
پشاور زلمی کی اے آئی سے بنی ویڈیو
پاکستان سپر لیگ کی مشہور ٹیم پشاور زلمی نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو لانچ کی ہے۔ جس میں وہ اپنی نئی یونیفارم شو کیس کر رہے ہیں۔ پہلے اس ویڈیو کلپ کو دیکھیں۔ ہری پور کے ایک چھوٹے سے ضلعے کی یہ ہنر مند خواتین، جنہیں خود مختار بنایا یو فون اور پی ٹی سی ایل کے بااختیار پروگرام نے، اس سیزن کی پشاور زلمی کِٹ انہی بااختیار خواتین نے ڈیزائن کی ہے۔
پہلے ایک ویڈیو بنانے میں لاکھوں روپے خرچ ہوتے تھے
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ساری کی ساری ویڈیو اے آئی جنیریٹڈ ہے۔ اب یہ کیسے بنتی ہے، اس کے بارے میں ہم بات کریں گے۔ اور آپ کو بھی سکھائیں گے کہ آپ یہ ویڈیو کس طرح بنا سکتے ہیں۔ ویسے اگر آپ اردو اے آئی کو فالو کرتے ہیں، تو اب تک آپ کو پتا ہونا چاہیے تھا کہ یہ ویڈیوز کس طرح بنائی جاتی ہیں۔
لیکن تھوڑی دیر کے لیے غور کریں:
آج سے پہلے یہی سیم ٹو سیم ویڈیو بنانے کے لیے پشاور زلمی اور یو فون کو کروڑوں نہیں تو کم از کم لاکھوں روپے ضرور خرچ کرنے پڑتے۔ مثال کے طور پر: پلیئرز کو ایک جگہ پر بلانے کے لیے فلائٹس، ان کی ہوٹل بکنگ، کھانا پینا، گاڑیاں، ٹریول الاؤنس، ڈیلی سروس الاؤنس، اور بہت سارے دوسرے خرچے۔ پھر میڈیا یا مارکیٹنگ کی ٹیم، کیمرہ مین، ویڈیو ایڈیٹرز، ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، فوٹوگرافرز، میک اپ آرٹسٹ، سیکیورٹی، وینیو، لوکیشن، سیٹ اپ، اور بھی بہت کچھ۔
لیکن اب؟ صرف تین چار لوگ، اور ویڈیو تیار!
لیکن اب اسی کام کو اسی کوالٹی میں کرنے کے لیے صرف دو یا تین بندے چاہیے تھے، جو اے آئی کو سمجھتے ہوں اور اس سے کام لے سکیں۔ یہاں کیا کیا گیا ہے؟ آدھے سے زیادہ کام تو فری میں کروایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر: جو بھی یہ امیجز نظر آ رہی ہیں، ان کو “امیج ٹو ویڈیو” میں کنورٹ کیا گیا ہے۔ ایڈیٹر نے ان کو ایڈٹ کیا ہے، میوزک لگایا ہے، اور وائس کے بارے میں میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ وہ حقیقی ہے یا اے آئی سے بنی ہے، لیکن وہ بھی ہو سکتی ہے۔
سوال یہ ہے: جب اے آئی سب کچھ کر سکتی ہے تو انسان کیا کرے؟
یہ سارا کام کرنے کے لیے تین سے چار لوگ شامل ہوئے، جب کہ پہلے کم از کم 30-40 افراد کی ٹیم لگتی تھی۔ تو سوچیں: اب اے آئی وہی کام بہت کم وقت، کم خرچ، اور زیادہ سہولت سے کر رہی ہے۔ تو پھر وہ لوگ کہاں جائیں گے؟ دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے، بہت ریپیڈلی، بہت تیز رفتاری سے۔ اگر آپ نہیں سمجھیں گے، تو ایک وقت آئے گا جب آپ بالکل بلینک ہو جائیں گے کہ “بھائی صاحب! ہو کیا رہا ہے؟”
