-
Mairaj Roonjha
- No Comments
- Artificial Intelligence, cybersecurity, Firefox, Mozilla, software security
کیا مصنوعی ذہانت اب انٹرنیٹ کو زیادہ محفوظ بنا رہا ہے؟
اگر آپ انٹرنیٹ براؤزر استعمال کرتے ہیں تو شاید آپ نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ اس کے اندر کتنی پیچیدہ سکیورٹی کام کر رہی ہوتی ہے۔ ہم روزانہ ویب سائٹس کھولتے ہیں، لنکس پر کلک کرتے ہیں، اور مختلف قسم کا مواد دیکھتے ہیں۔ اور اس دوران ہمارا براؤزر خاموشی سے ہمیں محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک پیش رفت نے اسی سکیورٹی کے نظام کو ایک نئے زاویے سے دکھایا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اب خود سافٹ ویئر کی کمزوریاں تلاش کرنے لگی ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں، ایک سادہ بات سمجھ لیتے ہیں کہ Mozilla اور Firefox کیا ہیں۔ Mozilla دراصل ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو انٹرنیٹ کو محفوظ، کھلا اور سب کے لیے قابلِ رسائی رکھنے کے لیے کام کرتی ہے۔ اسی تنظیم نے Firefox بنایا، جو ایک ویب براؤزر ہے۔ یعنی وہ سافٹ ویئر جس کے ذریعے آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ ویب سائٹس کھولنا، ویڈیوز دیکھنا یا معلومات تلاش کرنا۔ Firefox کو دنیا بھر میں لاکھوں لوگ استعمال کرتے ہیں، اور اسے خاص طور پر اس کی سکیورٹی اور پرائیویسی کے لیے جانا جاتا ہے۔
اب واپس آتے ہیں اس نئی پیش رفت کی طرف ایک جدید مصنوعی ذہانت ماڈل نے Mozilla کے ساتھ مل کر Firefox میں سکیورٹی خامیاں تلاش کرنے کا کام کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صرف دو ہفتوں کے اندر 22 کمزوریاں سامنے آئیں، جن میں سے 14 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب ایسے مسائل بھی ڈھونڈ سکتا ہے جنہیں پہلے تلاش کرنا انسانوں کے لیے کافی وقت طلب اور مشکل کام ہوتا تھا۔
یہ سب اس وقت شروع ہوا جب محققین نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ کیا مصنوعی ذہانت واقعی پیچیدہ سافٹ ویئر، جیسے کہ ایک براؤزر، میں نئی کمزوریاں تلاش کر سکتا ہے۔ Firefox کو اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ ایک بڑا، پیچیدہ اور پہلے سے کافی محفوظ سمجھا جانے والا سسٹم ہے۔ یعنی اگر یہاں مصنوعی ذہانت کامیاب ہو جائے تو یہ ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے۔
ابتدا میں مصنوعی ذہانت کو پرانی سکیورٹی خامیوں کو دوبارہ تلاش کرنے کا کام دیا گیا، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ کس حد تک درست نتائج دیتا ہے۔ جب اس میں کامیابی ملی تو اسے موجودہ ورژن میں نئی خامیاں تلاش کرنے کا کہا گیا۔ صرف بیس منٹ کے اندر اس نے ایک سنجیدہ نوعیت کی کمزوری کی نشاندہی کر دی، جسے بعد میں محققین نے خود بھی چیک کیا اور درست پایا۔
اس کے بعد مصنوعی ذہانت نے مزید درجنوں ممکنہ مسائل بھی سامنے لانے شروع کر دیے۔ ہزاروں فائلز کا جائزہ لیا گیا اور سو سے زائد رپورٹس تیار کی گئیں۔ ان میں سے کئی مسائل کو بعد میں درست بھی کر دیا گیا اور نئی اپڈیٹس کے ذریعے صارفین تک پہنچایا گیا۔
ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف خامیاں ڈھونڈنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ان کے ممکنہ حل بھی تجویز کیے۔ یعنی وہ ایک طرح سے سکیورٹی ریسرچر کی طرح کام کر رہا تھا۔ تاہم ہر چیز کو حتمی شکل دینے کے لیے انسانی ماہرین کی نگرانی اب بھی ضروری رہی، کیونکہ یہ فیصلہ کرنا کہ کون سا مسئلہ واقعی خطرناک ہے، ایک پیچیدہ کام ہوتا ہے۔
جب مصنوعی ذہانت کو یہ کہا گیا کہ وہ ان خامیوں کو استعمال کر کے حملہ کرنے کی کوشش کرے، تو وہ زیادہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال مصنوعی ذہانت دفاعی کاموں میں زیادہ مضبوط ہے، یعنی مسائل تلاش کرنے اور انہیں ٹھیک کرنے میں۔
یہ پوری پیش رفت ہمیں ایک اہم بات بتاتی ہے: سافٹ ویئر سکیورٹی کا مستقبل تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب صرف انسان ہی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت بھی اس میں شامل ہو چکا ہے۔ اور اگر یہ دونوں مل کر کام کریں تو شاید ہم ایک زیادہ محفوظ انٹرنیٹ کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
آخر میں بات وہی آتی ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے، اس کا درست استعمال ہی سب سے اہم ہے۔ فی الحال مصنوعی ذہانت ایک طاقتور مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ اور یہی وہ سمت ہے جو آنے والے وقت میں سکیورٹی کو مزید بہتر بنا سکتی ہے۔


No Comments