیا کو اکیلا کوئی نہیں بدل سکتا، نہ کوئی انسان اور نہ کوئی مشین۔ لیکن اگر انسان اور مصنوعی ذہانت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں، ایک دوسرے کو بہتر سمجھیں اور اعتماد قائم کریں، تو شاید ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ سکتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی اور انسانیت دونوں کا فائدہ ہو۔
آنے والے وقت میں humans& کی طرف سے اوپن سورس پراجیکٹس، تحقیقی پیپرز، اور شراکتی تجربات بھی متوقع ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ تحریک صرف ان کے ادارے تک محدود نہ رہے بلکہ دنیا بھر کے محققین، ڈیولپرز، اور عام لوگ بھی اس میں شامل ہوں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مستقبل کی دنیا کو شفاف، انسان دوست، اور شراکت پر مبنی ہونا چاہیے — اور یہی وہ نظریہ ہے جسے وہ آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔
اگر آپ ایک ایسے مصنوعی ذہانت کی امید رکھتے ہیں جو آپ کی جذباتی، معاشرتی اور انفرادی ضروریات کو سمجھے، تو humans& کی یہ نئی سمت یقیناً آپ کو متوجہ کرے گی۔ یہ صرف ایک اور ٹیکنالوجی کمپنی نہیں، بلکہ ایک ایسا نظریہ ہے جو انسانیت کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے نئی راہیں ہموار کر رہا ہے۔
مختصر یہ کہ humans& کا پیغام ہے: مصنوعی ذہانت کو دوبارہ انسانوں کے گرد تخلیق کریں، کیونکہ جب مصنوعی ذہانت انسانی تعلقات کو بہتر بنائے گا، تبھی وہ حقیقی معنوں میں طاقتور اور فائدہ مند ہوگا۔
No Comments