اوپن اے آئی کا 110 ارب ڈالر کا منصوبہ: دنیا بھر میں اے آئی کو عام بنانے کی کوشش
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی تیزی سے ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ چند سال پہلے تک یہ ٹیکنالوجی زیادہ تر سائنسدانوں اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی لیبارٹریوں تک محدود سمجھی جاتی تھی، مگر اب صورتحال مختلف ہے۔ آج طلبہ، فری لانسرز، کاروباری افراد اور بڑی کمپنیاں سب کسی نہ کسی شکل میں اے آئی ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ اسی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور مانگ کو دیکھتے ہوئے اوپن اے آئی نے ایک بڑے سرمایہ کاری منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد اے آئی کو مزید لوگوں اور کاروباروں تک پہنچانا ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق کمپنی نے حال ہی میں تقریباً 110 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کی ہے، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً 730 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس سرمایہ کاری میں جاپان کی سرمایہ کاری کمپنی سوفٹ بینک، گرافکس چپس بنانے والی معروف کمپنی این ویڈیا اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون شامل ہیں۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری کا مقصد صرف مالی طاقت بڑھانا نہیں بلکہ اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے تاکہ دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ لوگ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
کمپنی کے مطابق آج اے آئی کو بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل بنانے کے لیے تین بنیادی چیزیں ضروری ہیں۔ پہلی چیز ہے طاقتور کمپیوٹنگ نظام، کیونکہ جدید اے آئی ماڈلز کو چلانے اور تربیت دینے کے لیے بہت زیادہ کمپیوٹر وسائل درکار ہوتے ہیں۔ دوسری چیز ہے ٹیکنالوجی کی وسیع رسائی، یعنی یہ ٹولز صرف چند کمپنیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔ جبکہ تیسری چیز سرمایہ کاری ہے، کیونکہ اس سطح کی ٹیکنالوجی تیار کرنے اور اسے عالمی سطح پر چلانے کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ نئی سرمایہ کاری ان تینوں پہلوؤں کو مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔
اوپن اے آئی کے مطابق اس وقت اے آئی کی مانگ بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقبول اے آئی پلیٹ فارم چیٹ جی پی ٹی اب دنیا بھر میں کروڑوں افراد استعمال کر رہے ہیں۔ کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار فعال صارفین کی تعداد تقریباً 900 ملین یعنی نوے کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ پچاس ملین سے زیادہ صارفین اس کے سبسکرپشن ورژن کے ذریعے باقاعدگی سے اس سروس کو استعمال کر رہے ہیں۔
اوپن اے آئی کے مطابق لوگ چیٹ جی پی ٹی کو مختلف طریقوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ کچھ افراد اسے پڑھائی اور نئی چیزیں سیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، کچھ لوگ لکھنے یا تحقیق میں اس سے مدد لیتے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ منصوبہ بندی، آئیڈیاز بنانے اور پروگرامنگ جیسے کاموں کے لیے بھی اسے استعمال کر رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے صارفین کی تعداد بڑھ رہی ہے ویسے ویسے اس سسٹم کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر اب جواب پہلے سے زیادہ تیز آتے ہیں، معلومات زیادہ درست ہوتی ہیں اور سروس زیادہ قابل اعتماد بنتی جا رہی ہے۔
صرف عام صارفین ہی نہیں بلکہ کاروباری دنیا میں بھی اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس وقت نو ملین سے زیادہ کاروباری صارفین اپنے روزمرہ کاموں کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہے ہیں۔ اس میں چھوٹی سٹارٹ اپ کمپنیاں بھی شامل ہیں اور بڑی عالمی کمپنیاں بھی۔ بہت سی کمپنیاں اپنے سافٹ ویئر اور خدمات میں اے آئی کو شامل کر رہی ہیں تاکہ وہ اپنے صارفین کو بہتر اور تیز خدمات فراہم کر سکیں۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اکثر کمپنیوں میں اے آئی کا استعمال ابتدا میں ایک چھوٹے تجربے کے طور پر شروع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی ٹیم کا ایک فرد اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اے آئی استعمال کرنا شروع کرتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہی ٹیکنالوجی پورے ادارے میں پھیل جاتی ہے اور انجینئرنگ، کسٹمر سپورٹ، سیلز، فنانس اور آپریشنز جیسے شعبوں میں بھی استعمال ہونے لگتی ہے۔ کمپنی کا مقصد ایسے اے آئی سسٹمز تیار کرنا ہے جو ٹیموں کے لیے ایک طرح کے ڈیجیٹل ساتھی یا اے آئی کوورکر کا کردار ادا کر سکیں۔
اوپن اے آئی نے اپنی مصنوعات میں ہونے والی ترقی کی ایک مثال کوڈیکس نامی ٹول کو قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ٹول پروگرامنگ میں مدد فراہم کرتا ہے اور سافٹ ویئر بنانے کے عمل کو زیادہ آسان بناتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز سے کوڈیکس استعمال کرنے والے ہفتہ وار صارفین کی تعداد تین گنا سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 16 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اب زیادہ لوگ سافٹ ویئر تیار کر رہے ہیں اور ایسے کام خودکار بنا رہے ہیں جن کے لیے پہلے ایک مکمل انجینئرنگ ٹیم کی ضرورت ہوتی تھی۔
اوپن اے آئی کی نئی سرمایہ کاری کا ایک اہم حصہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری سے بھی جڑا ہوا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایمیزون کے ساتھ ایک طویل مدتی شراکت داری قائم کی ہے جس کا مقصد اے آئی ٹیکنالوجی کو دنیا بھر کے کاروباروں، سٹارٹ اپس اور عام صارفین تک تیزی سے پہنچانا ہے۔ اسی طرح اوپن اے آئی نے این ویڈیا کے ساتھ اپنی شراکت داری کو بھی مزید مضبوط کیا ہے تاکہ طاقتور کمپیوٹر چپس اور کمپیوٹنگ وسائل کے ذریعے نئے اے آئی ماڈلز کی تربیت اور استعمال کو آسان بنایا جا سکے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ دنیا اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں اے آئی صرف تحقیق کا موضوع نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق مستقبل میں اس میدان میں قیادت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کون سی کمپنیاں بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے انفراسٹرکچر تیار کر سکتی ہیں اور اس ٹیکنالوجی کو ایسے عملی مصنوعات میں تبدیل کر سکتی ہیں جن پر لوگ اعتماد کریں۔
کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری کے بعد اوپن اے آئی فاؤنڈیشن کی مالی حیثیت بھی مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نئی سرمایہ کاری کے بعد فاؤنڈیشن کے حصص کی مالیت 180 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس سے صحت کے شعبے میں تحقیق، سائنسی ترقی اور اے آئی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے جیسے منصوبوں کے لیے مزید وسائل فراہم کیے جا سکیں گے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی صرف ایک کمپنی یا ایک ملک کی کوشش سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں، حکومتوں اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا بنیادی مقصد ایسی اے آئی تیار کرنا ہے جو دنیا بھر کے لوگوں، کاروباروں اور معاشروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکے۔
No Comments