کیا اوپن اے آئی کے کوڈ ریڈ کی اصل وجہ جیمینی ہے یا مالی بحران؟
جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے ماہرین گوگل کے نئے اے آئی ماڈل ’جیمینی 3‘ کی کارکردگی اور چیٹ جی پی ٹی سے اس کے موازنہ پر گفتگو کر رہے ہیں، ایسے میں سی این بی سی کے سینئر تجزیہ کار جم کریمر نے ایک بالکل مختلف اور اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق، اوپن اے آئی کے اندرونی طور پر جو ’کوڈ ریڈ‘ یعنی خطرے کی گھنٹی بجائی گئی ہے، وہ صرف گوگل کے اے آئی ماڈل کی کامیابی سے متعلق نہیں بلکہ اصل خطرہ ادارے کی بگڑتی ہوئی مالی صورتحال ہے۔ جم کریمر کا کہنا ہے کہ اگر اوپن اے آئی کی اندرونی کہانی کو نیٹ فلکس پر ایک سیریز کے طور پر دکھایا جائے، تو یہ سیریز سنسنی، مزاح اور غیر متوقع موڑ سے بھرپور ہوگی، جسے دیکھنے سے وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار بھی خود کو نہ روک پائیں گے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے کمپنی کے اندرونی عملے کو خبردار کیا ہے کہ گوگل کی جیمینی 3 صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور یہ چیٹ جی پی ٹی کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتی ہے۔ تاہم جم کریمر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ مقابلہ درحقیقت صرف اس بات کا نہیں ہے کہ کس ماڈل کے جوابات زیادہ درست ہیں، بلکہ اصل مقابلہ اس بات کا ہے کہ صارفین کن پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں، اور کون سی ٹیکنالوجی زیادہ آسانی سے دستیاب اور قابل اعتماد ہے۔ ان کے مطابق، جیمینی 3 کو تلاش کرنا اور استعمال کرنا چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جو صارفین کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔
اگر نومبر کے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گوگل کی جیمینی نے چیٹ جی پی ٹی کو صارفین کی تعداد میں پیچھے چھوڑ دیا ہے، تو یہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بنے گا۔ اس لیے کہ موجودہ اے آئی مارکیٹ میں جو کمپنی اول نمبر پر ہے وہی بڑی سرمایہ کاری حاصل کر سکتی ہے، اور جو پیچھے رہ جاتی ہے، اس کے لیے باقی کچھ بھی نہیں بچتا۔ تاہم جم کریمر کے مطابق یہ سب کچھ صرف مسابقتی دباو تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک اور گہرا مسئلہ ہے، اور وہ ہے اوپن اے آئی کی محدود مالی رسائی۔
کریمر کے مطابق اوپن اے آئی کے حریف جیسے گوگل (الفابیٹ)، ایمیزون، میٹا اور مائیکروسافٹ اربوں ڈالرز کے قرضے نہایت کم شرح سود پر حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ اوپن اے آئی پہلے ہی بڑے قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور اس کے لیے مزید سرمایہ اکٹھا کرنا نہایت مشکل ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کریمر نے موجودہ صورتحال کو ’کیپیٹل وار‘ یعنی سرمائے کی جنگ قرار دیا ہے۔ ان کے الفاظ میں: ’’اوپن اے آئی کے تمام حریفوں کو بہتر کریڈٹ رسائی حاصل ہے۔‘‘ یہ ایک سخت حقیقت ہے جس کا ادارہ سامنا کر رہا ہے۔
مزید یہ کہ اوپن اے آئی نے مالی دباؤ کی وجہ سے کئی بڑے منصوبوں پر کام روک دیا ہے۔ ان منصوبوں میں اشتہاری ماڈلز، صارفین کے لیے اے آئی اسسٹنٹس، اور ایک پرسنل اسسٹنٹ جسے ’پلس‘ کا نام دیا گیا تھا، شامل ہیں۔ ان شعبوں میں اوپن اے آئی کی غیر موجودگی اس کے حریفوں کے لیے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر میٹا کی اشتہاری آمدن پر جو دباؤ تھا، وہ کم ہو سکتا ہے۔ ایمیزون کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی اسسٹنٹ ’الیکسا‘ کو نئی حکمت عملی کے ساتھ دوبارہ مارکیٹ کرے۔ اسی طرح سیلز فورس اپنی اے آئی ٹولز کے لیے جگہ پیدا کر سکتی ہے۔
کریمر کے مطابق، اگر اوپن اے آئی کو اپنی مالی حالت بہتر بنانی ہے تو اسے فوری طور پر دو ممکنہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ پہلا یہ کہ وہ نیویارک ٹائمز کے ساتھ جاری مقدمہ جلد از جلد طے کرے تاکہ قانونی اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ یہ مقدمہ اس بنا پر دائر کیا گیا ہے کہ اوپن اے آئی نے نیویارک ٹائمز کی خبروں کو بغیر اجازت اپنے ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے استعمال کیا۔ دوسرا بڑا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ اوپن اے آئی، مائیکروسافٹ سے مزید سرمایہ کاری حاصل کرے۔ مائیکروسافٹ پہلے ہی کمپنی کا بڑا سرمایہ کار ہے اور اگر وہ اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کرتا ہے تو یہ اوپن اے آئی کے مالی استحکام کے لیے مثبت اشارہ ہوگا۔
جم کریمر نے اپنی گفتگو کا اختتام ایک واضح اور دو ٹوک پیغام کے ساتھ کیا۔ ان کے مطابق، ’’یا تو آپ مصنوعی ذہانت پر یقین رکھتے ہیں، یا پھر اس سے مکمل طور پر دور ہو جائیں۔‘‘ یہ بیان نہ صرف اے آئی مارکیٹ میں یقین اور عزم کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جس ادارے کو کامیاب ہونا ہے، اسے مالی، قانونی اور تکنیکی تمام محاذوں پر مکمل تیاری کے ساتھ موجود رہنا ہو گا۔
جم کریمر کی اس رائے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آج جب چیٹ بوٹس، اے آئی ٹولز اور جنریٹیو ماڈلز دنیا بھر کے اداروں کی ترجیح بن چکے ہیں، تو اصل کامیابی صرف بہترین ماڈل بنانے میں نہیں بلکہ اس کے لیے درکار سرمائے کی دستیابی اور موثر تقسیم میں بھی ہے۔ ایسے میں اگر اوپن اے آئی کے اندرونی ذرائع واقعی ’کوڈ ریڈ‘ کی بات کر رہے ہیں، تو وہ صرف مصنوعی ذہانت کے خطرات کی نہیں بلکہ مالی بنیادوں پر ممکنہ شکست کی گھنٹی بھی ہے۔
No Comments