میں ابھی بھی آپ سے درخواست کرتا ہوں، بہت محبت سے، بہت پیار سے کہ اے آئی کو سمجھیں! یہ آپ کی زندگی پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے۔
چاہے آپ ڈرائیور ہوں، شیف ہوں، کک ہوں۔ کیمرہ مین ہوں سوچیں ذرا: اگر بابر اعظم، صائم ایوب اور دوسرے کھلاڑی آپ کے ہوٹل میں آتے، تو آپ ان کے لیے کھانا بناتے، ان کی گاڑی چلاتے۔ لیکن وہ آئے ہی نہیں! اے آئی نے وہ سارا کام ویسے ہی دکھا دیا۔
تو اے آئی ہر شخص کی زندگی پر اثر انداز ہوگی ڈائریکٹلی اور ان ڈائریکٹلی۔
اگر آپ بھی ایسی ویڈیو بنانا چاہتے ہیں تو؟
اب میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ یہ امیجز کیسے بنائی گئی ہیں۔ اور آپ کے ساتھ سیم پرامپٹس یہاں کمنٹس میں شیئر کرتا ہوں۔ آپ ان پرامپٹس کو تھوڑا سا تبدیل کر کے، اپنے نام سے ملتی جلتی تصاویر بنا سکتے ہیں۔ اور اگر آپ کے پاس “امیج ٹو ویڈیو” کنورٹر ہے، جیسے کہ Sora یا Runway ML، تو آپ سیم ویڈیو بھی بنا سکتے ہیں۔
یہ کیسے بنائی گئی، اس کو میں آپ کو بریک ڈاؤن کرتا ہوں۔
پہلی امیج
اگر آپ نے اردو اے آئی کی ماسٹر کلاس اٹینڈ کی ہے۔ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ کیسے استعمال ہوتا ہے۔ میں نے جو پہلی امیج دیکھی، اس کا پرامپٹ لیا اور ImageFX کو دیا۔ تو وہ پہلی امیج بن گئی۔
اس کو آپ اپنے نام سے بھی بدل سکتے ہیں۔
دوسری امیج
اس کے بعد جو دوسری امیج ہے خاتون زلمی کی کٹ سی رہی ہیں۔ اور لوگو بھی نظر آ رہا ہے۔ یہ انہوں نے پوسٹ ایڈیٹنگ میں ایڈجسٹ کیا ہے۔
تیسری امیج
میں نے جیسا ہے ویسا ہی بنایا، اور وہ آپ کو یو فون کا لوگو بھی دکھا رہی ہے۔ اگر میں اس کو تھوڑا مزید ایڈجسٹ کروں تو میں آسانی سے دکھا سکتا ہوں کہ لوگو کس رنگ میں ہے۔ میں نے یہاں پر اردو اے آئی کا لوگو لگا دیا،
اب یہ گاؤں کی تصویر دیکھیں۔
یہ انہوں نے ڈاؤنلوڈ کی، اور جب ایڈیٹر یا ویڈیو ماڈل میں “زوم آؤٹ” یا “زوم اِن” کہا تو وہی سین بنا۔ اب وہ تصویر دکھاتا ہوں جو flood lights والی تھی جس میں پلیئر نظر آ رہا ہے، چلتے ہوئے، لائٹ کے ساتھ۔ جیسے بابر اعظم کی تصویر۔ یہ بھی ویسے ہی اے آئی سے بنی ہے۔
کیا آپ بھی اپنی اے آئی ویڈیو بنائیں گے؟
تو دوستو، یہ تمام پرامپٹس نیچے شیئر کر رہا ہوں۔ تاکہ آپ بھی ان کو استعمال کر کے اپنے نام اور تصویر کے ساتھ ایسی امیجز بنا سکیں۔
اگر آپ تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں کہ یہ پروسیس کیسے ہوا، تو اردو اے آئی کی مارکٹنگ کلاسز دیکھیں۔ اپنا بہت خیال رکھیں، اور آسان الفاظ میں اے آئی کو سمجھنے کے لیے اردو اے آئی کو فالو کریں!
No Comments